خیرپور کی ریاستی تاریخ کا آخری باب بھی بند ہوگیا

0
30639794-b171-4cf7-ae40-b3260d4d497b

خیرپور کی سابق ریاست کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور 93 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ چند روز سے علالت کے باعث سکھر کے ایس آئی یو ٹی اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں پیر 5 اکتوبر 2026ء کو ان کا انتقال ہوا۔ ان کے صاحبزادے پرنس میر مہدی رضا تالپور نے وفات کی تصدیق کی۔ ان کی وفات کے ساتھ خیرپور کی سابق ریاست سے وابستہ ایک اہم تاریخی شخصیت بھی دنیا سے رخصت ہوگئی۔

میر علی مراد خان تالپور کی پیدائش 29 جون 1933ء کو انگلینڈ کے شہر برائٹن، سسیکس میں ہوئی۔ وہ خیرپور کے حکمران میر فیض محمد خان تالپور ثانی اور دلہن پاشا بیگم کے فرزند تھے۔ ان کا تعلق سندھ کے اسی تالپور خاندان سے تھا جس نے اٹھارہویں صدی کے آخری برسوں میں خیرپور میں اپنی حکمرانی قائم کی تھی۔

ان کی ابتدائی تعلیم حیدرآباد کے سینٹ بونا وینچر ہائی اسکول میں ہوئی، جس کے بعد وہ لاہور کے ایچی سن کالج پہنچے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کا رخ کیا۔ تاہم ان کی زندگی کا اصل رخ تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی تبدیل ہوگیا، جب کم عمری میں انہیں خیرپور کی حکمرانی کی ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔

1947ء میں برصغیر کی آزادی سے عین قبل خیرپور کے شاہی خاندان میں تبدیلی واقع ہوئی۔ میر فیض محمد خان ثانی کی خراب صحت کے باعث 24 جولائی 1947ء کو برطانوی حکومت نے انہیں حکمرانی سے علیحدہ کردیا۔ ان کے کم سن بیٹے میر علی مراد خان کو ریاست کا نیا حکمران مقرر کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر محض 14 برس تھی۔

کم سنی کے باعث براہِ راست حکومتی معاملات چلانا ممکن نہ تھا، چنانچہ ریاستی امور کی نگرانی کے لیے بورڈ آف ریجنسی تشکیل دیا گیا۔ خاندان کے قریبی افراد اس انتظام کا حصہ تھے جبکہ میر غلام حسین خان تالپور نے ریجنٹ کی حیثیت سے ریاست کے انتظامی معاملات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب میر علی مراد خان خیرپور کے حکمران کی حیثیت سے تاریخ میں درج ہوئے اور بعد میں ریاست کے آخری فرمانروا ثابت ہوئے۔

قیام پاکستان کے موقع پر برصغیر کی دوسری ریاستوں کی طرح خیرپور کا مستقبل بھی اہم سیاسی سوال بن چکا تھا۔ خیرپور نے ابتدا میں 15 اگست 1947ء کو یوم آزادی منانے کا اعلان کیا، تاہم نئی قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے ساتھ تعلق کے معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

بالآخر 3 اکتوبر 1947ء کو خیرپور کے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ عملی شکل اختیار کرگیا۔ میر علی مراد خان کی کم عمری کے باعث ان کی جانب سے ریجنٹ میر غلام حسین خان تالپور نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اسی روز ریاست بہاولپور نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ خیرپور کا یہ فیصلہ میر علی مراد خان کی حکمرانی سے وابستہ اہم ترین تاریخی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔

ریاست کے الحاق کے بعد بھی میر علی مراد خان کو فوری طور پر مکمل انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوئے۔ ریاستی معاملات ریجنسی کے تحت چلتے رہے۔ یہ صورت حال 1951ء میں ختم ہوئی، جب انہیں مکمل حکمرانی کے اختیارات منتقل کردیے گئے۔

ستمبر 1951ء میں خیرپور کے دربار ہال میں ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی جس میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے گورنر جنرل پاکستان کی جانب سے 18 سالہ میر علی مراد خان کو مکمل اختیارات سونپے۔ تقریب میں انہیں 17 توپوں کی سلامی دی گئی۔ تلاوتِ قرآن پاک کے بعد وزیراعظم نے انہیں خریطہ پیش کیا، جس کے ساتھ ہی وہ ریاست کے مکمل بااختیار حکمران بن گئے۔

