جیجی زرینہ بلوچ کی شخصیت اور ان کی علمی و ادبی خدمات

0
30639794-b171-4cf7-ae40-b3260d4d497b

دسمبر 1934ء میں حیدرآباد کے قریب گاؤں الہداد چنڈ میں جنم لینے والی زرینہ بلوچ کا اصل نام آمنہ تھا۔ ان کے والد محمد موسیٰ جلالانی سرکاری ملازم تھے۔ اس دور کے سماجی ماحول میں خواتین کے لیے موسیقی کے میدان میں آگے بڑھنا کوئی آسان کام نہیں تھا، جبکہ ان کے خاندان میں بھی گانے بجانے کو خاص اہمیت حاصل نہیں تھی۔ ایسے حالات میں والد کی روشن خیالی نے ان کی تعلیم کے دروازے کھول دیے۔ زرینہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھی اور فائنل، ادیب اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ ان کا تعلیمی سفر اس بات کا ثبوت تھا کہ مناسب مواقع میسر آنے پر خواتین بھی اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر معاشرے میں اپنا الگ مقام پیدا کر سکتی ہیں۔

تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ زرینہ کی موسیقی سے محبت بھی بڑھتی رہی۔ اسکول میں دادی لیلان کو گاتے ہوئے سننا ان کی زندگی کے ان واقعات میں شامل تھا، جنہوں نے ان کے اندر پوشیدہ فنکارانہ صلاحیت کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے علاوہ نارو بھگت اور رقیہ خانم جیسے فنکاروں کی گائیکی نے بھی انہیں متاثر کیا۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تربیت دادی لیلان سے حاصل کی۔ اس دور میں جب خواتین کی فنی سرگرمیوں کو کئی سماجی پابندیوں کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

ریڈیو حیدرآباد میں پہلی بار آڈیشن دینے کے موقع پر انہیں کامیابی نہیں ملی۔ اس آڈیشن کا انتظام ذکا درانی نے کیا تھا اور زرینہ نے برقعے میں بیٹھ کر اپنی آواز کا امتحان دیا تھا۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے باوجود انہوں نے اپنے شوق سے دست برداری اختیار نہیں کی۔ ان کا سفر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ فن کے میدان میں صلاحیت کے ساتھ صبر، مسلسل مشق اور حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ زرینہ نے ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے موسیقی کی دنیا میں اپنے لیے ایک نمایاں مقام پیدا کیا۔

موسیقی سے بڑھتی ہوئی وابستگی کے باوجود زرینہ نے تعلیم کے شعبے میں اپنی ذمہ داریوں سے بھی منہ نہیں موڑا۔ 1960ء میں انہیں ٹیچرز ٹریننگ کالج فار ویمن، حیدرآباد میں بطور استاد مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے سندھ یونیورسٹی کے ماڈل اسکول میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ تقریباً 36 سال تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہنے کے بعد انہوں نے 1996ء میں ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنے فن کو محض ذاتی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے علم کی خدمت کو بھی یکساں اہمیت دیتی تھیں۔ طلبہ کی تربیت اور قومی شعور کے فروغ، دونوں شعبوں میں ان کا کردار ان کی شخصیت کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

جیجی زرینہ بلوچ کی زندگی کا سیاسی پہلو بھی ان کے فنی سفر جتنا ہی اہم تھا۔ وہ سندھ کے نامور سیاسی رہنما رسول بخش پلیجو کی شریکِ حیات تھیں اور ان کی سیاسی جدوجہد میں ساتھ دیتی رہیں۔ انہوں نے قومی تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔ سندھیاني تحریک سے ان کی وابستگی، سیاسی اجتماعات میں شرکت اور عوامی جدوجہد میں حصہ لینا ان کے اپنے سیاسی شعور کا اظہار تھا۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں انہیں جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

