سندھ کی ترقی اور ہم آہنگی کا بہتر راستہ
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کے بعد سندھ کے سیاسی ماحول میں ایک پرانی بحث ایک بار پھر شدت کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ بالخصوص سندھ میں ایم کیو ایم کی جانب سے الگ صوبے کے مطالبے کو دوبارہ سیاسی مرکزیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ مطالبہ سندھ کی وحدت، تاریخی حیثیت اور مختلف لسانی برادریوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، جسے محض سیاسی نعرے بازی یا اقتداری مفادات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے تاریخی، سماجی اور معاشی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سندھ صدیوں سے مختلف زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کے لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دیتا آیا ہے۔ سندھ کے شہروں میں سندھی، اردو، پنجابی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور دیگر زبانیں بولنے والے لوگ مل جل کر رہتے، کاروبار کرتے اور ملک کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس لیے سندھ کی بنیادی شناخت کسی ایک لسانی گروہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے تاریخی مزاج میں تنوع، برداشت اور مشترکہ رہن سہن شامل رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر لسانی یا علاقائی شناخت کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے اور ایک برادری کو دوسری برادری کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے اجتماعی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ سندھ ماضی میں لسانی کشیدگی، بدامنی اور سیاسی محاذ آرائی کے تلخ ادوار دیکھ چکا ہے۔ ان تجربات سے سبق سیکھنے کے بجائے اگر ایک بار پھر انہی اختلافات کو ہوا دی گئی تو اس سے سندھ کے عام آدمی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
ایم کیو ایم کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنظیم طویل عرصے تک سندھ کے شہری علاقوں، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کی سیاست میں ایک اہم قوت رہی ہے۔ مختلف ادوار میں یہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ بھی رہی اور شہری بلدیاتی اداروں میں بھی اس کا اثر رہا ہے۔ اس کے باوجود کراچی جیسے بڑے شہر کے بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ پانی، نکاسی آب، ٹرانسپورٹ، صفائی، سڑکوں، روزگار اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل کسی ایک حکومت یا جماعت کی پیداوار نہیں، لیکن ان کی طویل موجودگی یہ سوال ضرور پیدا کرتی ہے کہ شہر کے نام پر ہونے والی سیاست آخر عام شہریوں کی زندگی میں کتنی بنیادی تبدیلی لا سکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام کو اب ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو مسائل کا حل پیش کرے، نہ کہ ایسے نعرے لگائے جو معاشرے میں نئی تفریق پیدا کریں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس اگر واضح معاشی، تعلیمی، صحت، روزگار، شہری سہولیات اور صنعتی ترقی کا پروگرام موجود ہے تو اسے اسی پروگرام پر عوام سے مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے۔ لسانی شناخت کو مسلسل سیاسی سرمایہ بنانے سے نہ بے روزگاری ختم ہوگی، نہ پانی کا مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی کراچی کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں تعمیر ہوں گی۔
سندھ کی اصل ضرورت تقسیم نہیں بلکہ بہتر اور مضبوط انتظام، بااختیار مقامی ادارے، شفاف حکمرانی، بہتر تعلیم، صحت کی سہولیات، روزگار کے مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اگر کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانا ہے تو اس کے لیے نئے صوبے کے نعرے نہیں بلکہ مضبوط شہری ادارے، جدید ٹرانسپورٹ، بہتر واٹر مینجمنٹ، مؤثر صفائی کا نظام، صنعتی پالیسی اور طویل المدتی شہری منصوبہ بندی درکار ہے۔ اسی طرح سندھ کے دیگر علاقوں کے مسائل بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ تھر کی غربت، بدین اور ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں کے مسائل، سندھ میں آبپاشی، زراعت، صحت، تعلیم اور روزگار کی کمی، کچے اور پکے کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدہ سیاسی بحث ہونی چاہیے۔ سندھ کی ترقی پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملک کی موجودہ معاشی صورتحال بھی ہم سے زیادہ ذمہ دار سیاسی رویے کا تقاضا کرتی ہے۔ معیشت کی کمزوری، بڑھتے ہوئے قرضے، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل اور برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ایسے مسائل ہیں جو کسی ایک صوبے تک محدود نہیں۔ پاکستان کی معاشی ترقی اس وقت تک مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتی جب تک تعلیم، صحت، انسانی وسائل اور پیداواری شعبوں میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں۔ تعلیم کی صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ڈھانچے کی کمزوریاں زیادہ نمایاں ہیں۔ سرکاری اقتصادی سروے، تعلیمی رپورٹس اور ترقیاتی منصوبوں کی دستاویزات بار بار اس جانب توجہ دلاتی ہیں کہ انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ جس ملک میں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہوں، وہاں صوبے بنانے یا سیاسی نقشے تبدیل کرنے سے پہلے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کے لیے کیسا مستقبل تیار کر رہے ہیں؟
سندھ کی معاشی حیثیت پاکستان کی مجموعی معیشت سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔ کراچی ملک کا بڑا تجارتی، صنعتی اور مالیاتی مرکز ہے۔ بندرگاہوں اور صنعتوں سے لے کر تجارت اور خدمات تک سندھ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بین الاقوامی معاشی اصولوں کے مطابق سندھ کے روزگار اور معاشی وسائل پر پہلا حق سندھ کے مقامی لوگوں کا ہے، لیکن یہ ایک انتہائی افسوس ناک حقیقت ہے کہ ایک طرف بڑی تعداد میں سندھی آبادی روزگار اور معاشی وسائل سے محروم ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لاکھوں افراد سندھ میں روزگار اور کاروبار کرتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنے آبائی علاقوں کو بھیجتے ہیں۔ اصولی طور پر اس عمل کو سندھ میں صدیوں سے آباد مقامی لوگوں اور ان کی اولاد کے معاشی استحصال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ایک اہم اصول بھی واضح ہونا چاہیے کہ سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور آئینی حیثیت کو کسی بھی قیمت پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ سے وفاداری اور دوسری قوموں، زبانوں اور برادریوں کا احترام ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ سندھ کے حقوق کی بات کرنے کا مطلب کسی دوسری برادری سے نفرت کرنا نہیں، جس طرح اردو بولنے والے سندھ کے باشندوں کے حقوق کا احترام کرنے کا مطلب سندھ کی وحدت سے انکار بھی نہیں ہے۔
نامور صحافی اور مصنف محمود شام نے سندھ کے شہری معاشرے کے حوالے سے متعدد مواقع پر ایسے سوالات اٹھائے ہیں جن میں کراچی کی تاریخی آبادی، ہجرت اور مقامی ہونے کے تصور کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی تاریخ صرف 1947ء سے شروع نہیں ہوتی۔ یہ شہر اس سے بہت پہلے سندھ کی تاریخ، تجارت، بندرگاہی سرگرمیوں اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ رہا ہے۔ اسی طرح تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے بڑے پیمانے پر ہجرت کرکے آنے والے لوگوں نے بھی سندھ کی شہری زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان دونوں حقائق کو یکجا کرکے سمجھے بغیر کراچی کی تاریخ کو سمجھنا ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سندھ کی تاریخ کو کسی ایک گروہ کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے مشترکہ ورثے کے طور پر دیکھا جائے۔ سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان سیاسی، ادبی، سماجی اور معاشی تعلقات کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ کراچی کے بازاروں، کارخانوں، جامعات، اسپتالوں، اخبارات، ادبی اداروں اور مختلف محکموں میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ مشترکہ زندگی سندھ کی سماجی طاقت ہے، کمزوری نہیں۔ اس حقیقت کو ہمارے اردو بولنے والے بھائیوں کو بھی اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔
سندھ کی ضرورت لسانی بنیادوں پر نئی سرحدیں کھینچنا نہیں بلکہ ان انتظامی اور حکومتی مسائل کو حل کرنا ہے جو شہر اور دیہی علاقوں دونوں کے عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر کراچی کی آبادی بڑھ رہی ہے تو اس کے مطابق پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، اسپتالوں، اسکولوں، پارکوں، سڑکوں اور رہائشی منصوبوں کو بھی وسعت دینا ہوگی۔ اگر سندھ کے دیہی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری ہے تو وہاں صنعت، زراعت، آبپاشی، تعلیم اور صحت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جو حقیقت میں نہیں ہو رہی یا انتہائی کم ہو رہی ہے۔ مضبوط مقامی حکومتیں قائم کرنا ہوں گی تاکہ لوگوں کے روزمرہ مسائل ان کے اپنے شہر اور ضلع کی سطح پر حل ہو سکیں۔
