سندھ نے محفوظ خون کی فراہمی میں تاریخ رقم کردی، بلڈ بینکنگ نیٹ ورک فعال
پاکستان میں ہر سال ہزاروں مریضوں کی زندگی بروقت اور محفوظ خون کی فراہمی پر منحصر ہوتی ہے۔ تھیلیسیمیا، کینسر، حادثات، بڑی سرجریوں اور زچگی کے دوران خون کی ضرورت اکثر زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ سندھ میں ایسے مریضوں تک بروقت اور محفوظ خون پہنچانے کے لیے حکومت سندھ اور انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے پاکستان کا پہلا مکمل فعال ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک قائم کر دیا ہے۔
اس منصوبے کا مرکزی مرکز ریجنل بلڈ سینٹر جامشورو ہے، جہاں سے حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کے آٹھ سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس کو محفوظ خون فراہم کیا جائے گا۔ اس نظام کے ذریعے سندھ کے مختلف اضلاع میں ہزاروں مریضوں کو بروقت اور معیاری خون کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت ایک جدید مرکزی بلڈ سینٹر خون جمع کرنے، اس کی اسکریننگ، مختلف اجزا میں تقسیم اور محفوظ ذخیرہ کرنے کا کام انجام دیتا ہے، جبکہ اس سے منسلک اسپتالوں کے بلڈ بینکس ضرورت کے مطابق مرکزی سینٹر سے محفوظ خون حاصل کرتے ہیں۔
اس نظام سے خون کے ضیاع میں کمی، جانچ اور ذخیرہ کرنے کے معیار میں بہتری کے ساتھ مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں تک بروقت محفوظ خون پہنچانا ممکن ہوگا۔
جامشورو میں قائم ریجنل بلڈ سینٹر اب لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) جامشورو و حیدرآباد، سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹالوجی سمیت ٹھٹھہ، میرپورخاص، مٹیاری، بدین اور مٹھی کے سرکاری اسپتالوں کے بلڈ بینکس کو محفوظ خون فراہم کرے گا۔
منصوبے سے منسلک تمام بلڈ بینکس بین الاقوامی معیار ISO 15189 کے مطابق تصدیق شدہ ہیں، جس سے خون کی جانچ، ذخیرہ کرنے اور مریضوں تک محفوظ خون کی فراہمی کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ منصوبہ حکومت سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت مکمل کیا گیا ہے، جبکہ جرمن حکومت نے KfW ڈویلپمنٹ بینک کے ذریعے پاکستان سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام (SBTP) کے تحت اس کی مالی معاونت کی۔
اس منصوبے کو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مکمل فعال سرکاری ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مرکزی سطح پر خون کی جانچ، تیاری اور ذخیرہ کرنے کے بعد ضرورت کے مطابق مختلف اسپتالوں کو محفوظ خون فراہم کیا جائے گا
اس پیش رفت کی مناسبت سے انڈس زندگی کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرنے والوں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور شراکت دار اداروں کی خدمات کو سراہا گیا اور انہیں اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب میں نایاب بلڈ گروپس رکھنے والے رضاکارانہ ڈونرز کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کے تعاون سے پاکستان میں پہلی مرتبہ ریڈ سیل ری ایجنٹس کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو رہی ہے۔
انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ خون کا ہر عطیہ کسی مریض کے لیے نئی زندگی کی امید بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق انڈس اسپتال میں تمام طبی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والوں کے تعاون سے ہر سال ہزاروں مریضوں کی جانیں بچانے میں مدد ملتی ہے۔
ادارے کی سینئر ڈائریکٹر بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز ڈاکٹر صبا جمال کے مطابق انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اس وقت نو ہزار سے زائد اسپتالی بستروں کے لیے محفوظ خون کی فراہمی کا انتظام کر رہا ہے۔ ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ خون کے عطیات جمع کیے جاتے ہیں، جبکہ سات لاکھ سے زائد مریض محفوظ خون اور اس کے اجزا سے مستفید ہوتے ہیں۔
حکومت سندھ مستقبل میں چار ریجنل بلڈ سینٹرز کے ذریعے مزید سرکاری اسپتالوں کو اس نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مریضوں کو بروقت، محفوظ اور معیاری خون کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
جامشورو میں قائم ہونے والا ہب اینڈ اسپوک بلڈ بینکنگ نیٹ ورک سندھ کے صحت کے نظام میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ مرکزی سطح پر خون کی اسکریننگ، تیاری اور ذخیرہ کرنے کے بعد مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں تک اس کی فراہمی سے نہ صرف بلڈ بینکنگ کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ ضرورت کے وقت محفوظ خون کے حصول میں مریضوں کو درپیش مشکلات میں بھی کمی لائی جا سکے گی