صحافی عرفان عالمانی پر حملے کی مذمت، ازالہ نہ ہوا تو صفوران ٹاؤن کا گھیراؤ کریں گے، ڈاکٹر نیاز کالانی
کراچی: جسقم (شہید بشیر خان قریشی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے صفوران ٹاؤن کراچی کے چیئرمین راشد خاصخیلی کے مبینہ افراد کی جانب سے صحافی و قومی کارکن عرفان عالمانی پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری ازالہ کیا جائے، بصورت دیگر صفوران ٹاؤن آفس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب ملیر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ آج قومی کارکن اور صحافی محفوظ نہیں ہیں۔ عرفان عالمانی جس مقام پر میڈیا سینٹر قائم کر رہے تھے، وہ صفوران ٹاؤن کی ملکیت نہیں ہے، اس کے باوجود ٹاؤن کے عملے نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے میڈیا سینٹر مسمار کیا اور عرفان عالمانی سمیت دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صفوران ٹاؤن مذکورہ جگہ کی ملکیت ثابت نہیں کرسکتا تو عرفان عالمانی کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا فوری ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے خلاف احتجاج کے حوالے سے ایس ایچ او نے یقین دہانی کرائی تھی، تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ عرفان عالمانی کے خلاف کسی قسم کے قبضے کی شکایت بھی کبھی سامنے نہیں آئی، وہ قومی کارکن اور صحافی ہیں اور میڈیا کے ذریعے سندھ اور سندھی عوام کے مسائل اجاگر کرتے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ کی ممکنہ تقسیم کے خلاف قوم متحد ہوچکی ہے اور سندھ کے عوام صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی مختلف سیاسی جماعتیں اس معاملے پر جدوجہد کر رہی ہیں، جبکہ جسقم (شہید بشیر خان قریشی) کی جانب سے 8 نومبر کو کراچی میں ریلی نکالی جائے گی۔
ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ وہ ڈویژن، اضلاع، تعلقوں اور دیہوں کی تشکیل کے نام پر سندھ کی تقسیم کے مخالف ہیں۔ انہوں نے اورنگزیب فاروقی کو کالعدم تنظیم کا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ جسقم پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور ایسے عناصر سندھ میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ فیصل رضا عابدی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں، ایسے لوگ ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے موقع پر پنہل ساریو، چاكر خان شر، عرفان عالمانی، مرتضیٰ شاہانی اور کاشف شر بھی موجود تھے۔