سندھ میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ روزگار کے تحفظ کے لیے 30 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کا منصوبہ
سندھ میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادیوں کے روزگار کے تحفظ کے لیے آسٹریلیا اور پاکستان نے 30 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ ساڑھے چار سالہ اقدام کا مقصد صوبے کی دیہی برادریوں کو بدلتے موسمی حالات کے مطابق پائیدار ذریعہ معاش اپنانے میں مدد دینا ہے۔
اس کا اعلان اسلام آباد میں پاکستان واٹر ویک 2026 کے دوران آسٹریلین واٹر انوویشنز اِن انڈس بیسن کے اجلاس میں کیا گیا۔ آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ (ACIAR) کے تحت منصوبے میں آسٹریلیا، پاکستان اور ناروے کے آٹھ ادارے مقامی آبادیوں کے ساتھ کام کریں گے۔
منصوبے میں زراعت، نقل مکانی اور کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے روزگار اور موسمیاتی موافقت پر توجہ دی جائے گی۔ حل مقامی برادریوں کے اشتراک سے تیار ہوں گے، جبکہ خواتین کی شمولیت بھی یقینی بنائی جائے گی۔ نتائج پالیسی سازی میں استعمال کیے جائیں گے۔
ACIAR کے پاکستان کنٹری منیجر ڈاکٹر منور رضا کاظمی کے مطابق مٹی کی نمی جانچنے والے سینسرز سے کسانوں کو تقریباً 30 فیصد پانی بچانے اور پیداوار میں 15 فیصد اضافے میں مدد ملی ہے۔
جنوبی سندھ میں سیم و تھور کے مقامی حل بھی منصوبے کا حصہ ہوں گے۔