سندھ کی تقسیم ملک توڑنے کی سازش، تمام تر بحث اور غیر قانونی کینال منصوبے فوری بند کیے جائیں. سندھ ایکشن کمیٹی

0
1001364994

حیدرآباد سندھ ایکشن کمیٹی کی سندھ مشاورت کونسل کا ایک اہم اجلاس کنوینر سید زین شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے قیام کی بحث کو سندھ اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف ایک گہری سازش قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر پریس کانفرنس کے ذریعے اس جاری بحث کو ختم کرائیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ پاکستان 1940ء اور 1943ء کی قراردادوں کے تحت تاریخی وطنوں پر مشتمل ایک فیڈریشن ہے، اور سندھ اسمبلی ماضی میں چھ بار صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صوبے میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کے قیام سے متعلق کوئی غیر قانونی فیصلہ کیا گیا تو سندھ شدید مزاحمت کرے گا اور پنجاب کی جانب جانے والے تمام مواصلاتی و ٹرانسپورٹ کے راستے بند کر دیے جائیں گے۔ اجلاس میں دریائے سندھ پر نئے کینالز کی تعمیر، چناب پر ڈیموں کی منصوبابندی، اور جلال پور و چولستان کو آباد کرنے کی آڑ میں سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے کی شدید مذمت کی گئی۔ ایکشن کمیٹی نے صدر زرداری کی جانب سے چھ کینالوں کی منظوری اور اس پر پیپلز پارٹی کی خاموشی کو اقتدار کے حصول کی خاطر ‘سندھ دشمنی’ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 1991ء کے واٹر معاہدے کے تحت سندھ کو اس کے حصے کا مکمل پانی فراہم کیا جائے تاکہ زراعت کے ساتھ ڈیلٹا کو بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ’گرین پاکستان پروجیکٹ‘ کے تحت کمپنیوں کو الاٹ کی گئی لاکھوں ایکڑ زمینوں کی منسوخی، اور سندھ کے معدنی، ساحلی و دیگر تمام وسائل پر وفاق کے کنٹرول کو ختم کر کے صوبائی اختیار تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ کونسل نے بلدیاتی نظام پر وفاقی مداخلت کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی ادارے صرف صوبائی حکومت کے ماتحت ہونے چاہئیں۔ صوبے کی اندرونی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت کو بدامنی، تعلیمی تباہی اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ کی پامالی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اس موقع پر ملک میں سیاسی سرگرمیوں، آزادیِ اظہار اور پیکا ایکٹ کے ذریعے میڈیا پر پابندیوں سمیت پرامن مظاہرین پر تشدد کی شدید مذمت کی گئی، اور عمران خان، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، مخدوم شاہ محمود قریشی، ایمان مزاری اور ارباب بھیل سمیت تمام سیاسی قیدیوں پر قائم مقدمات ختم کر کے انہیں فوری آزاد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس نے لسانی سیاست کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے سندھ کی وحدت کا ساتھ دینے والے اردو اور پنجابی بولنے والے شہریوں کے جذبے کو سراہا۔ اجلاس میں ڈاکٹر صفدر عباسی، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید ظفر شاہ، ڈاکٹر نیاز کالانی، مسرور شاہ، بخشل تھلہو، نواز خان زنؤر، انجنیئر عبدالرزاق لاکھو، مظهر راہوجو، فتح چنا، اقبال احمد اور حافظ سکندر تنیو سمیت مختلف قومی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے