کراچی کا کچرا 1.2 ارب روپے کی معیشت، مگر صلاحیت نظرانداز

0

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں روزانہ ہزاروں ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، لیکن اسے قابلِ استعمال وسائل اور آمدنی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، شہر میں کچرے کی غیر رسمی ری سائیکلنگ کی معیشت کا تخمینہ سالانہ 1.2 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ کچرا چننے اور قابلِ استعمال مواد جمع کرنے والے کارکنان کو اب بھی باقاعدہ نظام میں مناسب جگہ حاصل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی میں روزانہ 14 ہزار 800 ٹن سے زیادہ کچرا پیدا ہوتا ہے، جس میں تقریباً 42 فیصد نامیاتی فضلہ شامل ہے۔ کچرے کو مناسب طریقے سے جمع نہ کرنے اور کھلے مقامات پر جلانے سے نکاسیٔ آب، فضائی آلودگی اور شہری صحت کے مسائل بڑھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی ری سائیکلنگ، نامیاتی فضلے سے کھاد کی تیاری اور بائیو گیس کی پیداوار کے ذریعے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بعض مقامی منصوبے بھی اس حوالے سے کام کر رہے ہیں، تاہم مؤثر نگرانی، مستقل سرمایہ کاری اور مربوط انتظامی نظام کی ضرورت برقرار ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ کچرا جمع کرنے والے غیر رسمی کارکنان کو رجسٹر کرکے انہیں حفاظتی سامان، چھانٹی کی سہولیات اور منصفانہ معاہدے فراہم کیے جائیں۔ کچرے کے انتظام میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ کارکردگی کو صرف منصوبوں کے اعلانات کے بجائے ری سائیکلنگ، آلودگی میں کمی اور صفائی کے عملی نتائج سے جانچا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے