aijaz ahmed qureshi

سندھ کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ، سیاسی جدوجہد، سماجی تبدیلیوں اور معاشی وسائل کے پس منظر کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ سندھ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ہزاروں سال کی تہذیب، ثقافت، زبان، علم اور تاریخ کا امین خطہ ہے۔ موئن جو دڑو کی عظیم تہذیب سے لے کر سومروں، سمن، کلہوڑوں اور تالپوروں کی حکمرانی تک، سندھ نے برصغیر کی تاریخ میں اپنی الگ شناخت اور اہمیت برقرار رکھی ہے۔ دریائے سندھ کی زرخیز وادی، بحیرۂ عرب تک رسائی، تجارت کے قدیم راستے اور ثقافتی ورثہ سندھ کو صدیوں سے ایک اہم معاشی اور تہذیبی مرکز بناتے رہے ہیں۔

لیکن افسوس کہ آج سندھ کو جن سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے، انہیں سمجھنے کے بجائے بہت سے لوگ تعصب، تنگ نظری اور تاریخ سے ناواقفیت کی بنیاد پر ان پر بحث کرتے ہیں۔ سندھ کے حقوق، سندھی زبان، ثقافت، وسائل اور تاریخی حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھانے کو بعض اوقات اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جیسے یہ کسی دوسری قوم یا زبان بولنے والے لوگوں کے خلاف مطالبات ہوں، حالانکہ حقیقت میں ان معاملات کا تعلق انصاف، آئینی حقوق اور تاریخی شناخت سے ہے۔

سندھ کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دریائے سندھ نے اسے زرعی اعتبار سے مالا مال کیا، جبکہ بحیرۂ عرب اور کراچی کی بندرگاہ نے اسے بین الاقوامی تجارت سے منسلک کیا۔ کراچی صدیوں سے ایک اہم بحری اور تجارتی مرکز رہا ہے، لیکن برطانوی دور میں بندرگاہ، ریلوے اور تجارتی روابط کی ترقی کے باعث اس کی اہمیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ قیامِ پاکستان کے وقت بھی کراچی سندھ کا دارالحکومت اور ملک کی سب سے اہم بندرگاہ تھا۔ آزادی کے بعد وفاقی دارالحکومت بننے سے شہر کی سیاسی، انتظامی اور معاشی حیثیت میں مزید تبدیلیاں آئیں، جن کے اثرات نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کی سیاسی اور سماجی زندگی پر مرتب ہوئے۔

سندھ کی جدید سیاسی تاریخ میں 1843ء ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے جنرل چارلس نیپئر کی قیادت میں جنگِ میانی کے دوران تالپور حکمرانوں کو شکست دی اور سندھ پر برطانوی قبضہ قائم ہوگیا۔ اس کے بعد جنگِ دُبّہ بھی سندھ پر قبضے کی مہم کا ایک اہم واقعہ تھی۔ 1847ء میں سندھ کو انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کے ساتھ منسلک کردیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی الگ سیاسی حیثیت ختم ہوگئی۔

برطانوی حکومت نے سندھ میں ریلوے، بندرگاہوں، آبپاشی اور انتظامی نظام کو وسعت دی، لیکن ان منصوبوں کو صرف عوامی فلاح کا نتیجہ قرار دینا تاریخ کی مکمل تشریح نہیں ہوگی۔ برطانوی نوآبادیاتی نظام کا بنیادی مقصد اپنے اقتدار کو مستحکم کرنا، تجارت کو فروغ دینا اور مقامی وسائل سے اپنے سامراجی مفادات کے لیے فائدہ اٹھانا بھی تھا۔ سندھ کی جغرافیائی حیثیت اور سمندری بندرگاہ انگریزوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے تھے، کیونکہ ان کے ذریعے برصغیر کے اندرونی علاقوں کو عالمی تجارت سے منسلک کرنا آسان ہوگیا تھا۔

برطانوی دور میں زمین، آبپاشی، تجارت اور محصولات سے متعلق پالیسیوں نے معاشرے کی ساخت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان تبدیلیوں سے بعض معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملا، جبکہ متعدد معاملات میں مقامی لوگوں کے مفادات، جاگیردارانہ نظام اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے نئے مسائل بھی پیدا ہوئے۔

