بااثر وڈیروں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا احتجاج

0
Picture4

گھوٹکی: کے نواحی گاؤں تاج محمد رک کے رہائشی پسند کی شادی کرنے والے جوڑے پرویز علی اور اجالا رک نے بااثر وڈیروں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف ڈی ایچ کیو پریس کلب میرپور ماتھیلو کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جوڑے نے بتایا کہ انہوں نے ڈہرکی کی عدالت کی اجازت سے پسند کی شادی کی، جس کے بعد وہ مبینہ طور پر اپنے برادری کے بااثر وڈیروں اور جرگہ داروں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر اجالا رک نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کی منگنی پرویز علی سے ہوئی تھی، تاہم بااثر افراد نے مبینہ طور پر اس کے شوہر پر کاروکاری کا الزام عائد کیا اور اسے شکارپور میں 80 ہزار روپے کے عوض فروخت کردیا، جہاں اس سے مبینہ طور پر غلط کام کروائے جاتے رہے اور رقم بااثر افراد کو دی جاتی تھی۔اجالا رک کے مطابق بعد ازاں وہ مجبوراً طلاق لے کر پرویز علی کے ساتھ ڈہرکی کی عدالت میں پسند کی شادی کرلی، جس کے بعد گاؤں کے غلام علی، میر حسن، شبیر اور دیگر بااثر افراد مبینہ طور پر ان کی جان کے دشمن بن گئے ہیں اور انہیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ اس کے غریب والدین کو بھی بااثر افراد سے خطرہ لاحق ہے۔پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مبینہ زیادتیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے