اصل سوال وطن دوست، عوام دوست اور قوم پرستوں کے اکٹھا ہونے کا نہیں، عوام کے متحد ہونے کا ہے

0
126428952_2924311874469698_7823980626410841038_n

سندھ میں جدوجہد کے دوران ایک الجھا دینے والا سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ وطن دوست، عوام دوست اور قوم پرست رہنما آپس میں کیوں متحد نہیں ہوتے؟ لیکن میری نظر میں اصل مسئلہ وطن دوست، عوام دوست اور قوم پرستوں کے متحد ہونے کا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ سندھ کے عوام کے متحد ہونے کا ہے۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ سندھ کا عام آدمی سیاسی طور پر کس حد تک باشعور، متحد اور منظم ہو رہا ہے۔

عوام دشمن قوتوں کو وطن دوست، عوام دوست اور قوم پرستوں کے متحد ہونے سے اتنی پریشانی نہیں جتنی پریشانی سندھ کے عوام کے متحد اور منظم ہونے سے ہے۔ کیونکہ جب عوام اپنے بنیادی مسائل کو سمجھنا شروع کرتے ہیں، اپنے حقوق اور وسائل کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں، حکمرانوں کی پالیسیوں کو پرکھنا شروع کرتے ہیں اور دشمن اور دوست کی پہچان کرنا سیکھتے ہیں، تو عوام محض تماشائی نہیں رہتے بلکہ اپنے حقوق کی جدوجہد کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اسی لیے سندھ کی جدوجہد کا سب سے اہم کام عوام کے درمیان جانا ہے۔ جو رہنما سندھ کے گاؤں گاؤں، شہر شہر، چوک چوک اور گلی گلی جا کر لوگوں سے براہِ راست رابطہ کرتا ہے، احتجاج کے ذریعے انہیں سیاسی طور پر باشعور بناتا ہے، بنیادی مسائل سے آگاہ کرتا ہے، انہیں اپنے حقوق کی پہچان کراتا ہے اور لوگوں کو یہ سمجھاتا ہے کہ ان کے مسائل کس نظام، کن پالیسیوں اور کن قوتوں سے جڑے ہوئے ہیں، یہی عمل عوامی سیاست کو مضبوط کرتا ہے۔

سیاسی جدوجہد صرف جلسوں میں تقریر کرنے یا رہنماؤں کے ایک اسٹیج پر اکٹھے کھڑے ہونے کا نام نہیں۔ سیاسی جدوجہد کا اصل مطلب یہ ہے کہ عام آدمی کو سیاست کا محض موضوع نہیں بلکہ سیاست کا فعال کردار بنایا جائے۔ مزدور اپنے مسئلے پر آواز اٹھائے، کسان اپنی زمین اور پانی کے حق کے لیے کھڑا ہو، طالب علم تعلیم اور روزگار کے لیے سوال کرے، نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں اور خواتین اپنے حقوق کے لیے سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔

وطن دوست، عوام دوست، روشن خیال اور قوم پرست جماعتوں، تنظیموں اور رہنماؤں کے طریقۂ کار مختلف ہو سکتے ہیں، سیاسی حکمتِ عملی میں اختلافات بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ان اختلافات کو عوام کے سیاسی شعور کے عمل پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر عوام خود باشعور اور منظم ہوں گے تو سیاسی اختلافات کے باوجود بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے مشترکہ آواز پیدا کر سکیں گے۔ کیونکہ رہنما عوام کو راستہ دکھا سکتا ہے، دلیل دے سکتا ہے اور سوال اٹھا سکتا ہے، لیکن حقیقی سیاسی طاقت عوام سے پیدا ہوتی ہے۔ تاریخ میں کوئی بھی بڑی تبدیلی صرف چند رہنماؤں کے متحد ہونے سے نہیں آئی، بلکہ جب عوام نے سیاسی شعور حاصل کرکے خود کو منظم کیا، تب ہی تبدیلی کے دروازے کھلے ہیں۔

لہٰذا ہر وقت یہ سوال کرنا کہ وطن دوست، عوام دوست، ترقی پسند، روشن خیال اور قوم پرست آپس میں کیوں متحد نہیں ہوتے؟ شاید اصل سوال سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ سندھ کے عوام اپنے مسائل پر کس حد تک متحد ہیں؟ وہ کتنا سیاسی شعور رکھتے ہیں؟ اپنے دشمن اور دوست کی پہچان کس حد تک کر سکتے ہیں؟ اور اپنے حقوق کے لیے جمہوری اور پُرامن جدوجہد میں کس حد تک منظم ہو رہے ہیں؟

سندھ کی جدوجہد کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کتنے رہنما ایک تصویر میں اکٹھے کھڑے ہیں، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ کتنے عام لوگ اپنے حقوق کے لیے سوال کرنا، بات کرنا، احتجاج کرنا اور جمہوری جدوجہد کا حصہ بننا شروع کرتے ہیں۔کیونکہ اصل سیاسی اتحاد رہنماؤں کے اکٹھا ہونے میں نہیں، بلکہ عوام کی سیاسی بیداری میں ہے، اور اصل طاقت جماعتوں کی تعداد میں نہیں بلکہ باشعور، متحد اور منظم عوام میں ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے