گھوٹکی میں شاندار کتابی میلے کا انعقاد، مطالعے کے فروغ پر زور
گھوٹکی: روشن تارا ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول گھوٹکی کے زیرِ اہتمام سگا شاخ گھوٹکی اور سندھی ادبی سنگت شاخ گھوٹکی کے تعاون سے چانڈوکی پبلی کیشنز کے کتابی میلے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کا افتتاح اسکول بورڈ کے چیئرمین سید علی رضا شاہ نے کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی مختیارکار گھوٹکی شاہد حسین دایو جبکہ اعزازی مہمانوں میں سگا کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن آغا بلاول پٹھان، انجمن ترقی پسند مصنفین سندھ کے صدر ریاض شاہد دایو، سگا گھوٹکی شاخ کے صدر ڈاکٹر محمد نواز کلہوڑو اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسکول کے پرنسپل حاکم علی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کتابوں کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ ایسے پروگرام نئی نسل کو علمی اور فکری مقابلوں کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صدارتی خطاب میں سید علی رضا شاہ نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسا علمی اور مطالعاتی ماحول متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ روایتی انداز میں کام کرنے کے بجائے سندھ کے باشعور نوجوان تیار کرنے کے مقصد پر عمل پیرا ہے، جبکہ کتابی میلوں کا انعقاد بھی اسی کوشش کا حصہ ہے۔ آغا بلاول پٹھان نے کہا کہ روشن تارا اسکول گھوٹکی اس وقت آئی بی اے جیسے معیاری تعلیمی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت کی مالی امداد کے بغیر کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد نواز کلہوڑو نے کہا کہ موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث نوجوان کتابوں سے دور ہو رہے ہیں، تاہم ایسے پروگرام انہیں مطالعے کی طرف راغب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ مختیارکار شاہد حسین دایو نے کہا کہ کتابوں کا مطالعہ معاشرے سے منفی رجحانات کے خاتمے، شعور کی بیداری اور زندگی کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ریاض شاہد دایو نے تجویز پیش کی کہ ہر گھر میں ایک چھوٹی لائبریری قائم ہونی چاہیے تاکہ بچوں اور نوجوانوں میں کتاب پڑھنے کا شوق گھر ہی سے پروان چڑھے۔
استاد محمد بخش عارباني نے کہا کہ مطالعے سے ذہنی اور روحانی سکون ملتا ہے اور نوجوان مختلف منفی رویوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ کتابوں کا مطالعہ انسانی ذہن کو ایک پھل دار درخت کی طرح ثمرآور بناتا ہے۔ چانڈوکی پبلی کیشنز کے روحِ رواں اسیر امتیاز نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کتابیں فروخت نہیں ہوتیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کتابیں نوجوانوں تک پہنچ نہیں پاتیں۔ انہوں نے کہا کہ چانڈوکی پبلی کیشنز کو سندھ بھر سے اچھی پذیرائی مل رہی ہے۔ سگا گھوٹکی کے جنرل سیکریٹری ایاز لطیف دایو نے تقریب کی نظامت کرتے ہوئے کہا کہ گھوٹکی کی آبادی لاکھوں میں ہونے کے باوجود یہاں معیاری کتابوں کا کوئی اسٹال موجود نہیں۔ اسی کمی کو پورا کرنے اور نوجوانوں کو اچھی کتابیں فراہم کرنے کے لیے کتابی میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے گھوٹکی کے تعلیمی اداروں، نوجوانوں اور طالبات سے اپیل کی کہ وہ تین روزہ کتابی میلے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