جناح اسپتال سندھ کا دوسرا سرکاری اسپتال بن گیا جہاں اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ دستیاب

0
893429439_1108102442006887_5746301596210556076_n

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ (ای یو ایس) کی سہولت فراہم کردی گئی ہے، جس کے بعد یہ سندھ کا دوسرا سرکاری اسپتال بن گیا ہے جہاں ٹیکنالوجی دستیاب ہے۔ اس سے معدے، آنتوں اور لبلبے کے کینسر سمیت پیچیدہ امراض کی تشخیص اور علاج مفت ممکن ہوں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق نجی شعبے میں اس پروسیجر پر تین سے چار لاکھ روپے خرچ آتا ہے، تاہم جے پی ایم سی میں مریض یہ سہولت مفت حاصل کرسکیں گے۔ کروڑوں روپے مالیت کا آلہ گیٹز فارما نے عطیہ کیا ہے۔

اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ میں اینڈوسکوپی کے ساتھ الٹراساؤنڈ استعمال کیا جاتا ہے، جس سے لبلبے، جگر، صفراوی نالیوں اور لمف نوڈز کی تصاویر حاصل ہوتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے کینسر کی تشخیص، رسولیوں کے پھیلاؤ کا جائزہ اور بایوپسی کے لیے ٹشو کے نمونے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

یہ سہولت لبلبے کے گرد جمع سیال کی نکاسی اور صفراوی نالیوں کے مسائل کے علاج میں مدد دے سکتی ہے۔

جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد شیر نے کہا کہ بروقت تشخیص مریضوں کی بقا بہتر بنانے کے لیے اہم ہے۔ شعبہ گیسٹروانٹرولوجی کی سربراہ ڈاکٹر نازش بٹ کے مطابق نئی ٹیکنالوجی درست تشخیص اور علاج میں تاخیر کم کرنے میں مددگار ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے