30639794-b171-4cf7-ae40-b3260d4d497b

کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں اور گوداموں میں ذخیرہ کی گئی گندم کے خراب ہونے کی اطلاعات نے حکومتی ذخیرہ اندوزی، گندم کی خریداری اور ترسیل کے نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں روز بروز اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے اور اطلاعات کے مطابق آٹے کا فی من نرخ 6 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ موجودہ صورت حال برقرار رہی اور گندم کی فراہمی کا بحران فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران آٹے کی فی من قیمت 10 ہزار روپے تک جاپہنچے گی، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

فلور ملز مالکان نے سرکاری گوداموں میں موجود گندم کے معیار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری گندم اٹھانے سے انکار کردیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گوداموں میں ذخیرہ کی گئی گندم کا بڑا حصہ خراب ہوچکا ہے اور اسے آٹے کی تیاری کے لیے استعمال کرنا معیار اور انسانی صحت کے حوالے سے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو یہ صورت حال محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ قومی غذائی وسائل کے ضیاع اور عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ ڈالنے کا سنگین معاملہ بھی ہے۔

ایک طرف سرکاری گوداموں میں موجود گندم کے خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں تو دوسری جانب مارکیٹ میں آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام آٹا خریدنے کے لیے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرنے پر مجبور ہیں تو پھر گندم کے ذخائر کی مناسب دیکھ بھال، بروقت فراہمی اور شفاف نگرانی کو یقینی کیوں نہیں بنایا جارہا؟ اگر گندم کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جاتے اور تقسیم کا نظام مؤثر ہوتا تو ممکنہ طور پر اس نوعیت کی صورت حال سے بچا جاسکتا تھا۔

اس بحران کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات صرف موجودہ مہنگائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والے دنوں میں گندم کی نئی فصل کی آمد کے وقت بھی ایک سنگین معاشی تضاد سامنے آسکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ آج جس گندم اور آٹے کی قلت کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، نئی فصل مارکیٹ میں آنے کے بعد اسی گندم کی قیمت کسانوں کے لیے غیر منافع بخش سطح تک گر سکتی ہے۔ موجودہ صورت حال سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ نئی فصل کی آمد پر کسانوں کو فی من گندم کے 5 ہزار روپے بھی نہ مل سکیں، جبکہ اس وقت آٹے کا فی من نرخ 6 ہزار روپے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

یہ صورت حال زرعی معیشت کے بنیادی ڈھانچے پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ گندم اگانے کے لیے کسان بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، پانی، بجلی اور مزدوری پر بھاری اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ اگر فصل تیار ہونے کے بعد انہیں مناسب قیمت نہ ملے تو ان کی محنت اور سرمایہ کاری کا معاوضہ پورا ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف ذخیرہ اندوزی، فراہمی اور تقسیم کے نظام میں خرابیوں کے باعث صارفین کو مہنگا آٹا خریدنا پڑے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک ہی زرعی پیداوار کے معاملے میں کسان اور صارف دونوں نقصان اٹھا رہے ہیں، جبکہ نظام کی خامیوں کا بوجھ عام آدمی کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت سندھ اور متعلقہ وفاقی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس صورت حال کا فوری نوٹس لیں اور سرکاری گوداموں میں موجود گندم کے ذخائر کا غیر جانب دارانہ معائنہ کرائیں۔ ماہرین کی نگرانی میں گندم کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کرائے جائیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ کتنی گندم انسانی استعمال کے لیے موزوں ہے اور کتنی خراب ہوچکی ہے۔ اگر گندم کی ناقص دیکھ بھال، انتظامی غفلت یا کسی دوسری بے ضابطگی کے باعث قومی وسائل کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے