سندھ میں خوردنی تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے سرسوں کی کاشت میں اضافہ
سندھ میں ربیع کی فصلوں کی بوائی شروع ہونے کے ساتھ کاشت کار خوردنی تیل کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے سرسوں سمیت دیگر تیل دار فصلوں کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ اس رجحان سے پاکستان کو خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرمبادلہ بچانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم آب پاشی کے پانی کی قلت زرعی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
روزنامہ ڈان کے مطابق، ارسا نے ربیع کے سیزن میں آب پاشی کے پانی کی 22 فیصد کمی کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے باوجود سندھ کے کاشت کار سرسوں کی کاشت بڑھا رہے ہیں، کیونکہ اس پر لاگت نسبتاً کم آتی ہے اور مالی منافع کے امکانات بہتر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025-26 میں 3.48 ملین ٹن پام آئل درآمد کیا، جس پر 3.78 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ مجموعی طور پر 2025 میں خوردنی تیل کی درآمدات کا بل 5.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ ملک میں مقامی پیداوار صرف 531,000 ٹن رہی۔
سندھ میں سرسوں کی کاشت کا رقبہ 2021 میں 51,870 ہیکٹر سے بڑھ کر 2025 میں 61,165 ہیکٹر ہوگیا۔ اس کے برعکس سورج مکھی کی کاشت میں نمایاں کمی آئی، کیونکہ بیج، کھاد، زمین کی تیاری اور آب پاشی کے اخراجات بڑھنے سے کاشت کاروں کے لیے اس فصل کو منافع بخش بنانا مشکل ہوگیا ہے۔
کاشت کاروں کے مطابق سرسوں کم لاگت میں تیار ہوتی ہے اور تقریباً 120 دن میں پک جاتی ہے، جس کے بعد دوسری فصل کاشت کرنے کی گنجائش بھی رہتی ہے۔
وفاقی سطح پر نظرثانی شدہ پروگرام کے تحت تل کی کاشت 200,000 ایکڑ اور ارنڈی کی کاشت 150,000 ایکڑ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں تیل دار فصلوں کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے پانی کی دستیابی، کسانوں کو بہتر منافع اور مؤثر زرعی پالیسی ضروری ہیں۔