جمہوری آمریت سے آئینی آمریت تک کا سفر

0
492479134_4058788021062186_4682547591521896823_n


پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ بیسویں صدی کے 53 برسوں اور اکیسویں صدی کے ابتدائی 26 برسوں کے دوران سول حکومتوں نے نو مرتبہ گورنر راج نافذ کرکے کیا نتائج حاصل کیے؟ یہ غیر معمولی انتظام کتنے عرصے تک برقرار رہا، اس کے پیچھے کون سی سیاسی قوتیں سرگرم تھیں، کن وزرائے اعظم، سیاسی جماعتوں اور وزرائے اعلیٰ کو اقتدار سے الگ کیا گیا اور ان کی جگہ کن گورنروں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں؟ تاریخی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ صدی میں چھ مرتبہ اور موجودہ صدی کے ابتدائی 26 برسوں میں تین مرتبہ، مجموعی طور پر نو بار گورنر راج نافذ کیا گیا۔
پاکستان میں صوبائی سطح پر گورنر راج اور وفاقی و صوبائی سطح پر ہنگامی حالات کے نفاذ کے متعدد واقعات پیش آئے۔ ان اقدامات کے لیے آئین کے مختلف آرٹیکلز، بالخصوص آرٹیکل 232 اور 234، کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔ صوبائی یا وفاقی حکومتوں کے بحران، انتظامی ناکامی، بدانتظامی اور سلامتی کے خدشات کو ان غیر معمولی اقدامات کی بنیاد بنایا گیا۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ ان اختیارات کے استعمال سے جمہوری اداروں کو کس قدر تقویت ملی اور وفاقی نظام میں صوبوں کی خودمختاری کس حد تک محفوظ رہ سکی۔
پاکستان 1947ء میں قائم ہوا، لیکن اس کا پہلا باقاعدہ آئین نو برس بعد 1956ء میں نافذ کیا گیا۔ اس دوران ریاستی امور چلانے کے لیے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کو عبوری آئینی ڈھانچے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ قانون اگست 1947ء سے 23 مارچ 1956ء تک نافذ رہا اور اسی کے تحت ملک کے ابتدائی انتظامی و سیاسی فیصلے کیے جاتے رہے۔
قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں بعض صوبوں میں برطانوی افسران کو گورنر مقرر کیا گیا۔ ان میں سر فرانسس موڈی 15 اگست 1947ء سے 2 اگست 1949ء تک مغربی پنجاب کے گورنر رہے۔ سر فریڈرک چارلمرز بورن 15 اگست 1947ء سے مارچ 1950ء تک مشرقی بنگال کے گورنر کے منصب پر فائز رہے۔ سر جارج کننگھم 15 اگست 1947ء سے 9 اپریل 1948ء تک صوبہ سرحد کے گورنر رہے، جبکہ سر ایمبروز ڈنڈاس نے 19 اپریل 1948ء سے 16 جولائی 1949ء تک یہ ذمہ داری نبھائی۔ جارج بیکسنڈیل کانسٹنٹائن 2 مئی 1953ء سے 12 اگست 1953ء تک سندھ کے گورنر رہے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق مغربی پنجاب میں 25 جنوری 1949ء کو گورنر راج نافذ کیا گیا، اس وقت سر فرانسس موڈی صوبے کے گورنر تھے۔ یوں ان کا نام پاکستان میں گورنر راج کے ابتدائی واقعات سے وابستہ ہے۔ سندھ میں گورنر راج 29 دسمبر 1951ء کو نافذ ہوا اور 22 مئی 1953ء کو ختم کیا گیا۔ جارج بیکسنڈیل کانسٹنٹائن نے 2 مئی 1953ء کو گورنر کا منصب سنبھالا، اس لیے ان کی تقرری گورنر راج کے آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گورنر راج کے نفاذ کے مختلف واقعات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں۔ 1949ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین خان ممدوٹ کو برطرف کرکے 25 جنوری کو گورنر راج نافذ کیا گیا۔ دسمبر 1951ء میں وزیراعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کی برطرفی کے بعد سندھ میں بھی یہی انتظام نافذ کیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 1975ء میں صوبہ سرحد میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں 1988ء میں سندھ کی صوبائی نگران حکومت کی برطرفی کے بعد گورنر راج کا نفاذ عمل میں آیا۔ 1994ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں صدر فاروق لغاری نے سرحد کے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد گورنر راج نافذ کیا۔ 1998ء میں وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں صدر رفیق تارڑ کے زمانے میں سندھ حکومت کی برطرفی کے بعد گورنر راج نافذ کیا گیا۔
2009ء میں صدر آصف علی زرداری کے دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو عہدے سے ہٹاکر گورنر راج نافذ کیا گیا۔ 2013ء میں بلوچستان میں ہزارہ شیعہ برادری پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد بھی یہی اقدام کیا گیا۔ اکتوبر 2026ء میں وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر صدر آصف علی زرداری کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا گیا۔
گورنر راج کے حوالے سے دستیاب تاریخی فہرستوں میں لیاقت علی خان کے دور میں پنجاب اور سندھ، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان اور صوبہ سرحد، بے نظیر بھٹو کے دور میں خیبر پختونخوا اور شہباز شریف کے دور میں خیبر پختونخوا کا ذکر ملتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں 1949ء میں پنجاب، 1951ء میں سندھ، 1973ء میں بلوچستان اور 1975ء میں اس وقت کے صوبہ نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروونس سمیت مختلف مواقع پر گورنر راج نافذ کیا گیا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی معاملات میں وفاقی حکومت کی مداخلت پاکستان کے سیاسی نظام کا ایک مسلسل اور اہم پہلو رہی ہے۔
1949ء سے لے کر مختلف ادوار تک گورنر راج کا بار بار نفاذ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا وفاقی قیادت نے صوبائی حکومتوں کے بحران حل کرنے کے لیے ان اختیارات کو استعمال کیا یا ان کے ذریعے صوبائی سیاست پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ ایسے اقدامات کے نتیجے میں متعدد مواقع پر منتخب حکومتوں کی حیثیت کمزور ہوئی، نمائندہ اداروں کا کردار محدود ہوا اور مرکز کے انتظامی اختیارات میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ ان اقدامات کے حق میں سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی، انتظامی ناکامی اور سلامتی کے خطرات کو بنیاد بنایا جاتا رہا، لیکن ان کا بار بار استعمال جمہوری احتساب، صوبائی خودمختاری اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اختیارات کے توازن کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات پیدا کرتا ہے۔
گورنر راج کے ہر واقعے نے وفاقی مرکزیت اور صوبائی خودمختاری کے درمیان موجود کشمکش کو مزید نمایاں کیا۔ اس عمل سے وفاقی حکومت کے اختیارات کا دائرہ وسیع ہوا، صوبائی حکومتوں کے آئینی اختیارات دباؤ کا شکار ہوئے اور سیاسی جماعتوں و منتخب نمائندوں کی حیثیت متاثر ہوئی۔ اس کے برعکس غیر منتخب انتظامی ڈھانچے اور بیوروکریسی کے اثر و رسوخ میں اضافے کے امکانات پیدا ہوئے۔ اس صورت حال نے جمہوری اداروں کی مضبوطی اور وفاقی نظام کے استحکام کے بارے میں سوالات اٹھائے۔
گورنر راج کے حامی اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے، اس لیے ایسے اقدامات کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بعض منتخب نمائندے بھی آئین کے آرٹیکل 234 اور دیگر متعلقہ دفعات کا حوالہ دے کر ان اقدامات کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ لیکن کسی اقدام کے لیے آئینی جواز موجود ہونا اور اس کے سیاسی و سماجی نتائج کا جمہوری اصولوں کے مطابق ہونا دو الگ معاملات ہیں۔
اس فرق کو سمجھنے کے لیے پاکستان کی تاریخ میں ون یونٹ کی مثال اہم ہے۔ سندھ اسمبلی کے 102 ارکان میں سے 98 نے ون یونٹ کے قیام کی حمایت کی تھی۔ عددی اعتبار سے یہ بھاری اکثریت تھی۔ اگر محض اکثریت کی حمایت کو کسی فیصلے کی جمہوری حیثیت کا حتمی معیار سمجھ لیا جائے تو ون یونٹ کے قیام کو بھی ایک مکمل جمہوری فیصلہ قرار دینا پڑے گا۔ اسی طرح اگر کسی اقدام کے حق میں آئینی دفعات پیش کردی جائیں تو صرف اس بنیاد پر اسے عوامی مفاد کے مطابق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ون یونٹ کی تشکیل کو اسمبلی میں بھاری اکثریت کی حمایت حاصل تھی، لیکن اس کے نتائج نے سندھ کی سیاسی، ثقافتی اور لسانی شناخت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایوب خان کے دور میں اس انتظامی بندوبست کے باعث سندھ کی صوبائی حیثیت، سندھی زبان، مقامی شناخت اور انتظامی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ سندھی زبان میں تعلیم، سندھی کہلانے اور سندھ کی الگ شناخت کے اظہار کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ صورت حال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسمبلی میں اکثریت کا فیصلہ لازماً عوامی خواہشات کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔ ون یونٹ کو قانونی اور پارلیمانی حمایت حاصل ہونے کے باوجود سندھ میں اس کے خلاف مزاحمت سامنے آئی۔ اس تجربے نے یہ سوال بھی پیدا کیا کہ آیا منتخب اداروں کے فیصلوں کو محض اکثریت کی بنیاد پر درست تسلیم کرلینا چاہیے یا ان کے طویل مدتی اثرات، عوامی حقوق اور صوبائی شناخت کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں اسمبلیوں کے فیصلوں کو آج بھی تنقیدی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان کے 1973ء کے آئین کا آرٹیکل 234 اس صورت میں آئینی مداخلت کی گنجائش فراہم کرتا ہے جب کسی صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔ تاہم اس دفعہ کی موجودگی بذات خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کے تمام اختیارات پر مکمل اجارہ داری قائم کرلی ہے۔ اصل بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ ان اختیارات کو کن حالات میں استعمال کیا گیا، ان کے پیچھے کیا وجوہات تھیں، انہیں کتنی مرتبہ بروئے کار لایا گیا اور ان کے نتائج نے وفاقی نظام اور جمہوری حکمرانی کو کس حد تک متاثر کیا۔
کسی آئینی دفعہ کا وجود ہر صورت میں اس کے استعمال کو درست ثابت نہیں کرتا۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا متعلقہ اقدام واقعی کسی آئینی بحران کے حل کے لیے ناگزیر تھا، کیا اس کے متبادل موجود تھے اور کیا اس عمل میں صوبائی خودمختاری، منتخب نمائندوں کے اختیار اور عوامی مینڈیٹ کو تحفظ دیا گیا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ تسلسل ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اگر گورنر راج کا مقصد آئینی نظام کو بحال کرنا اور انتظامی بحران ختم کرنا تھا تو اس کے بار بار نفاذ کے باوجود وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد، صوبائی خودمختاری اور جمہوری اداروں کے استحکام کو یقینی کیوں نہیں بنایا جاسکا؟ کیا کسی اقدام کو آئینی قرار دے دینا اس کے سیاسی نتائج، عوامی حقوق پر اس کے اثرات اور جمہوری نظام کو پہنچنے والے نقصان پر بحث ختم کرنے کے لیے کافی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے