سندھ کی وحدت اور وسائل کے تحفظ کے لیے 8 نومبر کو کراچی میں جلسہ عام کا اعلان

0
442178

گھوٹکی / میرپور ماتھیلو: جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو اور جئے سندھ رہبر کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر نیاز کالانی، شبیر جمالی و دیگر نے گھوٹکی میں پریس کانفرنس اور میرپور ماتھیلو میں عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کی وحدت، تاریخی حیثیت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس موقع پر رہنماؤں نے 15 اکتوبر کو لاڑکانہ اور 8 نومبر کو کراچی میں "وحدتِ سندھ مارچ” اور جلسہ عام کے انعقاد کا باضابطہ اعلان کیا۔گھوٹکی پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے ریاض چانڈیو نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی واضح قراردادوں کے باوجود نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر سندھ کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے صدرِ مملکت، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ انتظامی امور اور صوبائی حدود کے معاملے پر سندھ کے عوام کے جذبات اور آئینی حق کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی بحران کا حل نئے صوبوں کے قیام کے بجائے وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار کی فراہمی، اور تعلیم و صحت کی سہولیات کی بہتری میں مضمر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گھوٹکی جیسے اضلاع قدرتی گیس اور صنعتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اس لیے قدرتی وسائل کا حقیقی فائدہ مقامی آبادی تک پہنچایا جائے اور سندھ کے ساحلی، زمینی و معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔قبل ازیں، وحدتِ سندھ مارچ کی رابطہ مہم کے سلسلے میں میرپور ماتھیلو میں ایک ریلی نکالی گئی جو بھٹائی چوک پر جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ جلسے سے کمال مہر، اکرم میتلو، میر حسن لاشاری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ رہنماؤں نے صحافیوں، وکلا، دانشوروں اور تمام مکاتبِ فکر سمیت اردو بولنے والے سندھ کے رہائشیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ پرامن جمہوری جدوجہد، معاشی انصاف اور سندھ کی وحدت و خوشحالی کے لیے 8 نومبر کے کراچی مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے