نکاسی کے نظام کی تباہی
نکاسی کے پانی اور زرعی آلودہ پانی کے حتمی اخراج کے مسائل انتہائی پیچیدہ ہیں۔ سندھ کو ناقص منصوبہ بندی اور غیرمعیاری طریقے سے مکمل کیے گئے بڑے نکاسی آب کے منصوبوں، خصوصاً لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) اور رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (آر بی او ڈی) کے تباہ کن نتائج بھگتنا پڑے ہیں۔ ان ناقص منصوبوں کے ڈیزائن، تعمیر اور نگرانی کی ذمہ داری واپڈا کے پاس تھی۔ ایل بی او ڈی کا نظام زیریں سندھ کے اضلاع کے لیے سیلاب کا ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے، جبکہ آر بی او ڈی نے کبھی صاف ستھری رہنے والی منچھر جھیل کو تباہ کر دیا ہے۔
سندھ، دریائے سندھ کے آبپاشی نظام کے آخری سرے پر واقع ہونے کے باعث، ناانصافی کے ساتھ پورے آبپاشی نظام کے آلودہ پانی کے اخراج کی جگہ سمجھا جاتا ہے۔ عالمی بینک کے مالی تعاون سے 1997ء میں شروع کیے گئے قومی نکاسی آب پروگرام کے تحت ایک ایسا قومی سطح کا نکاسی آب کا نظام تجویز کیا گیا تھا، جس کے ذریعے دریائے سندھ کے آبپاشی نظام سے نکلنے والے کھارے پانی کو سندھ سے گزار کر سمندر تک پہنچایا جانا تھا۔ لیکن یہ منصوبہ اس وقت ناکام ہو گیا جب متعدد عالمی امدادی اداروں کے مالی تعاون سے شروع کیا گیا ایل بی او ڈی منصوبہ صرف تین اضلاع کے زرعی آلودہ پانی کو ٹھکانے لگانے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔
اس نکاسی آب کے منصوبے کے تحت تعمیر کیے گئے چولڑی ویئر کا ایک اہم حصہ کام شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد پانی کے تیز بہاؤ کے باعث نیچے سے کھوکھلا ہو گیا اور بالآخر گر گیا۔ اس ناکامی کے نتیجے میں قومی سطح پر نکاسی آب کا نظام قائم کرنے کے حامی اپنی تجویز سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ آلودہ پانی کو بالآخر سمندر میں چھوڑنا ایک سنگین مسئلہ بن گیا تھا۔ اس وقت سے ایل بی او ڈی کو واپڈا کی انجینئرنگ صلاحیتوں پر ایک داغ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
آر بی او ڈی کا تجربہ اس سے بھی زیادہ خراب ثابت ہوا، کیونکہ اس منصوبے نے منچھر جھیل میں ماحولیاتی تباہی برپا کر دی، جو کسی زمانے میں پاکستان کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل تھی۔ واپڈا کے تیار کردہ ڈیزائن کے مطابق دائیں کنارے کے اضلاع کا نکاسی آب منچھر جھیل میں چھوڑا جانا تھا۔ چند ہی برسوں میں اس نالے نے جھیل کو آلودہ پانی کے ایک وسیع تالاب میں تبدیل کر کے تباہ کر دیا۔ جھیل کے کنارے یا آس پاس رہنے والے سیکڑوں خودکفیل خاندانوں نے مچھلی کے شکار اور زراعت کے ذریعے روزگار کے ذرائع کھو دیے۔ اس تباہی نے انہیں اپنا علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس طرح بڑے نکاسی آب کے منصوبوں کی منصوبہ بندی، تعمیر اور انتظام کے حوالے سے واپڈا کی سنگین صلاحیتوں کی کمی بے نقاب ہو گئی۔
ناکامیوں کی اس تاریخ کے باوجود واپڈا نے علاقے میں پانی کھڑا ہونے اور زمینوں کے سیم و تھور کے مسئلے کے حل کے طور پر ایک اور منصوبہ، یعنی گھوٹکی ڈرینیج منصوبہ، تجویز کیا ہے۔ اس منصوبے پر ایک خطیر رقم، ایک کھرب 56 ارب 21 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے تحت ضلع گھوٹکی کے اوباوڑو، ڈہرکی، خان گڑھ اور میرپور ماتھیلو میں 1,067 کلومیٹر طویل نکاسی آب کا جال تعمیر کیا جائے گا۔
نکاسی آب کے چار نظام، کالا نارو، ریٹی، رینی اور تھر، مجموعی طور پر 3,183 کیوسک آلودہ پانی لے کر جائیں گے۔ واضح ہے کہ منچھر جھیل کی تباہی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ اس منصوبے میں نکاسی آب کے دو بڑے بہاؤ نارو کینال میں چھوڑنے کی تجویز دی گئی ہے۔
منصوبے کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کے جائزے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اس طرح کے پانی کو مناسب منصوبہ بندی کے بغیر خارج کرنے سے دوسرے علاقوں اور پانی کے نکاس کی جگہوں پر ماحولیاتی مسائل پیدا ہوں گے۔ اس کے باوجود حیرت کی بات یہ ہے کہ اس جائزے میں پانی کی آمیزش اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔ اس میں یہ بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ کم بہاؤ کے موسم میں بڑی مقدار میں کھارا پانی چھوڑنے سے نارو کینال کے پانی کے معیار پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ جائزے میں ایسی اہم معلومات کی کمی اس کے معیار اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کرتی ہے۔
نارو کینال سندھ کی سب سے طویل آبپاشی نہر ہے۔ یہ خیرپور، سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر کے اضلاع سے گزرتی ہے اور 22 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرتی ہے۔ سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کے مطابق، یہ نہر 66 لاکھ افراد کے لیے آبپاشی، پینے اور گھریلو استعمال کے میٹھے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس آبادی کو پینے کے پانی کی 127 اسکیموں کے علاوہ متعدد منظور شدہ اور غیرمنظور شدہ کنکشنز کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
بڑی مقدار میں بغیر صفائی کے آلودہ پانی نہر میں چھوڑنے سے اس کا پانی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ حد تک آلودہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صحتِ عامہ کا ایک بڑا بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے، خصوصاً کم بہاؤ کے موسم میں۔ اس کے علاوہ، آلودہ پانی کے اخراج کا مجوزہ طریقہ سپریم کورٹ کی جانب سے 2016ء میں قائم کیے گئے تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس کمیشن نے آبپاشی کی نہروں میں بغیر صفائی کے آلودہ پانی چھوڑنے کی مخالفت کی تھی۔
اگرچہ منصوبے کے دائرہ کار میں پڑوسی صوبے پنجاب کے ضلع رحیم یار خان تک نکاسی آب کے نالے کو بڑھانے کا واضح ذکر نہیں ہے، لیکن نئے نالے کے فعال ہونے کے بعد اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت سیلینٹی کنٹرول اینڈ ریکلیمیشن پروجیکٹ کے تحت رحیم یار خان سے نکلنے والا نامعلوم مقدار میں آلودہ پانی گھوٹکی کے دیہہ پوہ اور سٹیارو کے صحرائی علاقوں میں چھوڑا جا رہا ہے۔
گھوٹکی میں پنجاب سے بلا روک ٹوک آنے والے آلودہ پانی کے باعث ایک وسیع علاقہ اب بھی زیرِ آب ہے اور اس کی زمین اپنی زرخیزی کھو چکی ہے۔ نکاسی آب کے منصوبے پہلے ہی سندھ میں تباہی مچا چکے ہیں۔ سندھ مزید کسی نئی ماحولیاتی آفت کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