کراچی پریس کلب کے باہر اساتذہ کا دھرنا، مطالبات منظور ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
صوبے کے مختلف اضلاع کے پرائمری اسکول اساتذہ نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے اور اسکول نہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے کارکنوں نے بدھ کو کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دیا اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کی کوشش کی، تاہم پولیس نے راستہ روک لیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کیا، جس سے متعدد اساتذہ زخمی ہوئے جبکہ 42 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کی یقین دہانی کے بعد زیرحراست افراد کی رہائی کا عمل شروع کیا گیا۔
اساتذہ کے 14 مطالبات میں سروس اسٹرکچر کی بحالی، ترقیوں اور گریڈز میں اضافے، تقرری سے سروس شمار کرنے، بائیومیٹرک حاضری اور تبادلوں کا نظام ضلعی سطح پر بحال کرنے اور کلسٹر ہب پالیسی واپس لینے کے مطالبات شامل ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ کئی اساتذہ برسوں سے ایک ہی گریڈ میں کام کر رہے ہیں اور کنٹریکٹ ملازمت کے ابتدائی تین سال سروس میں شمار نہیں ہوتے۔ ایسوسی ایشن نے قیادت کی رہائی اور مطالبات پر پیش رفت تک احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کیا۔