پروفیسر محمد پنہل ڈہر کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت، کتاب کی تقریبِ رونمائی

0
857887949_1591688085448312_4319791022121944923_n

ڈہرکی: سندھی ادبی سنگت شاخ ڈہرکی کے زیرِ اہتمام نامور محقق، ادیب اور مصنف پروفیسر محمد پنہل ڈہر کی یاد میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ڈہرکی میں تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں سیاسی، سماجی، علمی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرحوم کی علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ ان کی تصنیف ’’بھنبھے زمیندار جی گالھہ‘‘ کی تقریبِ رونمائی بھی ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف سندھی ادیب پروفیسر سرور سیف نے کی، جبکہ خصوصی مہمانوں میں ڈہرکی بار کے صدر جام عبدالفتاح سمیجو، کالم نگار محمد سلیمان مہر اور اسسٹنٹ کمشنر میرپور ماتھیلو ڈاکٹر رانا حسیب احمد شامل تھے۔ مقررین نے بتایا کہ پروفیسر محمد پنہل ڈہر نے اپنی ذاتی لائبریری میں تاریخ سمیت مختلف موضوعات پر تقریباً 15 ہزار کتابیں جمع کرکے محفوظ کی تھیں۔ ان کی زندگی میں چھ کتابیں شائع ہوئیں، جبکہ وفات کے بعد ان کے تحقیقی کام پر مشتمل مزید 15 سے 20 کتابوں کا مواد موجود ہے، جسے کتابی شکل دینے کے لیے وسائل درکار ہیں۔ تقریب میں ادبی شخصیات، مرحوم کے صاحبزادوں اظہر علی اور مظہر ڈہر، ان کے بھائی پٹھان ڈہر، صحافیوں اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ اس موقع پر شاعر جی ایم لاڑک نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ نوجوان شاعر شاہنواز پتافی نے شیخ ایاز کی وائی پیش کی۔ استاد مفتون کورائی، علی منصور پٹھان اور محمد حسن مجبور بھگیو نے شاعری کے ذریعے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے