سندھ میں بڑھتی   ہوئی بدامنی، ریاستی رٹ اور عوام کے تحفظ کا سوال

493926755_4060065944267727_6708146794263029158_n

سندھ میں بدامنی کا بڑھتا ہوا سلسلہ اب کسی ایک شہر، ضلع یا علاقے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ صوبے کے امن، انتظامی ڈھانچے اور ریاستی ذمہ داری کے حوالے سے ایک سنگین سوال بن چکا ہے۔ آئے روز اغوا، ڈکیتی، قتل اور دیگر جرائم کی خبریں اس امر کی گواہی دے رہی ہیں کہ عام شہری کے اندر عدم تحفظ کا احساس مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ایک صحافی محمد عظیم سیال رات گئے خانپور مہر تھانے کی حدود سے مبینہ طور پر اغوا ہو جائے اور اس کی گاڑی پنوعاقل کے علاقے میں سدھوجا  تھانے کی حدود سے برآمد ہو تو یہ محض ایک فرد کے اغوا کا واقعہ نہیں رہتا، بلکہ سندھ میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

صحافت کا بنیادی فریضہ معاشرے کے مسائل کو زبان دینا، ظلم و ناانصافی کو بے نقاب کرنا، عوام کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانا اور ان سوالات کو سامنے لانا ہے جنہیں طاقت کے مراکز نظرانداز کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اگر ایک صحافی بھی اپنے علاقے میں محفوظ نہ ہو تو عام شہری کے تحفظ کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے؟ عظیم سیال کے مبینہ اغوا کا واقعہ اس بنیادی سوال کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو کسی شہری کو رات کی تاریکی میں اٹھا لے جانے کی اتنی جرأت کہاں سے ملتی ہے؟ کیا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی خوف باقی نہیں رہا؟ کیا پولیس کی نگرانی، گشت، مخبری اور انٹیلی جنس کا نظام اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ مسلح عناصر واردات کرکے آسانی سے غائب ہو جائیں؟

سندھ پولیس صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی بنیادی ذمہ دار ہے۔ پولیس کے پاس اہلکار، وسائل، قانونی اختیارات اور جدید ٹیکنالوجی موجود ہونی چاہیے، مگر ان وسائل کی اصل اہمیت ان کے مؤثر استعمال اور عملی نتائج سے ہے۔ کسی واردات کے بعد نوٹس لینا، تحقیقات کا حکم دینا، چھاپے مارنا اور اجلاس منعقد کرنا اپنی جگہ، لیکن عوام کو نوٹس یا بیانات نہیں، نتائج درکار ہیں۔ انہیں اپنے پیارے بازیاب چاہییں، انہیں لٹنے سے تحفظ چاہیے اور انہیں یہ یقین چاہیے کہ ریاست کی رٹ محض کاغذوں اور پریس ریلیزوں میں نہیں بلکہ میدانِ عمل میں بھی موجود ہے۔

عظیم سیال کے معاملے میں ایس ایس پی گھوٹکی کی جانب سے فوری نوٹس اور بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات یقیناً ضروری ہیں، لیکن معاملہ صرف ایک واقعے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ سندھ پولیس کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی حکومت کو یہ بنیادی سوال اٹھانا ہوگا کہ اغوا، ڈکیتی اور بدامنی کے واقعات بار بار کیوں جنم لیتے ہیں؟ اگر ایک واردات کے بعد کارروائی کی جائے اور چند دن بعد اسی علاقے یا اس کے گرد و نواح میں ایک نئی واردات ہو جائے تو پھر سوال صرف ایک ملزم کی گرفتاری کا نہیں رہتا، بلکہ پوری حکمت عملی کی افادیت پر اٹھتا ہے۔

سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام طویل عرصے سے بدامنی کے خلاف دہائی دے رہے ہیں۔ خصوصاً کچے کے علاقوں سے وابستہ جرائم، تاوان کے لیے اغوا، قبائلی تنازعات، ڈکیتیوں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی اطلاعات کوئی نئی بات نہیں۔ برسوں سے یہ مسئلہ مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا ہے، مگر اگر اتنے طویل عرصے کے بعد بھی شہریوں کے جان و مال کو وہ تحفظ حاصل نہیں ہو سکا جس کی حکومت ذمہ دار ہے تو پھر محض روایتی بیانات اور وقتی کارروائیوں سے کام نہیں چلے گا۔

حکومت کو ایسی جامع اور مستقل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جو جرائم پیشہ عناصر کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرے، ان کے مالی اور انتظامی نیٹ ورک کو توڑے، ان کے سہولت کاروں تک پہنچے اور ان علاقوں میں ریاستی رٹ کو عملاً بحال کرے جہاں جرائم پیشہ عناصر قانون سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتے ہیں۔ صرف چند افراد کو گرفتار کر لینا کافی نہیں؛ جب تک جرائم کے پورے نیٹ ورک اور اس کے ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، بدامنی کا سلسلہ رکنے کے بجائے نئی شکلوں میں سامنے آتا رہے گا۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ امن و امان صرف پولیس کا مسئلہ نہیں۔ یہ حکومت کی مجموعی انتظامی کارکردگی، حکومتی ترجیحات اور حکمرانی کی صلاحیت کا امتحان ہے۔ جب شہری اپنے گھروں، بازاروں، کاروباری مراکز، شاہراہوں اور سفر کے دوران خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں تو اس کے اثرات صرف سماجی زندگی تک محدود نہیں رہتے۔ بدامنی کاروبار کو متاثر کرتی ہے، سرمایہ کاری کے امکانات کم کرتی ہے، معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کرتی ہے۔

صحافیوں کا تحفظ اس پورے معاملے میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ آزاد صحافت کسی بھی معاشرے میں احتساب، شفافیت اور عوامی مسائل کی ترجمانی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اگر صحافی خوف کے سائے میں کام کرنے پر مجبور ہو جائے تو جرائم، کرپشن، انتظامی نااہلی اور عوامی مسائل کی بے باک رپورٹنگ کیسے ممکن ہوگی؟ قلم کو خوف زدہ کر کے معاشرے کو خاموش تو کیا جا سکتا ہے، لیکن مسائل ختم نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے عظیم سیال کے مبینہ اغوا کو محض ایک صحافی کے ذاتی مسئلے کے طور پر دیکھنا مناسب نہیں ہوگا؛ یہ صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور شہری آزادیوں سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔

صحافی برادری کی جانب سے سخت احتجاج کی وارننگ اپنی جگہ اہم ہے، مگر حکومت اور پولیس کو اس مرحلے تک پہنچنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اداروں کی ذمہ داری یہ نہیں کہ عوام پہلے احتجاج کریں، سڑکوں پر نکلیں، دھرنے دیں اور دباؤ بڑھائیں، تب جا کر انتظامیہ حرکت میں آئے۔ حکومت کا فرض ہے کہ شکایت کو احتجاج بننے سے پہلے سنے، مسئلے کو بحران بننے سے پہلے حل کرے اور جرم کو بڑے سانحے میں تبدیل ہونے سے پہلے روکے۔

اب فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ محمد عظیم سیال کے مبینہ اغوا کے واقعے کی شفاف، غیر جانب دار اور تیز رفتار تحقیقات کی جائیں۔ ان کی موجودگی اور ممکنہ مقام کے حوالے سے ہر دستیاب ذریعے سے معلومات حاصل کی جائیں۔ پنوعاقل کے سدھوجا  تھانے کی حدود سے ملنے والی گاڑی کو تحقیقات کا اہم حصہ بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی، موبائل ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب ذرائع کو بروئے کار لا کر ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عظیم سیال کے اہل خانہ اور صحافی برادری کو تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جانا چاہیے، تاکہ افواہوں اور بے یقینی کی فضا کو جنم لینے سے روکا جا سکے۔

اب سندھ حکومت کے لیے محض امن و امان کے دعوے کافی نہیں۔ دعووں کی جگہ نتائج دکھانا ہوں گے۔ سندھ پولیس کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانون کی بالادستی صرف تقریروں، پریس کانفرنسوں اور سرکاری بیانات کا موضوع نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔ اگر اغوا کار، ڈاکو اور مسلح جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہو کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل ہیں تو اس صورتحال کا سنجیدہ احتساب ناگزیر ہو جاتا ہے

محمد عظیم سیال کی جلد اور محفوظ بازیابی اس وقت حکومت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ اس امتحان کا جواب بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔ سندھ کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں مجرموں کے لیے قانون کا خوف حقیقی ہو، شہریوں کے لیے تحفظ حقیقی ہو اور ریاست کی رٹ محض دعویٰ نہیں بلکہ زمین پر نظر آئے۔کیونکہ جب شہری کو تحفظ کا یقین ختم ہو جائے تو صرف امن و امان کا نظام نہیں، ریاست پر اعتماد بھی کمزور ہونے لگتا ہے