ہندو خواتین کے وراثتی حقوق: سندھ اسمبلی قوانین میں ترمیم کرسکتی ہے، سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کردیا گیا

0

سندھ حکومت کے محکمہ اقلیتی امور کے سیکریٹری نے سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی ہندو برادری کے وراثتی قوانین میں ترمیم، تدوین اور اصلاحات کرنے کی مجاز ہے۔ یہ مؤقف ہندو خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین میں تبدیلی کی درخواست پر جمع کرائے گئے تحریری جواب میں پیش کیا گیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں نافذ ہندو وراثتی قانون کی بعض روایتی تشریحات کے باعث خواتین کو خاندانی جائیداد میں وراثت سے محرومی کا سامنا ہے، جو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق اور صنفی مساوات کے اصولوں سے متصادم ہے۔

محکمہ اقلیتی امور کے سیکریٹری نے کہا کہ ہندوؤں کے شخصی قوانین سے متعلق معاملات قانون سازی اور پالیسی اصلاحات کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ قوانین میں تبدیلی کا اختیار صوبائی اسمبلی اور متعلقہ محکمے کے پاس ہے، بشرطیکہ قانون سازی آئینی حدود کے مطابق ہو۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ معاملہ قانون سازی سے متعلق ہونے کے باعث درخواست نمٹا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ہندو شادیوں کے قانون سمیت دیگر قانونی ضوابط مذہبی برادری کے حقوق کو تسلیم کرنے کا نظام فراہم کرتے ہیں۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ہندو قانون کے میتاکشرا نظام کے تحت مشترکہ خاندانی جائیداد میں خواتین، بالخصوص بیٹیوں، کے وراثتی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ درخواست میں آئینِ پاکستان اور خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کا حوالہ بھی دیا گیا۔

جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے دیگر فریقین کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے متعلقہ قانونی افسر کو ہدایت کی۔ اس مرحلے پر عدالت نے وراثتی قوانین میں ترمیم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے