سندھ میں تیل و گیس کی رائلٹی کا 20 سالہ آڈٹ طلب
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے تیل و گیس کمپنیوں کی جانب سے صوبوں کو ادا رائلٹی کا 20 سالہ ریکارڈ طلب کرلیا۔ وزارتِ پٹرولیم اور سندھ کے محکمہ خزانہ و توانائی کو اجلاس میں تفصیلات دینے کی ہدایت کی گئی۔
سینیٹر جام سیف اللہ دھاریجو کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی نے او جی ڈی سی ایل کے اعدادوشمار پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ کمپنی نے دس سال کا ریکارڈ دیا، تاہم اسے پیداوار سے منسلک نہیں کیا۔ دھاریجو نے 1995 سے پیداوار اور رائلٹی کی تفصیلات طلب کیں۔
اجلاس میں سانگھڑ کے سنجھورو بلاک میں او جی ڈی سی ایل کو پروڈکشن بونس سے استثنیٰ دینے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ حکام کے مطابق رائلٹی وفاقی اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے اور کٹوتی کے بعد صوبوں کو حصہ منتقل کیا جاتا ہے۔
دھاریجو نے کہا کہ آبادی کو وسائل کا فائدہ ملنا چاہیے۔ پروڈکشن بونس سے اسکول، اسپتال اور سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔
کمیٹی نے ٹنڈو الہ یار میں ملازمتوں کے لیے مقامی افراد کو ترجیح دینے اور گوبی فیلڈ کے 31 دیہات کو گیس پائپ لائن سے جوڑنے پر وضاحت طلب کی۔