صوبائی ازسرِ نو تشکیل کی سازش ملکی سلامتی کےلیے خطرہ بن سکتی ہے
اسٹیبلشمنٹ اور سندھ کی سیاسی قیادت، جس کی قیادت صدر آصف علی زرداری اور ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی ہے، صوبائی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل اور کراچی کو انتظامی طور پر الگ کرنے کی تجویز کے معاملے پر ایک دوسرے سے شدید اختلافات کا شکار ہیں۔
یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ملک کے ٹوٹنے کا خطرناک امکان پیدا کرتی ہے اور 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کی تاریخ کو دوبارہ دہرانے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ضدی اسٹیبلشمنٹ ملک کے تاریخی صوبوں کو ایک درجن سے زیادہ حصوں میں تقسیم کرنے پر مصر رہی تو ایک تباہ کن اور بے مثال خونی تشدد جنم لے سکتا ہے۔ اس تقسیم کو چھپانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ان تقسیم شدہ علاقوں کو ’’انتظامی یونٹس‘‘ (Administrative Units) کا نام دیتی ہے۔ حقیقت میں یہ ایک بہت چھوٹے پاکستان کے نئے صوبے بن جائیں گے۔ اگر ریاست ایسی جبری اور انتہائی تبدیلی کے بعد بھی قائم رہ سکے۔
صوبوں کو ’’ازسرِ نو تشکیل‘‘ کے نام پر تقسیم کرنا اسٹیبلشمنٹ کا ایک طویل عرصے سے خواب رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے مرکزی اقتدار حاصل کرنے کی شدید خواہش ہے، جس کا مقصد پاکستان کی مختلف قوموں اور ذیلی قومیتوں کو تابع رکھنا ہے، جبکہ ان کے علاقے قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہیں۔ یہ رویہ سابق آرمی چیف جنرل ٹکا خان سے منسوب ان بدنام الفاظ کی یاد دلاتا ہے، جنہیں سابق مشرقی پاکستان اور بلوچستان میں سخت فوجی کارروائیوں کی قیادت کرنے کی وجہ سے ب‘‘نگال اور بلوچستان کا قصاب’’ کہا جاتا تھا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا تھا:‘‘ہمیں بنگال کے لوگ نہیں چاہئیں، ہمیں بنگال کی زمین چاہیے۔’’ تاریخی طور پر اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو اس کے لوگوں کے بجائے قیمتی زمین کے طور پر دیکھتی رہی ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ ملک کے جنرل قومی محافظوں سے زیادہ‘‘ ریئل اسٹیٹ ایجنٹوں’’ کی طرح کام کرتے ہیں۔
یہ استحصال ریاست کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بمشکل ایک سال بعد کراچی کو سندھ کے باقی حصے سے انتظامی طور پر الگ کر کے وفاقی دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس وقت سندھ کے وزیرِ اعلیٰ ایوب کھوڑو نے اس علیحدگی کی سخت مخالفت کی اور اپنے صوبے کی جغرافیائی وحدت کا دفاع کیا، جس کے نتیجے میں انہیں اچانک عہدے سے ہٹا کر جیل بھیج دیا گیا۔
بعد میں جب دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا گیا تو بھی کراچی سندھ سے الگ ہی رہا۔ عوامی روایات میں کہا جاتا ہے کہ فوجی آمر صدر ایوب خان نے دارالحکومت کراچی سے اس لیے منتقل کیا کیونکہ کراچی کا پانی انہیں معدے کی تکلیف دیتا تھا، لیکن حقیقت سیاسی تھی ۔ ان کی حکومت کو کراچی کی بڑی اور سیاسی طور پر متحرک آبادی سے خدشہ تھا۔ سلمان رشدی نے مشہور انداز میں کراچی کا موازنہ بمبئی سے کرتے ہوئے دونوں بڑے شہروں کو جنوبی ایشیا کے نیویارک کے ‘‘دوبارہ لکھے گئے روپ’’ قرار دیا۔
