مولا بخش خاصخیلی: مشکل وقت کا ثابت قدم کامریڈ
1996ء کا زمانہ تھا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا کا سیاسی منظرنامہ بدل چکا تھا۔ سوشلسٹ فکر پر نئے سوالات اٹھائے جا رہے تھے اور کئی پرانے کامریڈوں کے لہجوں میں مایوسی محسوس ہوتی تھی۔ ایسے وقت میں، جب کمیونسٹ ہونا بذاتِ خود ایک امتحان بن چکا تھا، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اپنے نظریے، اصولوں اور جدوجہد سے مضبوطی کے ساتھ جڑے رہے۔ کامریڈ مولا بخش خاصخیلی بھی انہی ثابت قدم لوگوں میں سے ایک تھے۔
ہماری ملاقات کامریڈ عاصم آخوند کے ذریعے کامریڈ امداد قاضی سے ہوئی۔ نسیم نگر میں ہونے والی کچہریوں میں سیاسی اور نظریاتی بحثیں جاری رہتی تھیں۔ کمیونسٹ پارٹی مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ بالآخر 1996ء کے وسط میں خالد ، ذوالفقار شاہ، عاصم آخوند اور میں بھی اس قافلے کا حصہ بن گئے۔ اس دور میں کامریڈ مولا بخش خاصخیلی، استاد مرتضیٰ، اسماعیل خاصخیلی، ماندل شر، کٹو شر، فرہاد رند، منصور سعید، امام علی نازش اور دیگر کئی ساتھیوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
کامریڈ اقبال خان، جو آج بھی سندھ میں پارٹی کی قیادت سے وابستہ ہیں، اس وقت ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری کی یونین میں استاد مرتضیٰ اور محمد حنیف کے ساتھ سرگرم تھے۔
کامریڈ مولا بخش خاصخیلی اس دور میں ٹریڈ یونین تحریک کا ایک اہم نام تھے۔ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد ہو یا نظریاتی محاذ، ان کا کردار ہر جگہ نمایاں نظر آتا تھا۔ انہیں محبت اور اپنائیت سے ’’چاچا مولا بخش‘‘ کہا جاتا تھا۔ سادگی، بے لوثی اور اصول پسندی ان کی شخصیت کی نمایاں پہچان تھی۔
سوویت یونین کے زوال کے بعد کمیونسٹ فکر کا دفاع کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اس دور میں خود کو کمیونسٹ کہنا اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ انسان ہر وقت سوالات، اعتراضات اور مخالفتوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ بہت سے پرانے ساتھی مایوسی کی باتیں کرتے تھے، لیکن چاچا مولا بخش جیسے لوگ اپنی جگہ ثابت قدمی سے کھڑے رہے۔ ان کا یقین تھا کہ نظریات محض سیاسی حالات کی تبدیلی سے ختم نہیں ہوتے، بلکہ عوام کی جدوجہد کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔
ان دنوں ’’مارکسزم کا دفاع‘‘ کے عنوان سے مختلف پروگرام اور اجتماعات منعقد ہوتے تھے۔ قاسم آباد کے عبداللہ پارک میں ہونے والی بڑی ہاری کانفرنس آج بھی یاد ہے، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔ کامریڈ خالد چانڈیو اس کانفرنس میں انتہائی سرگرم رہے۔ اس کے بعد حالات بعض ساتھیوں کے لیے مزید مشکل ہوگئے اور دباؤ بھی بڑھا، لیکن ایسے وقت میں بھی کامریڈ مولا بخش خاصخیلی اور کامریڈ امداد قاضی کے چہروں پر ایک عجیب سا اطمینان اور اعتماد نظر آتا تھا۔ ان کی بے خوفی اور ثابت قدمی نوجوان ساتھیوں کے لیے حوصلے کا سرچشمہ تھی۔
کامریڈ مولا بخش خاصخیلی ٹریڈ یونین رہنما ہونے کے باوجود کبھی ذاتی مفاد کی راہ پر نہیں چلے۔ انہوں نے سادہ زندگی گزاری، لیکن اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ ہماری نسل کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جو اپنے فکر و نظریے کے ساتھ آخری لمحے تک وفادار رہے۔
وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ایسے انسان بھی تھے جنہوں نے اپنے ساتھیوں کے دلوں سے خوف نکالنے اور ان میں جدوجہد کا حوصلہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مشکل حالات میں بھی پارٹی اور اپنے نظریے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کام جاری رکھا۔ ایسی ثابت قدمی تاریخ میں ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ روہڑی سیمنٹ فیکٹری کی یونین سے لے کر کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری تک ان کا سیاسی سفر سندھ کی مزدور اور سیاسی تحریک کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ان کی زندگی پر ایک مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ زندگی محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک فکر، ایک جدوجہد اور ایک پورے عہد کی تاریخ ہے۔
تاریخ ان لوگوں کو فراموش نہیں کرسکتی جو زمانے کی سخت ہواؤں میں بھی اپنے اصولوں کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتے۔ کامریڈ مولا بخش خاصخیلی بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے، جو آخری لمحے تک اپنے نظریے، اپنی پارٹی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وفادار رہے۔