ملک کی ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹکراؤ کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے صوبے ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ مشترکہ وفاق کے حصے ہیں۔ پنجاب کی ترقی سندھ کے لیے خطرہ نہیں ہونی چاہیے، سندھ کی معاشی ترقی بلوچستان یا خیبرپختونخوا کے لیے خطرہ نہیں ہونی چاہیے، اور کسی بھی صوبے کے حقوق دوسرے صوبوں کے حقوق کی نفی کی بنیاد نہیں بننے چاہئیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں اکثر سیاسی بحث اصل مسائل سے ہٹ کر شناخت کے سوالات پر آکر رک جاتی ہے۔ جب مہنگائی بڑھ رہی ہو، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہوں، اسکولوں کی حالت خراب ہو، اسپتالوں میں سہولیات نہ ہوں، صنعت کو توانائی اور پالیسی کے مسائل درپیش ہوں اور نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہوں تو سیاست کا مرکز ان مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے ڈرانے کے بجائے مستقبل کے بارے میں امید دینی چاہیے۔
سندھ کی وحدت کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ سندھ کو توڑنے یا تقسیم کرنے کی باتوں پر جذباتی ردعمل کے بجائے تاریخی، آئینی، انتظامی، معاشی اور عوامی مفادات کی بنیاد پر اسے مسترد کرنا چاہیے۔ اسی وقت سندھ کی وحدت کی حمایت کرنے والے حلقوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے کہ وہ سندھ کے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر برادری کو یکساں اہمیت دیں۔ اگر کسی علاقے میں محرومی ہے تو اسے نظرانداز کرنے کے بجائے ختم کرنے کے لیے عملی پالیسی اختیار کی جائے۔ سندھ میں مستقل طور پر آباد اردو بولنے والے، پنجابی، پشتون، بلوچ، سرائیکی اور دیگر زبانیں بولنے والے لوگ سندھ کی معاشی اور سماجی زندگی کا حصہ ہیں۔ انہیں الگ سمجھنا سندھ کی اجتماعی حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح سندھ کے تاریخی حقوق، زبان، ثقافت اور وسائل کے حوالے سے سندھ کے لوگوں کے خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حل دونوں جانب کے حقوق اور خدشات کو تسلیم کرنے میں ہے، نہ کہ کسی ایک کو خاموش کرنے میں۔
سندھ کے روشن مستقبل کے لیے سیاسی قیادت، دانشوروں، ادیبوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کو نفرت کی زبان کے بجائے دلیل کی زبان اختیار کرنا ہوگی۔ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کئی دانشور اور معاشی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سندھ کی معاشی ترقی پاکستان کی مجموعی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ سندھ مضبوط ہوگا تو وفاق کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا، اور وفاق مضبوط ہوگا تو سندھ کے وسائل اور عوام کے لیے بھی مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ کو سیاسی تجربات کی لیبارٹری بنانے کے بجائے ترقی کا ماڈل بنایا جائے۔ ایسا سندھ جہاں کراچی عالمی معیار کا شہر ہو، حیدرآباد علم و ثقافت کا مرکز ہو، تھر اپنے قدرتی وسائل کے ساتھ انسانی ترقی میں بھی آگے بڑھے، ساحلی علاقے نئی معاشی سرگرمیوں کے مراکز بنیں، زراعت جدید ٹیکنالوجی سے منسلک ہو، نوجوانوں کو روزگار اور ہنر ملیں اور ہر ضلع میں معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات موجود ہوں۔ سندھ کی ترقی کے لیے سندھیوں اور سندھ میں آباد دیگر برادریوں کے درمیان فاصلے کم کرنا ہوں گے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ نفرتیں بڑھانے سے نہ کراچی خوشحال ہوگا، نہ حیدرآباد، نہ لاڑ، نہ بالائی سندھ اور نہ ہی پورا پاکستان۔
ملک پہلے ہی معاشی، انتظامی اور سماجی مسائل کی ایک طویل فہرست کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو نئے تنازعات دینے کے بجائے نئے حل دیں۔ سندھ کی وحدت، ملک کے وفاقی ڈھانچے اور مختلف قوموں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مشترکہ مستقبل کے بارے میں سنجیدہ، آئینی اور جمہوری بحث ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ اگر ہم ان بنیادی مسائل پر مل کر کام کریں تو سندھ نہ صرف اپنے لوگوں کے لیے بلکہ تمام صوبوں کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔
سندھ کی طاقت صرف اس کی زمین میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کے اجتماعی شعور، برداشت اور ہم آہنگی میں بھی ہے۔ سندھ صدیوں سے مختلف لوگوں کو اپنے اندر سمو کر آگے بڑھتا آیا ہے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ نفرت کی سیاست کو پیچھے چھوڑ کر ترقی، انصاف، برابری اور مشترکہ خوشحالی کو آگے بڑھایا جائے۔ سندھ کی ترقی ہی ملک کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے، اور سندھ کی ہم آہنگی ہی اس ترقی کی پہلی ضمانت بن سکتی ہے۔