سندھ کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ یکم اپریل 1936ء کو آیا، جب سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبہ بنایا گیا۔ اس جدوجہد میں سندھ کے سیاسی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور عوام نے اہم کردار ادا کیا۔ سندھ کی علیحدہ صوبائی حیثیت بحال ہونے سے اس کی سیاسی شناخت کو نئی قوت ملی اور مقامی لوگوں کے لیے اپنے انتظامی اور سیاسی معاملات میں زیادہ نمائندگی کے امکانات پیدا ہوئے۔ اس وقت بھی کراچی سندھ کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ تجارت، بندرگاہ اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ اس لیے کراچی کی حیثیت کو سمجھنے کے لیے سندھ کی صوبائی خودمختاری کی تاریخ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کے قیام کی تحریک میں سندھ کا کردار نہایت اہم تھا۔ سندھ اسمبلی نے 3 مارچ 1943ء کو پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی، جو برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ یاد رہے کہ یہ قرارداد محترم جی۔ ایم۔ سید نے پیش کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ کی سیاسی قیادت نے پاکستان کے مطالبے کی حمایت میں اپنا الگ اور نمایاں کردار ادا کیا۔ لہٰذا پاکستان کی تاریخ لکھتے وقت سندھ کی سیاسی جدوجہد، اس کے رہنماؤں اور سندھ کے عوام کے کردار کو مناسب اہمیت دینا ضروری ہے۔ سندھ اور پاکستان کی تاریخ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، لیکن اس تعلق کا احترام کرتے ہوئے سندھ کی الگ تاریخی، ثقافتی اور لسانی شناخت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے ساتھ برصغیر کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ہندوستان کے بعض علاقوں میں ہندو مسلم فسادات کے باعث لاکھوں انسانوں کو اپنے گھر، زمینیں، کاروبار اور سماجی تعلقات چھوڑنے پڑے۔ بہت سے لوگ تشدد، خوف اور غیر یقینی صورتِ حال کے باعث ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

سندھ میں تقسیمِ ہند کے اثرات دوسرے کئی علاقوں سے مختلف تھے۔ سندھ چونکہ مسلم اکثریتی صوبہ تھا، اس لیے ہندوؤں کی ہجرت کا کوئی جواز نہیں تھا، لیکن ایک سازش کے تحت 1948ء میں کراچی میں مصنوعی طور پر ہندو مسلم فسادات کرائے گئے، جس کے نتیجے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوئی اور سندھ سے بڑی تعداد میں ہندو خاندان ہندوستان ہجرت کرگئے۔ دوسری طرف ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمان خاندان سندھ آکر آباد ہوئے۔ ان میں اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد شامل تھی، جنہوں نے بالخصوص کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز میں نئی آبادیاں قائم کیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہجرت کے راستے، حکومتی فیصلے، آبادکاری کی پالیسیاں اور لوگوں کے ذاتی تجربات مختلف تھے۔ بہت سے خاندان اپنے فیصلوں، خوف اور حالات کی مجبوری کے تحت سندھ آئے، جبکہ متعدد خاندانوں کو نئے ملک میں رہائش، روزگار اور سماجی زندگی کی ازسرِنو تعمیر کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مورخ سارہ انصاری نے اپنی کتاب Life after Partition: Migration, Community and Strife in Sindh, 1947–1962 میں تقسیم کے بعد سندھ میں ہجرت، آبادکاری اور مقامی لوگوں کے ساتھ مہاجرین کے تعلقات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ اس نوعیت کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم کے بعد سندھ میں آبادی کی تبدیلی محض لوگوں کی آمدورفت کا معاملہ نہیں تھی، بلکہ اس سے شہری معیشت، سرکاری انتظام، زبان، سیاسی نمائندگی اور سماجی تعلقات میں بھی بنیادی تبدیلیاں آئیں۔

سندھ میں آباد ہونے والے مہاجر خاندانوں میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی محنت، تعلیم، تجارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے میں اہم مقام حاصل کیا۔ ان کی قربانیوں، مشکلات اور نئی زندگی کی تعمیر کی کوششوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح مقامی سندھیوں کے ان خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جو شہری انتظام، روزگار، زمینوں، زبان اور سیاسی نمائندگی میں تبدیلیوں سے وابستہ تھے۔ مقامی سندھیوں کو محسوس ہوا کہ آبادی میں غیرمعمولی اضافے سے ان کی تاریخی اور سیاسی حیثیت متاثر ہورہی ہے۔

ان احساسات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی سندھیوں اور تقسیم کے بعد آنے والے لوگوں، دونوں کے تاریخی تجربات کو انصاف کے ساتھ دیکھا جائے۔ متروکہ املاک کا قانون اور اس نوعیت کے دوسرے قوانین منظور کیے گئے، جن پر سندھ میں عمل درآمد تاریخی حقائق کے برعکس تھا۔

کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانا پاکستان کے ابتدائی دور کا ایک اہم سیاسی فیصلہ تھا۔ 1947ء میں کراچی پاکستان کا وفاقی دارالحکومت بنا اور 1948ء میں اسے سندھ کے صوبائی انتظام سے الگ کرکے وفاقی انتظام کے تحت دے دیا گیا۔ اس فیصلے نے سندھ کی سیاسی اور انتظامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

کراچی نہ صرف سندھ کا دارالحکومت تھا بلکہ سندھ کی تجارت، بندرگاہ، تعلیمی اداروں اور سیاسی سرگرمیوں کا بھی اہم مرکز تھا۔ اس کے وفاقی انتظام کے تحت آنے سے سندھ کو معاشی اور سماجی طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچا اور سندھی زبان، تہذیب اور ثقافت پر انتہائی نقصان دہ اثرات مرتب ہوئے۔

سندھ یونیورسٹی، جو پہلے کراچی میں قائم تھی، 1951ء میں حیدرآباد منتقل کردی گئی۔ کراچی کی علیحدگی کو سندھ کے عوام اور سیاسی حلقوں نے صوبائی خودمختاری اور مقامی حقوق کے حوالے سے ایک نقصان دہ فیصلہ قرار دیا، جس کے نتیجے میں سیاسی اور سماجی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا۔

مورخ اسماء فیض نے اپنی کتاب In Search of Lost Glory: Sindhi Nationalism in Pakistan میں تقسیم کے بعد سندھی قوم پرستی، مہاجرین کی آبادکاری اور مرکز کے ساتھ سندھ کے تعلقات پر اہم بحث کی ہے۔

کراچی کے مسئلے کو صرف کسی ایک زبان بولنے والی برادری کی آبادی یا ملکیت سے منسلک کرنا درست نہیں ہوگا۔ کراچی سندھ کا تاریخی شہر، پاکستان کی معیشت کا اہم مرکز اور مختلف زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کا مشترکہ شہر ہے۔ شہر کی ترقی کے لیے سندھ کے آئینی حقوق، کراچی کے رہائشیوں کی بنیادی ضروریات اور وفاقی ذمہ داریوں کے درمیان توازن ضروری ہے۔

شہر کے وسائل، زمینوں، پانی، ٹرانسپورٹ، روزگار اور انتظامی اختیارات کے بارے میں فیصلے اس انداز میں کیے جانے چاہییں کہ مقامی آبادی کے جائز مفادات کا تحفظ ہو اور دوسرے رہائشیوں کے قانونی حقوق بھی برقرار رہیں۔آج سندھ کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں پانی کی تقسیم، زرعی زمینوں کا تحفظ، قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منصفانہ تقسیم، صنعتی روزگار، ماحولیاتی تباہی اور شہری سہولتوں کی کمی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

دریائے سندھ سندھ کی زراعت اور معیشت کا بنیادی سہارا ہے۔ 1991ء کا بین الصوبائی آبی معاہدہ پاکستان کی آبی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد، زیریں علاقوں میں پانی کی ضرورت اور سندھ کے ڈیلٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔

پانی کی قلت سے نہ صرف آبادگاروں اور کسانوں کی معیشت متاثر ہوتی ہے، بلکہ سمندری پانی کی زمینوں میں پیش قدمی، زمین کی نمکیات میں اضافہ، ماہی گیری اور ڈیلٹا کے حیاتیاتی نظام کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سندھ قدرتی وسائل کے لحاظ سے بھی ایک اہم صوبہ ہے۔ گیس، تیل، کوئلے اور دوسرے قدرتی وسائل پیدا کرنے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو صاف پانی، صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور ماحولیاتی تحفظ کی مناسب سہولتیں ملنی چاہییں۔

