جامعہ کراچی میں سندھ دشمن داخلہ پالیسی کے خلاف سندھی شاگرد ستھ کا احتجاج
جامعہ کراچی کی متنازع سندھ دشمن داخلہ پالیسی اور صوبے کے طلبہ کو داخلوں میں نظرانداز کیے جانے کے خلاف سندھی شاگرد ستھ کا ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے پالیسی کو طلبہ دشمن قرار دیتے ہوئے فوری خاتمے اور نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ کا مؤقف ہے کہ سندھ اور پاکستان پالیسی کے تحت دوسرے صوبوں کے امیدواروں کو داخلوں میں ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ سندھ کے طلبہ کے لیے محدود نشستیں مختص ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کراچی کی جامعہ میں اپنے ہی صوبے کے نوجوانوں کو داخلہ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
سندھی شاگرد ستھ کے مطابق حالیہ داخلہ نتائج سے صوبے کے مختلف اضلاع کے امیدوار متاثر ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ بعض طلبہ اچھے نمبر لینے کے باوجود مطلوبہ شعبوں میں داخلہ حاصل نہیں کرسکے۔
احتجاجی طلبہ نے مطالبہ کیا کہ داخلہ پالیسی شفاف بنائی جائے، سندھ کے امیدواروں کے لیے مناسب نشستیں مختص ہوں اور میرٹ کے ساتھ علاقائی تعلیمی فرق کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم ہر طالب علم کا حق ہے۔ تمام امیدواروں کے لیے یکساں مواقع یقینی بنائے جائیں اور داخلوں کا عمل غیر امتیازی ہو۔
مظاہرین نے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا، ماضی میں بھی اسی متنازع پالیسی کے خلاف احتجاج ہوتے رہے ہیں۔
جامعہ کراچی کی (کے ایس پی) پالیسی کے مطابق داخلہ کے لیے سب سے پہلے دارالحکومت، پھر صوبے کے دیگر شہروں اور بعد میں پاکستان کے دوسرے صوبوں کے طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے لیکن سندھی شاگرد ستھ کا دعویٰ ہے کہ صوبے کے دیگر شہروں کے مقابلے پاکستان کے دوسرے صوبے کے طلبہ کو اہمیت دی جاتی ہے