ihsan laghari

سندھ یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپ کے بعد ایک نوجوان آئی سی یو میں زندگی کی طرف واپسی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے 30 ستمبر 2026ء کو ایس ایس پی جامشورو کو لکھے گئے خط کے مطابق یہ تنازع چند روز قبل ’’لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس ڈیپارٹمنٹ‘‘ کے دو طلبہ کے درمیان ایک معمولی بات پر شروع ہوا، جس کے بعد لڑائی کے لیے بیرونی افراد کو بلایا گیا اور معاملہ تنظیمی تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ 30 ستمبر کی صبح آرٹس فیکلٹی کے قریب بھی جھڑپیں ہوئیں، اور پھر شام کو ہاسٹلز کے اندر دونوں گروہوں کے درمیان فائرنگ شروع ہوگئی۔ اس فائرنگ میں ایک طالب علم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا، جسے اسپتال منتقل کیا گیا (رجسٹرار کے خط میں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے)، جبکہ پتھراؤ اور لاٹھیوں کے حملوں کے باعث کئی طلبہ زخمی ہوئے۔خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ کیمپس اور ہاسٹلز کے اندر اسلحے اور بیرونی افراد کی غیر قانونی موجودگی کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے ’’متعلقہ‘‘ اداروں کے علم میں لایا جاتا رہا ہے؛ اور متعلقہ ادارے شاید آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں، جبکہ یونیورسٹی بھی ’’جو مالک کی مرضی‘‘ کہہ کر خاموش ہے۔

میں یہ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ جہاں آج گولی لگنے والے نوجوان کا باپ بے بسی سے کھڑا ہے، وہاں کبھی میں بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے بیٹے کے سرہانے اسی طرح کھڑا تھا۔ فروری 2008ء میں میرا بیٹا مہران یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے دوسرے ماہ میں تھا، جب وہ دو گروہوں (باچکانی اور ڈومکی) کی مسلح لڑائی کی زد میں آکر راستے میں گولی کا نشانہ بن گیا اور اس کے سر میں گولی لگی۔ وہ اپنے اسکول اور کالج میں ٹاپ کرنے والا، حیدرآباد اربن سے میرٹ پر منتخب ہونے والا طالب علم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و کرم سے، اپنے محبوب نبی، آقائے محمد ﷺ کے صدقے ہم پر بے انتہا کرم کیا اور اسے دوبارہ زندگی عطا فرمائی۔

آج اٹھارہ برس گزر چکے ہیں؛ تنظیموں کے نام ضرور بدل گئے ہیں، لیکن کیمپس سے بندوق ختم نہیں ہوئی۔ ایک نشست، ایک راہداری، کینٹین یا کسی کلاس روم کا معمولی تنازع! بہانہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے، لیکن ایمرجنسی وارڈ کا خون سے بھرا بستر ہمیشہ وہی ہوتا ہے۔

سندھ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں سے کچھ ضدی عناصر اس غنڈہ گردی کو ہی ’’سیاست‘‘ سمجھتے رہے ہیں۔ جامشورو کئی دہائیوں سے اس اذیت میں مبتلا ہے۔ رواں سال مئی میں امتحانات کے دوران ایک کینٹین پر تنظیم کے دو دھڑوں میں فائرنگ ہوئی اور آئی بی اے کے ایک طالب علم کو راستے سے گزرتے ہوئے پاؤں میں گولی لگی۔ لال شہباز ہاسٹل کے کمرے جلائے گئے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ہاسٹل کے اندر روم میٹ کے ہاتھ سے پستول چل جانے کے باعث ایک طالب علم گولی کا نشانہ بنا۔ 2012ء میں ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز کے قتل کے بعد جب حساب کتاب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یونیورسٹی میں بائیس طلبہ قتل ہوچکے تھے اور ایک بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔ یہ اعداد و شمار اب پرانے ہوچکے ہیں، لیکن ہاسٹلز پر بندوق کے زور پر قبضوں کی یہ قاتلانہ روایت آج بھی برقرار ہے۔

سندھ یونیورسٹی 1947ء میں قائم ہوئی اور 1955ء میں علامہ آئی آئی قاضی کی فکر کے زیرِ اثر دریائے سندھ کے کنارے منتقل ہوئی۔ ان کا خواب تھا کہ ہر نوجوان یہاں سے ایک باوقار سائنس دان، استاد، سیاست دان، ادیب اور معاشرے کا خدمت گار بن کر اپنے لوگوں کے درمیان واپس جائے۔ پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی کے وسط تک یونین کے انتخابات خیالات اور منشوروں کا مقابلہ ہوا کرتے تھے۔ ان انتخابات نے سندھ کو قانون ساز، وکیل، صحافی اور اعلیٰ منتظم دیے۔ 4 مارچ 1967ء کو ون یونٹ کے خلاف طلبہ کا مارچ ایک عوامی سیاسی جدوجہد تھی؛ وہاں تشدد اور جیلیں تو تھیں، لیکن ہاسٹل کے کمرے میں پستول چھپا کر اپنے ہی بھائی پر بندوق تاننے کا رواج نہیں تھا۔

9 فروری 1984ء کو آمر جنرل ضیا نے مارشل لا ریگولیشن 60 کے ذریعے طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی۔ بہانہ نظم و ضبط کا تھا، لیکن اصل مقصد ایم آر ڈی کے ساتھ کھڑی ایک پوری نسل سے اس کی منظم جمہوری آواز چھیننا تھا۔ اس فیصلے نے سیاست ختم نہیں کی؛ سیاست سے ووٹ کا حق چھین کر اسے ہاتھوں میں ہتھیار دے دیے۔ اس کے بعد جماعتوں نے پردے کے پیچھے موجود بڑے پشت پناہوں کی سرپرستی میں ایسے ونگ تشکیل دیے جنہیں کسی بیلٹ باکس میں ووٹوں کی ضرورت نہیں تھی۔ کمزور جمہوری حکومتوں نے وعدے کیے لیکن یونین بحال نہ کی۔ یوسف رضا گیلانی نے ججوں کی بحالی کے ساتھ طلبہ یونین کی بحالی کا وعدہ بھی کیا تھا؛ جج تو بحال ہوگئے، لیکن طلبہ کا حق واپس نہ آیا۔

سندھ اسمبلی نے 11 فروری 2022ء کو تاریخ ساز ’’سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ‘‘ متفقہ طور پر منظور کرکے اس زیادتی کے ازالے کا راستہ کھول دیا تھا۔ یہ ایکٹ آپ کا قانونی حق ہے، جسے انتظامیہ بے جا خوف کے باعث دبا کر بیٹھی ہے۔ یہ قانون حکم دیتا ہے کہ ہر تعلیمی ادارے میں حقیقی طور پر منتخب طلبہ یونین ہو، سینیڈیکیٹ اور ہراسانی کے خلاف قائم کمیٹیوں میں طلبہ کی نمائندگی ہو، اور تعلیمی اداروں میں اسلحہ رکھنے پر مکمل پابندی ہو۔ اس کے قواعد دو ماہ کے اندر بنائے جانے تھے، لیکن ساڑھے چار سال گزرنے کے باوجود آج تک نہیں بن سکے۔ یاد رکھیں، جو حق کاغذ پر موجود ہو لیکن استعمال نہ کیا جائے، وہ حق کوئی دوسرا طاقتور شخص اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اپنے اصل حقوق کو پہچانیے۔ آپ کا حق ہے کہ کلاس روم تک پہنچیں اور وہاں سے زندہ گھر واپس لوٹیں۔ کسی ونگ، کسی ’’بڑے بھائی‘‘ یا کسی وزیر اور پردے کے پیچھے موجود کرداروں کی سرپرستی میں کام کرنے والے بدمعاش کی یہ جاگیر نہیں کہ وہ راہداری، کینٹین یا ہاسٹل کے کمروں پر قبضہ کرے۔ آئین کا آرٹیکل 17 آپ کو بنیادی تنظیم سازی کا حق دیتا ہے۔ آپ کو فیسوں، ہاسٹلز اور اپنی حفاظت سے متعلق فیصلوں میں شریک ہونے کا حق ہے۔ آپ کو اپنے ہم جماعت سے اختلاف کرنے اور اگلی صبح دوبارہ اسی بینچ پر بیٹھ کر پڑھنے کا پورا حق ہے۔ آپ کو ایسا ہاسٹل ملنا چاہیے جہاں پانی، امن اور روشنی ہو، نہ کہ ساتھ والے کمرے میں چھپا ہوا اسلحہ۔ سندھ کی بیٹیوں کا حق ہے کہ انہیں محفوظ بس، باعزت ڈگری ملے اور ان کی آواز کو سنجیدگی سے سنا جائے۔

یہ بھی سمجھیں کہ آپ کا حق کیا نہیں ہے۔ اسلحہ کسی نظریے یا منشور کا نام نہیں۔ کسی ہاسٹل پر قبضہ کرنے کے لیے ہڑتالیں 1967ء جیسی کوئی جدوجہد نہیں۔ کلاس روم کے معمولی تنازع پر اپنی انا کو مجروح سمجھ کر یونیورسٹی گیٹ کے باہر سے مسلح افراد کو بلانا ہی وہ عمل ہے جو ایک معمولی تنازع کو ایمرجنسی وارڈ کے بستر تک لے جاتا ہے۔ جو بھی جماعتیں یا رہنما آپ کو اسلحے کی اس آگ میں جھونکتے ہیں، وہ آپ کے دوست نہیں؛ وہ اپنے مفاد کے لیے آپ کا خون بہا رہے ہیں۔

