کراچی کے ساحل پر پہلی بار سپرم وہیل کی ویڈیو ریکارڈ
عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے بتایا ہے کہ کراچی کے ساحل کے قریب سپرم وہیل دیکھی گئی ہے، جس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ ادارے کے مطابق سندھ کے ساحل پر اس نوع کی یہ پہلی ریکارڈ شدہ موجودگی ہے، جبکہ اس سے قبل بلوچستان کے ساحل کے قریب اس کے دیکھے جانے کی اطلاعات تھیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بورڈ رکن زاہد میکر کی مہم کے دوران دیکھی گئی وہیل کی لمبائی تقریباً 45 فٹ بتائی گئی ہے۔ ویڈیو میں اس کے مخصوص سانس لینے کے سوراخ، جلد پر نمایاں نشانات اور پشت پر موجود ابھار بھی دکھائی دیے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر رب نواز کے مطابق پاکستان کے سمندری پانیوں میں غیر معمولی حیاتیاتی تنوع موجود ہے، تاہم اس کے کئی پہلوؤں کو ابھی پوری طرح سمجھا اور دستاویزی شکل نہیں دی جاسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی وہیل کی موجودگی سمندری ماحولیاتی نظام کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔
سپرم وہیل دانتوں والی وہیل کی سب سے بڑی قسم ہے اور عموماً اسکویڈ اور آکٹوپس کھاتی ہے۔ یہ خوراک کی تلاش میں 300 سے 800 میٹر گہرائی تک غوطہ لگاتی ہے اور بعض اوقات ایک سے دو کلومیٹر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق پاکستان کے پانیوں میں سیٹیشینز کی 26 اقسام ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔ ماہرین نے سمندری حیات کے تحفظ، ذمہ دارانہ ماہی گیری اور آبی مساکن کی حفاظت پر زور دیا ہے۔