تعلیم میں پوزیشنیں، تعصب اور کراچی کے ڈومیسائل کا سوال

0
ATTA MUHMAD

تعلیم کسی بھی معاشرے میں مقابلے، قابلیت اور آگے بڑھنے کا میدان ہوتی ہے۔ امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کی کامیابی کو اس کی محنت، قابلیت اور تعلیمی سفر کا نتیجہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ اس کی زبان، ذات، علاقے یا برادری کی بنیاد پر۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم جیسے مقدس شعبے کو بھی کبھی کبھار لسانی اور علاقائی بحثوں کی نذر کردیا جاتا ہے۔

کراچی کا سماجی اور آبادیاتی پس منظر ہمیشہ سے کثیرالجہتی رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف علاقوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کراچی آکر آباد ہوئے اور شہر کی معاشی، تعلیمی، تجارتی اور سماجی زندگی کا حصہ بنے۔ ان میں سے کئی خاندانوں کے بچوں نے تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اگر کوئی طالب علم محنت کرکے پوزیشن حاصل کرتا ہے تو اس کی کامیابی پر خوش ہونا ہی ایک صحت مند سماجی رویہ ہے۔

یہ سوال ضرور غور طلب ہے کہ اگر کئی دہائیوں تک مختلف پس منظر رکھنے والے طلبہ کراچی کے ڈومیسائل پر تعلیمی پوزیشنیں حاصل کرتے رہے تو اس عمل کو آج کی طرح لسانی تنازع کا موضوع کیوں نہیں بنایا گیا؟ اس دور میں مقامی سندھی اور بلوچ خاندانوں کے بہت سے افراد ان طلبہ کو اپنے شہر کے بچے سمجھتے اور ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ ہجرت، غربت اور مشکل حالات سے گزر کر آنے والے خاندانوں سے ہمدردی بھی سندھ کی سماجی روایات کا حصہ رہی ہے۔

آج اگر تھرپارکر یا سندھ کے کسی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کی کامیابی کو بھی اسی جذبے کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ ایک غریب خاندان کا بچہ محدود وسائل کے باوجود امتحان میں آگے آتا ہے تو یہ صرف اس کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اس خاندان، استاد اور معاشرے کی بھی کامیابی ہے جس نے اسے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی طالب علم کی کامیابی کو اس کی قابلیت کے بجائے اس کے علاقے یا شناخت سے جوڑ دیا جائے۔ اگر کراچی کے بچے اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو اسے بھی اجاگر ہونا چاہیے اور اگر تھر، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص یا حیدرآباد ڈویژن کے طلبہ نمایاں نتائج حاصل کرتے ہیں تو ان کی کامیابی کو بھی برابر اہمیت ملنی چاہیے۔ تعلیم میں کسی ایک علاقے کی کامیابی دوسرے علاقے کی ناکامی نہیں ہوتی۔

کراچی کے تعلیمی نتائج کے حوالے سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہر کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد اچھی پوزیشنوں کے ساتھ کامیاب ہوئی، جبکہ دیگر ڈویژنوں کے بہت سے طلبہ نے بھی کامیابی حاصل کی۔ ایسے اعداد و شمار کو لسانی تنازع کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ سندھ کے تمام علاقوں میں تعلیمی معیار کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ تھرپارکر، کشمور، جیکب آباد، بدین، عمرکوٹ یا سندھ کے دیگر پسماندہ اضلاع کے بچوں کو کون سی سہولیات میسر ہیں؟ کیا ان کے پاس معیاری اسکول، تربیت یافتہ اساتذہ، جدید لیبارٹریاں، کتب خانے، ٹیکنالوجی اور مناسب تعلیمی ماحول موجود ہے؟ اگر کسی دور دراز علاقے کا بچہ محدود وسائل کے باوجود نمایاں پوزیشن حاصل کرتا ہے تو اس کامیابی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس کے پیچھے موجود محنت اور محرومیوں کو سمجھنا چاہیے۔

اسی طرح کراچی کے طلبہ کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ شہر کے بچے بھی مقابلے، میرٹ، تعلیمی سہولیات اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے اپنے جائز سوالات رکھتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب کسی دوسرے علاقے کے بچوں کو نشانہ بنانے میں نہیں بلکہ شفاف پالیسیوں، بہتر امتحانی نظام اور واضح میرٹ میں ہے۔

سندھ میں کوٹہ سسٹم ایک طویل اور پیچیدہ سیاسی بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس نظام کے حق اور مخالفت میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقے اپنے دلائل پیش کرتے رہے ہیں۔ کوٹہ سسٹم کا تاریخی مقصد علاقائی عدم مساوات کو کم کرنا اور مختلف علاقوں کو نمائندگی فراہم کرنا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کی مدت، طریقہ کار، میرٹ اور عملی اثرات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ لہٰذا اس بحث کو شخصیات، جماعتوں یا لسانی نفرت تک محدود کرنے کے بجائے اعداد و شمار، قانونی فریم ورک اور موجودہ سماجی حقائق کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کی شناخت خود کثیرالجہتی ہے۔ سندھ میں صدیوں سے مختلف قوموں، زبانوں اور برادریوں کے لوگ مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ کراچی تو خاص طور پر ایسا شہر ہے جہاں مختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں نے اپنی محنت سے شہر کی معاشی اور سماجی زندگی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن اختلاف کو نفرت میں تبدیل کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے فائدہ مند نہیں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہمارے بچوں کی کامیابی کا معیار ان کی قابلیت ہوگی یا ان کی شناخت؟ اگر جواب قابلیت ہے تو پھر کسی بھی غریب، پسماندہ یا مختلف علاقے سے تعلق رکھنے والے بچے کی کامیابی ہمارے لیے خوشی کا باعث ہونی چاہیے۔

تعصب کا علاج مزید تعصب نہیں ہے۔ اگر کسی ادارے، امتحانی نظام یا پالیسی میں بے ضابطگی کا شبہ ہو تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں؛ اگر میرٹ متاثر ہو رہا ہو تو ثبوت کے ساتھ سوال اٹھائے جانے چاہئیں  اور اگر کسی علاقے کے بچے تعلیمی طور پر پیچھے ہیں تو ریاست اور معاشرے کو ان کے لیے مزید وسائل فراہم کرنے چاہئیں۔ لیکن طلبہ کو ان کی علاقائی یا لسانی شناخت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

سندھ کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہاں کا بچہ کراچی کا ہو یا تھرپارکر کا، سندھی بولتا ہو یا کوئی دوسری زبان، اسے اپنی قابلیت ثابت کرنے کا برابر موقع ملے۔ کراچی کے بچے کی کامیابی بھی سندھ کی کامیابی ہے اور تھر کے بچے کی کامیابی بھی سندھ کی کامیابی ہے۔

تعلیم کو لسانی جنگ کا میدان بنانے کے بجائے سماجی برابری اور انسانی ترقی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ پوزیشن حاصل کرنے والے بچے کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، اس کی شناخت کو بحث کا ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب ایک بچہ آگے بڑھتا ہے تو دراصل پورا معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے