کیا کینجھر جھیل بھی منچھر جھیل بن جائے گی؟
منچھر جھیل کی آلودگی کی داستان ابھی پرانی نہیں ہوئی کہ سندھ کے ایک اور اہم آبی ذخیرے، کینجھر جھیل، کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ضلع ٹھٹہ میں واقع یہ جھیل مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ کراچی کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر صنعتی فضلے سے اس کے پانی کا معیار متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات ماحول، مقامی آبادی اور کراچی کی آبی ضروریات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
کینجھر جھیل، جسے کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے، سندھ کے اہم میٹھے پانی کے ذخائر میں شامل ہے۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے کے لیے کے فور منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ ایسے میں جھیل کے پانی کا تحفظ محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ شہر کی مستقبل کی آبی ضروریات اور مقامی لوگوں کی زندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
صاف پانی صنعتوں کے لیے، گندا پانی جھیل میں کیوں؟
نوری آباد صنعتی زون میں ٹیکسٹائل، کیمیکل، کاغذ، ماربل اور بجلی کی پیداوار سمیت مختلف شعبوں کی صنعتیں کام کر رہی ہیں۔ یہ ادارے اپنی سرگرمیوں کے لیے پانی استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر صنعتی فضلے کو مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر خارج کیا جائے تو اس سے زمین، آبی ذخائر، مچھلیوں اور انسانی صحت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
کینجھر کنزرویشن نیٹ ورک نے نوری آباد کی صنعتوں سے مبینہ طور پر خارج ہونے والے گندے اور کیمیائی پانی کے جھیل کے آبی نظام تک پہنچنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ نیٹ ورک کے سرکردہ کارکن ارشاد عمر گندرو نے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی فضلے کے اخراج کی جانچ کی جائے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
نوری آباد صنعتی زون سے روزانہ آٹھ سے دس ملین گیلن صنعتی فضلہ خارج ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس مقدار اور کینجھر جھیل تک فضلے کی رسائی کی تصدیق کے لیے تازہ سرکاری اعداد و شمار اور سائنسی تحقیقات ضروری ہیں۔
محکمۂ ماحولیات ٹھٹہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نوری آباد کا صنعتی فضلہ کینجھر جھیل میں شامل ہونے سے پانی کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق صنعتی علاقوں کے زہریلے پانی کو صاف کرنے کے بعد خارج کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فیکٹری مالکان اور دیگر متعلقہ ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو جھیل کو آلودگی سے پاک رکھا جا سکتا ہے۔
یہ بیان صنعتی آلودگی کی روک تھام میں صنعتوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے ضروری ہے کہ صنعتی فضلے کی صفائی اور اخراج کی نگرانی محض کوششوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔
نوری آباد کا ٹریٹمنٹ پلانٹ غیر فعال
صنعتی فضلے کو صاف کرنے کے لیے مشترکہ صفائی کے پلانٹ کی فعالیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ نوری آباد صنعتی زون کے ذرائع کے مطابق وہاں قائم ٹریٹمنٹ پلانٹ غیر فعال ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات جامشورو، قطب الدین درس نے بھی نوری آباد میں ٹریٹمنٹ پلانٹ کے غیر فعال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان کے مطابق پلانٹ کو جلد مکمل طور پر فعال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ٹریٹمنٹ پلانٹ کی غیر فعالیت کے اعتراف کے بعد اس کی بحالی اور مؤثر آپریشن اہم سوال بن جاتا ہے۔ پلانٹ کو فعال کرنے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ وہ صنعتی فضلے کی مقدار کے مطابق کام کرے اور صاف کیے گئے پانی کا معیار مقررہ ماحولیاتی حدود کے مطابق ہو۔
متعلقہ اداروں کو صنعتی فضلے کے اخراج کے راستوں کی نشاندہی، پانی کے نمونوں کی جانچ اور نتائج کی شفاف اشاعت کو ترجیح دینی چاہیے۔ گندے پانی کو مقررہ معیار کے مطابق صاف کیے بغیر خارج کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
آبی حیات اور انسانی صحت کو خطرات
کینجھر جھیل مچھلیوں، دیگر آبی جانداروں اور نقل مکانی کرنے والے پرندوں کا اہم مسکن ہے۔ صنعتی فضلے میں موجود بعض کیمیائی مادے اور بھاری دھاتیں پانی میں شامل ہو جائیں تو آبی حیات متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض مضر مادے مچھلیوں کے جسم میں جمع ہو کر غذائی زنجیر کے ذریعے انسانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
آلودگی سے مچھلیوں کی افزائش، ماہی گیروں کے روزگار اور جھیل کے قدرتی توازن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح پانی میں جراثیم یا نقصان دہ کیمیائی مادوں کی موجودگی انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز سمیت متعلقہ تحقیقی اداروں کو کینجھر جھیل کے پانی کے معیار کی جانچ کرنی چاہیے۔ پانی میں مضر کیمیائی مادوں، بھاری دھاتوں اور جراثیم کی موجودگی کا تعین کرکے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ آلودگی کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
مقامی آبادی کے حقوق بھی اہم ہیں
کینجھر جھیل کے گرد آباد لوگوں کا روزگار اور روزمرہ زندگی اس قدرتی ذخیرے سے وابستہ ہے۔ ماہی گیری، مویشیوں کے لیے پانی اور دیگر مقامی ضروریات کے لیے جھیل کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مقامی ماہیگیر رہنما انیس ہیلایو کے مطابق، مقامی باشندوں کے قدیم گھاٹوں سے ٹینکروں کے ذریعے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر پانی نکالا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام پانی نکالنے کی قانونی حیثیت، اجازت ناموں اور مقدار کی جانچ کریں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کریں۔
حکام کو ان شکایات کی شفاف تحقیقات کرکے مقامی آبادی کے جائز حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ان کی حفاظت اور ان پر انحصار کرنے والے لوگوں کے مفادات کو بھی یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔
کینجھر کو بچانے کے لیے عملی اقدامات ضروری
کینجھر جھیل کے تحفظ کے لیے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، محکمۂ ماحولیات، ضلعی انتظامیہ، محکمۂ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ نوری آباد کے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو مکمل فعال کرنا، صنعتی فضلے کی جانچ، پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی اور نتائج کی اشاعت ترجیح ہونی چاہیے۔
کینجھر کنزرویشن نیٹ ورک نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ جھیل میں صنعتی آلودگی کے ممکنہ اخراج کو روکا جائے، غیر قانونی طور پر پانی نکالنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
منچھر جھیل کا تجربہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ قدرتی آبی ذخائر کی آلودگی کو بروقت روکنا کتنا ضروری ہے۔ کینجھر جھیل کو بھی ایسی صورت حال سے بچانے کے لیے محض وعدے کافی نہیں۔ اس کے لیے صنعتی اداروں کی ذمہ داری، سرکاری نگرانی، سائنسی تحقیقات اور قانون پر عمل درآمد ضروری ہے۔
کینجھر جھیل صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ مقامی آبادی کی زندگی، ماہی گیروں کے روزگار، آبی حیات اور قدرتی ماحول کا قیمتی اثاثہ ہے۔ کراچی کی پانی کی ضروریات کے پیش نظر اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ صنعتیں اور متعلقہ سرکاری ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ کینجھر کا صاف پانی صنعتوں اور شہروں کی ضرورت ہے، لیکن اسے آلودگی سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