پاکستان میں گرین بینکنگ: کیا بینک موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں؟

file_0000000016f08207947168a690e0a2f8

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی اور مالیاتی چیلنج بھی بن چکی ہے۔ شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے زراعت، صنعت، کاروبار اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے اثرات بالآخر بینکنگ نظام تک بھی پہنچتے ہیں۔
ایسے میں گرین بینکنگ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس سے مراد مالیاتی وسائل کو قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، ماحول دوست تعمیرات، صاف ٹرانسپورٹ، پائیدار زراعت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بینکوں کی گرین سرمایہ کاری کا حقیقی ماحولیاتی اور معاشی اثر کتنا ہے۔
2017 سے گرین بینکنگ کا سفر
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اکتوبر 2017 میں گرین بینکنگ گائیڈ لائنز جاری کیں۔ ان کا مقصد بینکوں کے مالیاتی فیصلوں میں ماحولیاتی خطرات کو شامل کرنا، ماحول دوست منصوبوں کی مالی معاونت بڑھانا اور بینکوں کے اپنے ماحولیاتی اثرات کم کرنا تھا۔
2022 میں ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا عملی رہنما کتابچہ جاری کیا گیا، جبکہ 2025 میں موسمیاتی خطرات کے انتظام اور موسمیاتی دباؤ کی جانچ کے حوالے سے مزید اقدامات کیے گئے۔
دسمبر 2025 میں پاکستان گرین ٹیکسانومی متعارف کرائی گئی، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کون سی معاشی سرگرمی حقیقی معنوں میں گرین فنانس کے لیے اہل ہے۔ اس سے گرین واشنگ، یعنی ماحول دوست ہونے کے نام پر ایسی سرگرمیوں کی مالی معاونت کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جن کے حقیقی ماحولیاتی فوائد واضح نہ ہوں۔
بینکوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی مالیاتی خطرہ بھی ہے
موسمیاتی خطرات کو صرف ماحول کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں۔ سیلاب یا خشک سالی سے فصلیں تباہ ہوں تو کسان کے لیے قرض واپس کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح شدید موسم سے صنعت یا کاروبار متاثر ہو تو بینک کے قرضے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب دنیا کی کم کاربن معیشت کی طرف منتقلی بھی مالیاتی خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ اگر کسی بینک کی بڑی سرمایہ کاری کوئلے یا زیادہ کاربن خارج کرنے والے شعبوں میں ہو تو مستقبل میں سخت ماحولیاتی پالیسیوں کے باعث اس سرمایہ کاری کی قدر متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
سینئر صحافی اور ماحولیاتی ماہر امر گرڑو کے مطابق صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ بینکوں نے گرین منصوبوں کو کتنی رقم دی۔ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ اس سرمایہ کاری سے کاربن کا اخراج، توانائی اور پانی کے استعمال میں کتنی کمی آئی۔
ان کے مطابق بینک قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً سولر فنانسنگ، کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن مجموعی بینکنگ سرمایہ کاری میں گرین منصوبوں کا حصہ اب بھی محدود ہے۔ ان کے نزدیک اصل چیلنج پالیسی بنانے کے بجائے اس پر مؤثر عملدرآمد، نگرانی اور شفاف رپورٹنگ ہے۔
ماحولیاتی ماہر شبینہ فراز کے مطابق بینکوں کو کوئلے سے متعلق نئی سرمایہ کاری سے گریز اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف سرمایہ منتقل کرنا چاہیے۔ وہ گرین ٹیکسانومی کو ماحول دوست سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیتی ہیں۔
ماحولیاتی ماہر رفیع الحق کے مطابق اگر کوئی بینک ماحول دوست ہونے کا دعویٰ کرے لیکن ساتھ ہی آلودگی اور کاربن اخراج بڑھانے والے منصوبوں کو قرض دے تو یہ گرین واشنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے شفاف معلومات، آزادانہ جانچ اور سرمایہ کاری کے بعد نگرانی ضروری ہے۔
گرین فنانس میں پیش رفت

اسٹیٹ بینک کے مطابق مقامی بینکوں اور مالیاتی اداروں میں گرین بینکنگ افسر مقرر کیے جا چکے ہیں۔ 79 فیصد بینکوں نے گرین بینکنگ پالیسیاں منظور کی ہیں جبکہ 69 فیصد نے ماحولیاتی خطرات کو اپنے کریڈٹ رسک اسیسمنٹ میں شامل کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی قابلِ تجدید توانائی ری فنانس اسکیم کے تحت 2024 تک 94.7 ارب روپے فراہم کیے گئے، جس سے 4,500 سے زائد قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات اور 2,061 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو سہارا ملا۔
گرین بانڈز اور صکوک بھی اس شعبے کا حصہ بن رہے ہیں۔ پاکستان کے پہلے گرین صکوک کا اجرا 30 ارب روپے مالیت کا تھا۔
عام آدمی کو کیا ملا؟
گرین بینکنگ کی کامیابی کا اصل امتحان یہ ہے کہ اس کے فوائد بڑے کاروباروں سے نکل کر عام شہری تک بھی پہنچیں۔
کیا ایک چھوٹا کسان سولر ٹیوب ویل یا پانی کی بچت کے نظام کے لیے آسان شرائط پر قرض لے سکتا ہے؟ کیا چھوٹا کاروبار توانائی کے مؤثر نظام کی طرف منتقل ہونے کے لیے مالی معاونت حاصل کر سکتا ہے؟ کیا کم آمدنی والے خاندانوں کو سولر سسٹم اور موسمیاتی موافقت کے لیے بینکنگ سہولت دستیاب ہے؟
اگر گرین فنانس صرف بڑے منصوبوں تک محدود رہے تو اس کے ماحولیاتی فوائد تو ہوں گے، لیکن اس کا سماجی اثر محدود رہ سکتا ہے۔
سندھ کے لیے نئے مواقع
سندھ میں گرین فنانس اور کاربن مارکیٹ کے امکانات بھی موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ماحولیاتی مشیر دوست محمد راہمون کے مطابق صوبے میں مینگروز، ونڈ پاور، بائیو گیس، صاف ایندھن، محفوظ پانی اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت 13 بڑے ماحول دوست منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ان کے مطابق ایسے منصوبوں کو عالمی کاربن مارکیٹ سے جوڑ کر سندھ کے لیے کلائمیٹ فنانس، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی فیصل عقیلی کے مطابق سندھ حکومت ماحول دوست منصوبوں کو عالمی موسمیاتی اور کاربن فنڈز سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
کلائمیٹ چینج اینڈ کاربن فنانس کے ماہر سید امداد شاہ کے مطابق کاربن کریڈٹس پاکستان کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے کا ایک ممکنہ ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ منصوبے عالمی معیار کے مطابق اخراج میں حقیقی کمی ثابت کریں۔
اصل سوال عملدرآمد کا ہے
پاکستان نے گرین بینکنگ کے حوالے سے پالیسی، گائیڈ لائنز اور گرین ٹیکسانومی جیسے اہم اقدامات کیے ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کی فنانسنگ میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی یہ واضح ہونا باقی ہے کہ مجموعی بینکنگ سرمایہ کاری میں گرین منصوبوں کا حقیقی حصہ کتنا ہے اور اس کے ماحولیاتی اثرات کیا ہیں۔
گرین بینکنگ کو مؤثر بنانے کے لیے صرف ’’گرین‘‘ کا لیبل کافی نہیں۔ بینکوں کو اپنی سرمایہ کاری شفاف بنانا، قابلِ پیمائش ماحولیاتی اہداف مقرر کرنا اور ان کے نتائج کی آزادانہ جانچ کرانا ہوگی۔
بالآخر پاکستان میں گرین بینکنگ کی کامیابی کا معیار یہ نہیں ہوگا کہ کتنے گرین قرضے دیے گئے، بلکہ یہ ہوگا کہ ان قرضوں سے ماحول، معیشت اور عام لوگوں کی زندگیوں میں کتنی حقیقی بہتری آئی۔