امداد محمد شاہ کی سیاسی، سماجی اور عوامی خدمات
سندھ کی سیاسی، سماجی اور علمی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی بھی گزری ہیں جنہیں کسی ایک شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ امداد محمد شاہ بھی ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، جن کی زندگی میں تعلیم، سیاست، سماجی خدمت اور سندھ سے وابستگی ایک دوسرے سے گہرائی کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ سائیں امداد محمد شاہ سے میرا تعلق محض ذاتی شناسائی تک محدود نہیں تھا۔ میرے بزرگوں کے ان کے خاندان سے دیرینہ تعلقات تھے، جن کی نسبت سے بچپن ہی سے ان کی شخصیت کے لیے دل میں احترام موجود تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ شناسائی مطالعے میں تبدیل ہوئی اور مجھے ان کی زندگی پر لکھنے کا موقع بھی ملا۔ اسی لیے جب میں امداد شاہ کو یاد کرتا ہوں تو میرے سامنے محض ایک سیاست دان کا نہیں بلکہ تعلیم اور سماجی خدمت کو اپنی زندگی کا اہم مقصد بنانے والے ایک سنجیدہ انسان کا نقش ابھرتا ہے۔
امداد محمد شاہ 30 ستمبر 1935ء کو سندھ کے تاریخی شہر سن میں پیدا ہوئے۔ وہ سید حیدر شاہ سنائی کے خاندان کے چشم و چراغ اور جی۔ ایم۔ سید کے فرزند تھے۔ ان کا بچپن ایسے گھرانے میں گزرا جہاں سندھ کی تاریخ، سیاست، سماج اور قومی مسائل پر گفتگو روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔ اس ماحول نے ان کی فکری تربیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی ابتدائی تعلیم سن کے پرائمری اسکول سے شروع ہوئی۔ بعد ازاں انہیں کراچی گرامر اسکول بھیجا گیا، لیکن 1947ء کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے باعث ان کی تعلیم میں رکاوٹ آئی اور انہیں واپس سن آنا پڑا۔ بعد میں کراچی کے سینٹ پیٹرک اسکول میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے 1953-54ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
امداد محمد شاہ کی خواہش تھی کہ وہ طب کی تعلیم حاصل کریں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ڈی۔ جے۔ سائنس کالج میں داخلہ بھی لیا، لیکن خاندانی حالات نے انہیں زندگی کا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے بڑے بھائی امیر حیدر شاہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن روانہ ہو گئے، جبکہ جی۔ ایم۔ سید ون یونٹ کی مخالفت کے باعث جیل میں تھے۔ ایسے حالات میں امداد شاہ کو خاندان کی ذمہ داریاں سنبھالنا پڑیں۔ یوں ان کی زندگی نے ایک ایسا رخ اختیار کیا جس میں ذاتی تعلیمی خواہشات کے ساتھ خاندان اور معاشرے کی ذمہ داریاں بھی شامل ہو گئیں۔
انہوں نے بی۔ ایس۔ سی کی تعلیم مکمل کی اور سن واپس آکر زمینداری سنبھالی، لیکن علم اور تعلیم سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہیں ہوا۔ انہوں نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور کراچی کے اسلامیہ کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1965ء میں انہوں نے ایل۔ ایل۔ بی کی ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔ آبائی زمینداری میں انہیں تعلقہ سکرنڈ کے گاؤں مجید کیریو میں حصہ ملا، جس کے باعث ان کی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی علاقے سے وابستہ رہا۔ نواب شاہ میں انہوں نے سندھ کے معروف قومی کارکن اور وکیل قاضی فیض محمد ایڈووکیٹ کے ساتھ وکالت بھی کی۔
امداد محمد شاہ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو تعلیم سے ان کی گہری وابستگی تھی۔ وہ تعلیم کو محض ذاتی ترقی کا وسیلہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کی بنیادی قوت سمجھتے تھے۔ 1956ء میں سن میں مڈل اسکول کے قیام اور دیہی علاقوں سے آنے والے طلبہ کے لیے رہائش اور خوراک کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے شاہ حیدر ایجوکیشنل سوسائٹی کا قیام اسی سوچ کا عملی اظہار تھا۔ یہ قدم اس دور کے دیہی سندھ کے حالات میں خاص اہمیت رکھتا تھا، جہاں تعلیمی اداروں اور طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات کی شدید کمی تھی۔
