کراچی میں بچوں سے متعلق فحش اینیمیٹڈ مواد کے کیسز، 13 ملزمان جسمانی ریمانڈ
کراچی میں بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مبینہ اینیمیٹڈ مواد تیار کرنے اور آن لائن فروخت کرنے کے مقدمات میں عدالت نے 13 ملزمان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحویل میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا۔
این سی سی آئی اے کراچی زون نے 23 اکتوبر کو گلستانِ جوہر کے علاقے رابِعہ سٹی میں تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے دوران ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ حکام کے مطابق ان کمپنیوں پر مبینہ طور پر جنسی نوعیت کے اینیمیٹڈ کارٹون، بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ڈیجیٹل مواد اور دیگر ڈیزائننگ خدمات غیر ملکی صارفین کو فروخت کرنے کے الزامات ہیں۔
حکام نے 13 ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کرکے مزید تفتیش کے لیے تحویل کی استدعا کی۔ تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار افراد کے موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے ہیں، جن کا تکنیکی اور فرانزک تجزیہ کیا جانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران کمپنی مالکان اور ملازمین سمیت مجموعی طور پر 42 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 45 موبائل فون ضبط کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر انسٹاگرام اور ایکس سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی شناختوں کے ذریعے غیر ملکی صارفین سے رابطے کرتے تھے۔