خیرپور کی ریاستی زندگی میں سیاسی اداروں کے قیام اور انتظامی اصلاحات کا سلسلہ بھی اسی دور میں جاری رہا۔ 1950ء میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات منعقد ہوئے اور ریاست میں قانون ساز اسمبلی قائم کی گئی۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بھی سرکاری توجہ دی جاتی رہی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ریاستی دور میں تعلیم کے لیے قابلِ ذکر وسائل مختص کیے جاتے تھے اور عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا انتظام بھی موجود تھا۔

تاہم پاکستان کے قیام کے بعد ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تیزی سے تبدیلیاں آنا شروع ہوگئیں۔ خیرپور کی الگ ریاستی حیثیت بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ 10 نومبر 1954ء کو خیرپور کی قانون ساز اسمبلی نے پاکستان کے ساتھ انضمام کی قرارداد منظور کی۔ اس فیصلے کے بعد میر علی مراد خان تالپور نے ریاست کے پاکستان میں انضمام سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے۔

1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ خیرپور کی جداگانہ ریاستی حیثیت مکمل طور پر ختم ہوگئی اور اسے مغربی پاکستان میں شامل کردیا گیا۔ اس طرح میر علی مراد خان کی بطور خودمختار حکمران حیثیت کا اختتام ہوگیا۔ تاہم ان کی تاریخی شناخت اس کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی اور وہ خیرپور کے آخری حکمران کے طور پر تاریخ کا مستقل حصہ بن گئے۔

ریاستی نظام کے خاتمے کے بعد میر علی مراد خان نے سیاسی اقتدار کے بجائے اپنے تاریخی اور خاندانی ورثے سے وابستہ زندگی گزاری۔ خیرپور کا تاریخی فیض محل بھی ان کی شناخت سے جڑا رہا، جو تالپور دور کی نمایاں یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ مذہبی اور سماجی سرگرمیوں میں شریک رہتے اور اپنے خاندان کی روایات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

ان کی ازدواجی زندگی بھی خیرپور اور بہاولپور کے شاہی خاندانوں سے تعلقات کی عکاس رہی۔ 1958ء میں انہوں نے بہاولپور کے نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم کی صاحبزادی غلام صدیقہ بیگم سے شادی کی، تاہم بعد میں دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے عالیہ تالپور سے شادی کی، جو معروف مذہبی عالم علامہ رشید ترابی کی صاحبزادی تھیں۔ عالیہ تالپور 2019ء میں کراچی میں انتقال کرگئی تھیں۔

میر علی مراد خان تالپور کے دو صاحبزادے میر عباس رضا خان تالپور اور پرنس میر مہدی رضا تالپور جبکہ ایک صاحبزادی زہرا ہیں۔ خاندان کی سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ان کا نام خیرپور میں نمایاں رہا۔ان کی زندگی دراصل برصغیر کی جدید سیاسی تاریخ کے ایک طویل سفر کی عینی گواہی تھی۔ انہوں نے برطانوی دور کے آخری زمانے سے لے کر برصغیر کی تقسیم، پاکستان کے قیام، خیرپور کے پاکستان سے الحاق، ریاستی نظام کے خاتمے اور ون یونٹ کے قیام تک کے تمام بڑے سیاسی مراحل اپنی زندگی میں دیکھے۔

چودہ برس کی عمر میں ریاست کے تخت پر بیٹھنے والے میر علی مراد خان نے اپنی زندگی کے ابتدائی برس ایک حکمران کی حیثیت سے گزارے، مگر بدلتے ہوئے سیاسی حالات نے چند ہی برس بعد خیرپور کی صدیوں پر محیط ریاستی خودمختاری کو تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ اس کے باوجود وہ طویل عرصے تک اس دور کی زندہ علامت سمجھے جاتے رہے جس میں خیرپور ایک الگ ریاستی شناخت رکھتا تھا۔

گزشتہ چند روز سے علالت کے باعث ان کی طبیعت تشویش ناک ہوئی تو انہیں سکھر کے ایس آئی یو ٹی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پیر 5 اکتوبر 2026ء کو انہوں نے آخری سانس لی۔ 93 سالہ میر علی مراد خان تالپور کی وفات کے ساتھ خیرپور کی ریاستی تاریخ سے براہِ راست وابستہ آخری حکمران بھی رخصت ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے