نئے صوبوں کی بات چیت پر فل اسٹاپ لگایا جائے، بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبوں کے قیام اور 18ویں آئینی ترمیم کو واپس لینے سے متعلق بحث ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے اس معاملے پر اپنا مؤقف کئی مرتبہ واضح کر چکے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات منگل کو سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے لیاری میں اسپنسر آئی اسپتال کی بحالی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔
نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور 18ویں ترمیم میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ اسمبلی بھی کم از کم سات سے آٹھ مرتبہ اپنا مؤقف واضح کر چکی ہے، اس لیے اب اس بحث کو ختم کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اور کراچی کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔
28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت نے ان سے کوئی بات نہیں کی۔
بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ کراچی کی ترقی پر خصوصی توجہ دے، کیونکہ یہ ملک کا معاشی مرکز ہے اور اس کی ضروریات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی بحث جاری ہے۔ سندھ اسمبلی ستمبر میں صوبے کی تقسیم یا اس کی حدود میں تبدیلی کے خلاف قرارداد بھی منظور کر چکی ہے