1979ء میں ضلع کونسل نواب شاہ کے رکن منتخب ہونے کے بعد تعلقہ سکرنڈ کے دیہی علاقوں میں ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں مزید وسعت آئی۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول قائم کرانے کے لیے کوششیں کیں اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی۔ سکرنڈ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ سائنس کالج قائم کرانے اور قاضی احمد کے ہائی اسکول کو ہائر سیکنڈری اسکول کا درجہ دلانے میں بھی ان کا کردار شامل رہا۔
ان کی سیاسی زندگی بھی اپنے عہد کی سندھ کی سیاست کا ایک اہم حصہ تھی۔ 1985ء اور 1988ء میں وہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اسمبلی میں انہوں نے سندھ کے مسائل اور حقوق کو اجاگر کیا اور اپوزیشن رکن کی حیثیت سے مختلف معاملات پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ وہ عوامی لیگ سے وابستہ رہے اور ’پونم‘ کے پلیٹ فارم سے سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کے قومی حقوق کے لیے ہونے والی جدوجہد میں بھی حصہ لیا۔
تاہم امداد محمد شاہ کی خدمات کا دائرہ سیاست اور تعلیم تک محدود نہیں تھا۔ شاہ حیدر ایجوکیشنل سوسائٹی، سن کے علاوہ وہ محمد ہاشم ٹھٹوی ایجوکیشنل سوسائٹی اور دیگر تعلیمی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی کی جانب سے قائم کیے گئے قائداعظم پبلک اسکول، درسانو چھنو کے ساتھ بھی ان کا تعلق رہا، جبکہ وہ کراچی یونیورسٹی کی سینیٹ کے رکن بھی رہے۔ان کی سماجی خدمت میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ اسپتالوں، سڑکوں، پلوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی شامل تھیں۔ ضلع نواب شاہ، سکرنڈ اور کوٹری کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ یہ ایسے کام تھے جو شاید ہمیشہ بڑی سرخیوں کا حصہ نہ بنے ہوں، لیکن جن لوگوں کو ان سہولیات سے براہِ راست فائدہ پہنچا، ان کے لیے ان کی اہمیت غیر معمولی تھی۔
امداد محمد شاہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ سیاست کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی سرگرمیوں میں تعلیم، سماجی بہبود اور مقامی ترقی کے عناصر نمایاں رہے۔ ان کے لیے اپنے علاقے کے لوگوں کی زندگی میں عملی بہتری پیدا کرنا بھی سیاسی اور سماجی ذمہ داری کا حصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف انتخابی سیاست، اسمبلی کی رکنیت یا وکالت کے حوالے سے دیکھنا ان کے وسیع تر کردار کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔
29 ستمبر 2004ء کو امداد محمد شاہ کا زندگی کا سفر اختتام پذیر ہوا اور انہیں گاؤں مجید کیریو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات سے ایک شخص جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوا، لیکن ان کے قائم کردہ ادارے، تعلیمی کوششیں اور سماجی خدمات ان کی موجودگی کا حوالہ بن کر باقی رہیں۔ ان کے نام سے قائم امداد فاؤنڈیشن، جو 2007ء سے سرگرم عمل ہے، بھی ان کی خدمات کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔
امداد محمد شاہ کی زندگی کو صرف ایک سیاست دان، رکنِ اسمبلی، وکیل یا زمیندار کی حیثیت سے دیکھنا ان کی شخصیت کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ ان کی اصل اہمیت ان تمام حوالوں کے مجموعے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے تعلیم کو سماجی تبدیلی کا ذریعہ سمجھا، سیاست کو سندھ کے مسائل اور حقوق کے اظہار کے لیے استعمال کیا اور اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالا۔
وقت کے ساتھ سیاسی ادوار بدل جاتے ہیں، نسلیں تبدیل ہو جاتی ہیں اور شخصیات کے نام بھی تاریخ کے صفحات میں پیچھے رہ جاتے ہیں، لیکن جو لوگ ادارے قائم کرتے ہیں، تعلیم کے چراغ روشن کرتے ہیں اور خدمت کے ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے کام آتے ہیں، ان کی یاد آسانی سے مٹتی نہیں۔ امداد محمد شاہ کی زندگی کا اصل حوالہ بھی شاید ان کے عہدوں سے زیادہ ان کاموں میں موجود ہے جو انہوں نے اپنے معاشرے اور اپنی دھرتی کے لیے انجام دینے کی کوشش کی۔
وہ دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی زندگی یہ تصور آج بھی ہمارے سامنے رکھتی ہے کہ کسی انسان کی اصل شناخت صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہ کس منصب پر فائز رہا، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اس نے اپنے عہد، اپنے لوگوں اور اپنی سرزمین کے لیے کیا چھوڑا۔ امداد محمد شاہ کی زندگی اسی سوچ، اسی خدمت اور اسی ذمہ داری کا ایک ایسا سفر تھی جس کی معنویت ان کی وفات کے بعد بھی برقرار ہے۔