قدرتی وسائل سے پیدا ہونے والی دولت کے فوائد صرف بڑے شہروں یا صنعتی مراکز تک محدود رہنے کے بجائے مقامی آبادی تک بھی پہنچنے چاہییں۔ معاشی انصاف کا مطلب کسی دوسرے صوبے یا برادری کے حقوق سے انکار نہیں، بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، شفاف حکمرانی اور قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔ سندھی زبان اور ثقافت سندھ کی تاریخی شناخت کا بنیادی حصہ ہیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، سامی اور دوسرے شعرا نے سندھ کی فکری، روحانی اور ادبی روایات کو مالا مال کیا۔

سندھی زبان کا تحفظ اور فروغ محض ثقافتی جذبے کا معاملہ نہیں، بلکہ تاریخی شناخت، تعلیم، علم، روزگار اور سماجی مساوات سے بھی وابستہ ہے۔ سندھی زبان کو تعلیمی اداروں، سرکاری معاملات، ذرائع ابلاغ، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیقی سرگرمیوں میں مناسب مقام ملنا چاہیے۔

سندھ کی تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب بھی انتظامی اور سیاسی فیصلے مقامی لوگوں کے اعتماد، مناسب نمائندگی اور آئینی حقوق کو نظرانداز کرکے کیے گئے، تو سیاسی بے چینی اور بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔ کراچی کا وفاقی دارالحکومت بننا، تقسیم کے بعد آبادی میں تبدیلیاں، زبان کے مسائل اور صوبائی خودمختاری سے متعلق تنازعات کو اسی وسیع تاریخی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ ان مسائل کا حل پالیسیوں، اداروں اور حکومتی فیصلوں کا شفاف جائزہ لینے میں ہے۔ سندھ کے تمام شہروں میں قانون کی بالادستی، زمینوں کے تحفظ، غیرقانونی قبضوں کی روک تھام، روزگار کے منصفانہ مواقع اور معیاری تعلیم کے لیے واضح اور عملی پالیسیاں اختیار کی جانی چاہییں۔

سندھ کے حقوق کا دفاع کرنے کا مطلب دوسری برادریوں سے دشمنی کرنا نہیں ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں ہر فرد کی شناخت، عزت، قانونی شہریت اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ صوبوں کی آئینی خودمختاری، مقامی وسائل میں جائز حصے اور ثقافتی شناخت کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ کسی سے نفرت کرنا نہ تاریخی انصاف ہے اور نہ ہی پائیدار امن کا راستہ۔ تاہم سندھ کے قدیم باشندوں اور ان کی نسلوں کا اپنی دھرتی کے وسائل پر پہلا حق تسلیم کرنا، آبادی کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔

سندھ کے مستقبل کا انحصار ایسی پالیسی پر ہے جو تاریخی حقائق کو تسلیم کرے، مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرے، دوسری برادریوں کے ساتھ انصاف کرے اور وفاقی نظام میں اعتماد بحال کرے۔ سندھ کو تعلیم، روزگار، سیاسی اختیارات، ماحولیاتی تحفظ، پانی کی منصفانہ تقسیم اور شفاف حکمرانی کی ضرورت ہے۔ ایسی ترقی ضروری ہے جو سندھ کی شناخت کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرے اور سندھ کے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد عام لوگوں تک پہنچائے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ قوموں کے مسائل محض جذباتی تقریروں اور سیاسی نعروں سے حل نہیں ہوتے۔ ان کے حل کے لیے علم، دلیل، قانون، جمہوری رویے اور سیاسی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔

سندھ کے تاریخی حقوق کا مؤثر دفاع وہی ہے جو مستند حقائق پر مبنی ہو، انسانی احترام کو برقرار رکھے اور آنے والی نسلوں کے لیے امن، انصاف اور خوشحالی کی راہ ہموار کرے۔ سندھ کی تہذیب، زبان اور وسائل کا تحفظ صرف سندھ کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان کی وفاقی وحدت اور مشترکہ مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے