سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس ناکام کیوں؟
سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی کارروائیوں اور مقابلوں کی خبریں روزانہ اخبارات اور ٹی وی اسکرینوں پر نظر آتی ہیں۔ کہیں پولیس مقابلے میں کسی جرائم پیشہ شخص کے مارے جانے کا دعویٰ کرتی ہے تو کہیں پولیس اہلکار زخمی ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں تو پھر بھی سندھ کے کئی علاقوں میں جرائم پیشہ سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کیوں نہیں ہوتیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جرائم پیشہ سرگرمیوں کا خاتمہ صرف مقابلوں کے ذریعے ممکن نہیں۔ مقابلہ کسی ایک واقعے کا جواب ہو سکتا ہے، لیکن جرائم پیشہ نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے اس کے پیچھے موجود مالی، سماجی اور انتظامی ڈھانچے کو سمجھنا ضروری ہے۔ سندھ کے کئی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کو مقامی سطح پر تعاون، پناہ، اسلحہ، مالی وسائل اور معلومات فراہم کیے جانے کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر پولیس کسی ایک جرائم پیشہ شخص کو گرفتار یا مقابلے میں ہلاک کر دے، لیکن اس گروہ کا مالی نظام، سہولت کار اور رابطوں کا نیٹ ورک برقرار رہے تو کچھ عرصے بعد اسی نوعیت کی سرگرمیاں دوبارہ جنم لے سکتی ہیں۔
دوسرا اہم مسئلہ پولیس کے تفتیشی نظام کا ہے۔ جدید پولیسنگ صرف مسلح کارروائی کا نام نہیں۔ جرم ہونے سے پہلے معلومات جمع کرنا، مشتبہ افراد کی نگرانی، مالی معاملات کی چھان بین، موبائل فون اور دیگر دستیاب شواہد کا قانونی استعمال، گواہوں کا تحفظ اور مضبوط چالان تیار کرنا بھی پولیس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اگر تفتیش کمزور ہو تو گرفتار ملزم عدالت سے رہا ہو سکتا ہے اور متاثرہ فریق کو انصاف کے حصول میں مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ پراسیکیوشن اور عدالتی عمل کی اہمیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کی محنت اس وقت نتائج دے گی جب مقدمہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے عدالت تک پہنچے اور شواہد اتنے مضبوط ہوں کہ عدالت میں برقرار رہ سکیں۔ اس لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جنگ کو صرف پولیس بمقابلہ جرائم پیشہ افراد کے طور پر دیکھنے کے بجائے پولیس، پراسیکیوشن، عدلیہ اور انتظامیہ کے مشترکہ نظام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
ایک اور اہم سوال پولیس مقابلوں کے حوالے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ہر پولیس مقابلے کے دعوے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں، کیونکہ قانون کی حکمرانی کی بنیاد یہی ہے کہ ہر شہری کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔ اگر کسی مقابلے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں تو اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، تاکہ پولیس پر عوام کا اعتماد برقرار رہے اور حقیقی کارروائیاں بھی مشکوک واقعات کے سائے میں نہ آئیں۔
سندھ میں جرائم پیشہ سرگرمیوں کے سماجی اور معاشی اسباب بھی اہم ہیں۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، منشیات، قبائلی تنازعات اور کمزور مقامی حکمرانی جیسے عوامل کئی علاقوں میں جرائم کے ماحول کو فروغ دینے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر صرف طاقت کے استعمال سے مستقل امن قائم کرنا مشکل ہے۔
پولیس کے اندر بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اہلکاروں کو جدید تفتیشی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، مناسب وسائل اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ احتساب کا مضبوط نظام بھی ضروری ہے۔ ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور غفلت یا قانون کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی ہو۔
سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے افراد گرفتار ہوئے یا کتنے پولیس مقابلے ہوئے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جرائم میں کمی آئی یا نہیں؟ شہریوں کا تحفظ بہتر ہوا یا نہیں؟ مقدمات میں سزا کی شرح میں بہتری آئی یا نہیں؟ اور کیا عام شہری پولیس پر اعتماد کرنے لگا ہے یا نہیں؟
جرائم پیشہ سرگرمیوں کا مستقل خاتمہ بندوق کے زور سے زیادہ مضبوط اداروں، بہتر تفتیش، تیز اور شفاف انصاف، مؤثر معلوماتی نظام اور قانون کی یکساں عمل داری سے ممکن ہے۔ پولیس مقابلہ کسی وقت ضروری آپریشن کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اسے امن کا متبادل سمجھنا مسئلے کو ادھورا دیکھنے کے مترادف ہے۔
سندھ کو ایسی پولیسنگ کی ضرورت ہے جو صرف جرائم پیشہ افراد کو تلاش کرکے گرفتار نہ کرے بلکہ جرم کی جڑ تک پہنچے۔ کیونکہ جب جرائم پیشہ شخص کا نام تبدیل ہو جائے، لیکن جرائم کا نظام وہی برقرار رہے تو مقابلے تو ہوتے رہیں گے، مگر جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ بہتر یہی ہے کہ پولیس کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے اور ہر قسم کی سیاسی و ذاتی مداخلت ختم کی جائے، تاکہ سندھ میں جرائم کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ عناصر کو بھی قانون کے مطابق ان کے انجام تک پہنچایا جا سکے۔