کراچی بنیادی طور پر پارسیوں، ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں، سندھیوں، بلوچوں اور گجراتیوں کی ایک کثیرالثقافتی آبادی کے ذریعے تعمیر اور جدید بنایا گیا تھا۔ لیکن ہندوستان کی تقسیم کے بعد شمالی ہندوستان سے مسلمان مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد ہوئی، جو آگے چل کر مہاجروں کے نام سے پہچانے گئے، اور شہر کی آبادی کا نقشہ بنیادی طور پر تبدیل ہو گیا۔ پنجاب، بہار، اتر پردیش اور بنگال کے برعکس سندھ میں تقسیم تک بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد نہیں ہوا تھا۔ تاہم نئے آنے والے مہاجروں کے بعض عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہندوؤں اور سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور انہیں ہندوستان ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آنے والی دہائیوں میں کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں کی متحرک یہودی برادری بھی ہندوستان اور اسرائیل منتقل ہو گئی۔
سندھ میں بیرونی آبادی کی آمد بلا رکاوٹ جاری رہی۔ جنرل ایوب خان نے ایک مرتبہ مہاجروں سے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ کراچی سے بھاگنے کے لیے اب ان کے پاس کوئی جگہ باقی نہیں رہی، کیونکہ ان کے سامنے صرف کھلا سمندر ہے۔ کراچی تیزی سے انسانوں کا ایک بہت بڑا سمندر بن گیا اور یہ صورتحال اس سابق شہر سے بالکل مختلف تھی، جس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ تھی اور جس میں بڑی اکثریت سندھی ہندوؤں کی تھی۔ جب شہر نے تمام دوسرے صوبوں سے مزدوروں کو اپنی جانب متوجہ کرنا شروع کیا تو یہ ایک بڑی معاشی انجن میں تبدیل ہو گیا اور اسی سے ‘‘منی پاکستان’’ کی اصطلاح وجود میں آئی۔
اس تیز رفتار ترقی نے سندھ کے مقامی سندھیوں اور بیرونی نسلی گروہوں کے درمیان ایک بنیادی تضاد پیدا کر دیا۔ ہجرت کر جانے والے سندھی ہندوؤں کی جائیدادیں، کاروبار اور سرکاری ملازمتیں مقامی سندھیوں کے بجائے ہندوستان سے آنے والے مہاجروں نے بڑی تیزی سے حاصل کر لیں۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان، جو خود بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے، نے کراچی اور سندھ کے دیگر شہری مراکز میں بڑی تعداد میں مہاجروں کو آباد کرنے میں فعال کردار ادا کیا، تاکہ اپنے لیے ایک وفادار انتخابی سیاسی ووٹ بینک تشکیل دے سکیں۔
لیاقت علی خان کی متنازع حکمرانی اچانک ختم ہو گئی، جب راولپنڈی کے کمپنی باغ میں، جو پاکستان کے فوجی ہیڈکوارٹرز والے طاقتور گیریژن شہر میں واقع ہے، ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہیں قتل کر دیا گیا۔ انہیں سعد اکبر ببرک نامی ایک قاتل نے گولی مار کر قتل کیا، جسے پولیس نے فوراً وہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ تاریخ کے ایک افسوسناک اتفاق کے طور پر پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کو بھی کئی دہائیوں بعد 2007ء میں اسی راولپنڈی کے پارک میں قتل کر دیا گیا، جسے ملک کے پہلے وزیرِ اعظم کے اعزاز میں بعد میں لیاقت باغ کا نام دیا گیا تھا۔
لیاقت علی خان کے قتل کے بارے میں سازشی نظریات میں یہ خیال پیش کیا جاتا ہے کہ یہ پنجاب کی فوجی اور سول بیوروکریسی کی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایک منظم سازش تھی، جس کا مقصد نئے بننے والے ملک میں ابتدائی مہاجر اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کی فوجی اور سول قیادت کا بڑا حصہ پنجاب صوبے سے آیا ہے۔ اگرچہ سابق مشرقی پاکستان کی آبادی ابتدا میں زیادہ تھی، لیکن مغربی پاکستان کی پنجابی بالادستی والی مرکزی حکومت نے وہاں کے لوگوں کو منظم طریقے سے الگ تھلگ کیا، استحصال کا نشانہ بنایا اور اقتدار سے محروم رکھا۔ اس شدید معاشی اور سیاسی بیگانگی نے بالآخر بنگلہ دیش کے لوگوں کو علیحدگی پر مجبور کیا، اور انہیں مغربی پاکستان کی فوج کے ہاتھوں بہائے گئے خون کے دریا سے گزرنا پڑا۔ نتیجتاً پاکستان کے قیام کا بنیادی تصور، یعنی دو قومی نظریہ (Two-Nation Theory)، خلیجِ بنگال میں غرق ہو گیا اور باقی صوبوں کو اسٹیبلشمنٹ کے مکمل رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ آج بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال 1971ء کے وجودی بحران سے بھی زیادہ خراب ہو چکی ہے۔
آج سندھ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بنیادی اختلاف کی ایک اہم وجہ پاکستان کے آئین کی 18ویں ترمیم ہے۔ اسٹیبلیمنٹ مبینہ طور پر ایک مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان تحفظات کو ختم کرنے کے لیے زور دے رہی ہے، جس کا مقصد صوبوں کو حاصل مالی اور انتظامی خودمختاری کو بڑے پیمانے پر محدود کرنا ہے۔ آصف علی زرداری نے اپنے صدر کی پہلی مدت کے دوران سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ 18ویں ترمیم منظور کرائی، جس سے مرکزی حکومت کے مقابلے میں صوبوں کے اختیارات میں خاصا اضافہ ہوا۔
جنرلوں کی ناراضی کی بنیادی وجہ نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کو قرار دیا جاتا ہے، جو وفاقی آمدنی کا ایک بڑا حصہ براہِ راست صوبوں میں تقسیم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اسٹیبلشمینٹ جو پہلے ہی قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ استعمال کرتی ہے، چاہتی ہے کہ یہ NFC وسائل دوبارہ وفاقی خزانے میں منتقل کیے جائیں۔ سیاسی اتحادیوں اور ہم خیال میڈیا شخصیات کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ صدر زرداری پر 18ویں ترمیم کے بارے میں سمجھوتہ کرنے اور صوبائی ازسرِ نو تشکیل کے منصوبوں کی حمایت کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ تجربہ کار سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان مطالبات کے سامنے جھکنا سندھ میں PPP کی مقبولیت اور ووٹر بیس کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جو تقریباً دو دہائیوں سے جماعت کی طاقت کا بنیادی مرکز رہا ہے۔
ان جارحانہ سرحدی ازسرِ نو تشکیل کے منصوبوں کو آگے بڑھانے سے ملک کے ممکنہ ٹوٹنے کے عمل کی نگرانی کرتے نظر آتے ہیں۔ معروف دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن نشریات میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے صوبائی ازسرِ نو تشکیل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہزاروں افراد کے تباہ کن شہری جانی نقصان کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔
لیکن سندھی لوگ سندھ کو صرف ایک انتظامی صوبہ نہیں بلکہ اپنی مقدس مادرِ وطن سمجھتے ہیں اور پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کرتے۔ جواب میں اسٹیبلشمیٹ نے ایک بار پھر نسلی اختلافات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، اور کچھ ریاستی سرپرستی حاصل کرنے والے مہاجر دھڑوں کو سندھی قوم پرستوں اور صوبائی حکومت کے خلاف سہارا دے کر کراچی کو مکمل طور پر سندھ سے الگ کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حکمتِ عملی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کئی مرتبہ سندھ کی تقسیم کی تجویز کو مسترد کرنے والی قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
جبکہ اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ بعض مبصرین، جیسے مشاہد حسین، ایسے سازشی نظریات پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کے صوبوں کی تقسیم کے پیچھے ملک کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے تیار کی گئی‘‘گریٹر اسرائیل سازش’’ ہے، تاریخ ایک مختلف حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔پاکستان بار بار اندرونی طور پر تباہی کے کنارے تک اپنے ہی جنرلوں اور ان کے ساتھ کھڑی سیاسی، میڈیا اور کارپوریٹ اشرافیہ کے عزائم کے باعث پہنچتا رہا ہے، جو ماضی کے اسباق سے سیکھنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