اگر آپ کو متحد ہوکر کھڑا ہونا ہے تو سندھ کی وحدت اور سلامتی کے لیے متحد ہوں؛ سندھ کی تقسیم کی ہر سازش کے خلاف ایک ہوکر کھڑے ہوں، لیکن مسلح اور پرتشدد نہ بنیں! اپنی ہی دھرتی کے تعلیمی اداروں کے اندر ایک دوسرے پر بندوقیں تاننا سندھ کی کوئی خدمت نہیں۔ سندھ کے وجود اور وحدت کا حقیقی دفاع سندھ کے تعلیم یافتہ نوجوان کی طاقت، دیانت، آئین اور دلیل ہی سے ممکن ہے۔ اپنے ہی اداروں کو خون سے سرخ کرکے آپ سندھ دشمن قوتوں کے ہاتھ ہی مضبوط کر رہے ہیں۔

اس طرح پڑھیں جیسے سندھ اور پاکستان کی بقا آپ کی تعلیم سے وابستہ ہو، کیونکہ حقیقتاً ایسا ہی ہے۔ سیاست سیکھیں، لیکن وہ حقیقی، آئینی، قانونی اور جمہوری سیاست ہے۔ راہداریوں میں لاٹھیاں لے کر گھومنا اور ہتھیار لہرانا سیاست نہیں؛ اصل سیاست حقوق، اعداد و شمار، آئین اور باوقار تنظیم سازی کا نام ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جس سے سندھ اور پاکستان کے محنت کشوں کی بھلائی ہوسکتی ہے: دور دراز علاقوں تک پانی پہنچے، اسکول آباد رہیں، محنت کش کو جائز اجرت ملے، سندھ کی خواتین اور بیٹیوں کو علم، تحفظ، عزت اور آزادی حاصل ہو؛ اور مظلوم کے لیے عدالت کے دروازے کھلے رہیں۔

فیسوں میں کمی کے لیے یونیورسٹیوں کو ساتھ لے کر حکومت سے مطالبہ کریں، لڑائی کرنے کے بجائے یونیورسٹی کا بجٹ سمجھیں۔ حق اور کسی کے سیاسی احسان کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ جس شخص کے نظریے سے آپ اختلاف رکھتے ہوں، اس کے ساتھ بیٹھ کر بحث کریں اور اسے بغیر خون بہائے وہاں سے اٹھ کر جانے دیں۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے۔

یہ سب ان لوگوں کے لیے کریں جنہوں نے آپ کو یہاں بھیجا ہے: وہ کسان، وہ محنت کش ماں، اور وہ گھر جس نے آپ کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے کے لیے کوئی قیمتی چیز یا کھیت کا آخری ٹکڑا تک بیچ دیا۔ انہوں نے آپ کو کسی ونگ یا ہاسٹل کے کمروں پر قبضہ کرنے یا بندوقوں سے لڑنے کے لیے نہیں بھیجا۔ انہوں نے آپ کو اس لیے جامشورو بھیجا تھا کہ آپ کل ان کے حق میں دلیل دینے کے قابل ہوکر واپس آئیں؛ ڈگریاں حاصل کرکے کامیاب ہوں؛ ثبوتوں کے ساتھ، علم کے ساتھ اور ایسی مضبوط زبان کے ساتھ جسے عدالت اور حکومت بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے۔

انتظامیہ اور حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ جب خطوط میں لکھا جائے کہ بیرونی مسلح افراد ہاسٹلز میں موجود ہیں تو ایسے عناصر کو گرفتار کیا جائے اور بغیر کسی سیاسی امتیاز کے مقدمات درج کیے جائیں۔ جو بھی اسلحے کے ساتھ پکڑا جائے، اسے یونیورسٹی سے خارج کیا جائے۔ سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ کے قواعد بلا تاخیر بنائے جائیں اور پہلے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔

وہ طالب علم جو زندگی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، کسی ونگ کی جھوٹی انا اور طاقت کا فیصلہ کرنے کے لیے جامشورو نہیں آیا تھا۔ نہ ہی وہ طلبہ پتھر کھانے آئے تھے۔ آپ چالیس برس میں پہلی ایسی نسل ہیں جس کے پیچھے سندھ اسمبلی کا ایک باقاعدہ قانونی ایکٹ موجود ہے۔ اسے اپنی طاقت بنائیں۔ کلاس رومز، لیبارٹریوں اور ووٹوں کے بکسوں کو اپنی طاقت بنائیں، اور ہتھیاروں کو یونیورسٹی کے دروازے سے باہر ہی پھینک کر آئیں۔

یونیورسٹی وہ درس گاہ ہے جہاں سندھ کا ایک غریب طالب علم پرکھنا، تعمیر کرنا اور بغیر خون بہائے اپنا حق حاصل کرنا سیکھتا ہے۔ آئیے جامشورو کو دوبارہ علم، وقار اور دلیل کی طاقت کا مرکز بنائیں!

علم سے طاقتور نوجوانو! سندھ کو آپ ہی آگے لے کر چلیں گے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے