اساتذہ کا مقام بلند ہوگا تو معاشرہ بھی بلند ہوگا
بچے کی زندگی کا پہلا سبق کسی کتاب کے صفحے سے نہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور اس سے سیکھنے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ اپنے گھر، ماحول اور معاشرے سے بہت سی باتیں کسی رسمی تعلیم کے بغیر ہی سیکھ لیتا ہے، تاہم منظم اور باقاعدہ علم کے حصول کے لیے اسے ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے ذہن میں سوال کرنے، سوچنے اور درست نتیجے تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہی رہنما استاد ہے۔
استاد کا کام صرف کتاب پڑھانے یا امتحان پاس کرانے تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ ایک ناآشنا ذہن کو شعور کی روشنی سے روشناس کراتا ہے اور علم کے ساتھ اخلاق، تربیت اور زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے۔ استاد ہی طالب علم کو صحیح اور غلط، سچ اور جھوٹ، حق اور ناانصافی کے درمیان فرق سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ اس کی تربیت سے ایک طالب علم آگے چل کر صرف اپنے روزگار کے لیے اہل نہیں بنتا بلکہ معاشرے کا ذمہ دار اور مفید فرد بھی بن سکتا ہے۔
استاد کو اگر علم کے وسیع سمندر سے قیمتی موتی تلاش کرنے والا غوطہ خور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ وہ اپنے علم اور تجربے سے ان باتوں کا انتخاب کرکے طلبہ تک پہنچاتا ہے جو ان کی شخصیت اور مستقبل کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ آج معاشرے میں جو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سائنس دان، ادیب، صحافی اور مختلف شعبوں کے ماہرین اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، ان کے علمی سفر کا آغاز بھی کسی نہ کسی استاد کے کلاس روم سے ہی ہوا تھا۔
لیکن جب ہم اپنے معاشرے کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو کئی سوال ہمارے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اخلاقی اقدار کمزور ہورہی ہیں، عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے، نوجوانوں میں بے راہ روی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں اور سماجی ذمہ داری کا احساس کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس صورتحال کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں، تاہم ان میں ایک اہم سبب تعلیم اور استاد کے مقام کو وہ سابقہ اہمیت نہ ملنا بھی ہے جس کا وہ حق دار ہے۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے مقامات پر دولت، عہدے اور اختیار کو عزت کا بنیادی معیار سمجھا جاتا ہے، جبکہ علم اور تعلیم سے وابستہ افراد اس مقام سے محروم نظر آتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ استاد محض ایک پیشہ اختیار کرنے والا شخص نہیں، بلکہ وہ نسلوں کی فکری اور اخلاقی تعمیر سے وابستہ ایک ایسا کردار ہے جس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو تعلیم کو ترجیح دینے کے ساتھ استاد کی عزت، وقار اور جائز حقوق کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ استاد کا مقام بلند کرنا دراصل علم، شعور اور مستقبل کا مقام بلند کرنا ہے۔
عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر ان تمام اساتذہ کو سلام، جنہوں نے اپنے علم، محنت اور تربیت کے ذریعے نسلوں کے ذہنوں کو روشن کیا اور معاشرے کو بہتر انسان دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