سندھ کے قومی گیتوں کو مقبول بنانے کے ساتھ ساتھ زرینہ بلوچ نے لوک موسیقی کے تحفظ کے لیے بھی قابلِ ذکر کوششیں کیں۔ سندھ کے دیہات میں نسلوں سے گائے جانے والے متعدد گیت زبانی روایات کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے رہے ہیں۔ ایسے گیتوں کی اصل صورت کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف انہیں گانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان کے بول، دھنوں اور پس منظر کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ زرینہ بلوچ نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قدیم لوک گیت جمع کیے، ان کی زبان کو سنوارا اور دھنوں کی ترتیب پر کام کیا۔ ان کی کوششوں سے کئی روایتی گیتوں کو ایسی فنی شکل ملی کہ وہ ریڈیو اور دیگر ذرائع کے ذریعے وسیع حلقۂ سامعین تک پہنچ سکے۔

ان کی آواز کو پاکستان کی سرحدوں سے باہر بھی سامعین تک پہنچنے کا موقع ملا۔ ان کی آڈیو کیسٹوں کو بازار میں مقبولیت حاصل ہوئی، جبکہ امریکہ، برطانیہ، دبئی، بھارت اور کینیڈا سمیت مختلف مقامات پر انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان دوروں اور پیشکشوں نے سندھی موسیقی کو دیگر معاشروں تک پہنچانے میں مدد دی۔ ان کے فن کی اہمیت اس پہلو سے بھی نمایاں تھی کہ وہ سندھ کی لوک اور قومی روایات کو اپنی آواز کے ذریعے ایسے انداز میں پیش کرتی تھیں کہ یہ روایات اپنی مقامی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دوسری زبانوں اور ثقافتوں سے بھی تعلق قائم کر سکتی تھیں۔

جیجی زرینہ بلوچ کی کثیرالجہتی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کا ادبی ذوق اور لکھنے کی صلاحیت تھی، جس کا ذکر ان کی موسیقی کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ وہ کہانیاں لکھتی تھیں اور ان کی پہلی کہانی ماہنامہ رسالے ’’روح رهان‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس کہانی کا موضوع ’’میں تجھے گیت دوں، اے دھرتی‘‘ تھا۔ ان کی تحریر کردہ اور ترجمہ شدہ کہانیوں پر مشتمل کتاب ’’تنهنجي گولا، تنهنجون گالهيون‘‘ یعنی تیری تلاش  ، تیری باتیں بھی شائع ہوئی۔ ان کی ادبی سرگرمیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خیالات اور احساسات کو صرف آواز ہی کے ذریعے نہیں، بلکہ تحریر کے وسیلے سے بھی بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ لکھنے اور گانے، دونوں ذرائع سے ان کی توجہ دھرتی، انسانوں اور ان کے اجتماعی احساسات پر مرکوز رہی۔

قومی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ان کے تعلقات احترام اور قربت پر مبنی تھے۔ سائیں جی۔ ایم۔ سید سمیت متعدد قومی رہنماؤں کے ہاں انہیں عزت و احترام حاصل تھا۔ قومی اجتماعات میں ان کی شرکت اور قومی شاعری کی پیشکش تحریک سے وابستہ افراد کے لیے جذباتی اہمیت رکھتی تھی۔ وہ اپنے فن کو سماجی اور قومی مقاصد سے الگ نہیں سمجھتی تھیں۔ ان کی آواز ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتی تھی، جس میں شاعری، موسیقی اور سیاسی جدوجہد ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شناخت ایک کامیاب فنکارہ سے بڑھ کر قومی شعور اور ثقافتی وابستگی کی علامت بن گئی۔

جیجی زرینہ بلوچ کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کی شخصیت کے مختلف پہلو ایک دوسرے سے جدا نظر نہیں آتے۔ ایک استاد کی حیثیت سے انہوں نے علم کی روشنی پھیلائی، فنکارہ کے طور پر لوک موسیقی اور شاعری کو نئی زندگی دی، قومی کارکن کی حیثیت سے عوامی بیداری کے لیے کام کیا اور مصنفہ کے طور پر اپنے افکار کو تحریر کا روپ دیا۔ ان کی جدوجہد اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ خواتین کی صلاحیتوں کو سماجی روایات کے محدود دائرے میں قید کرنے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے