aijaz ahmed qureshi

سندھ اپنے قدرتی وسائل، سمندری ساحل، زرعی پیداوار اور جغرافیائی حیثیت کے باعث ہمیشہ سے معاشی اہمیت کا حامل خطہ رہا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر سندھ کے وسائل اور معیشت کے حوالے سے مرکزی اور صوبائی سطح پر اختیارات کی تقسیم کا سوال بھی اہم رہا ہے۔ افسوس کہ سندھ کی جاگیردارانہ اور وڈیرہ شاہی سیاست بھی عام لوگوں، خصوصاً نوجوانوں کے روزگار اور معاشی خودمختاری کے لیے مطلوبہ مستقل اور مؤثر کردار ادا نہیں کر سکی۔ نتیجتاً بے روزگاری ہر دور میں سندھ کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی رہی ہے۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں صنعت، تجارت اور روزگار کے زیادہ مواقع موجود ہونے کے باعث سندھ کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں کا کراچی کا رخ کرنا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کراچی کی اردو بولنے والی آبادی کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے سندھ کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کے روزگار اور شہر میں رہائش کے حوالے سے اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کراچی ملک کے دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کے لیے بھی روزگار کا مرکز ہے، اس لیے سندھ کے نوجوانوں کو اپنے ہی صوبے کے دارالحکومت میں روزگار کے مواقع حاصل کرنے سے روکنے والی سوچ پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ وفاقی ملازمتوں میں سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے لیے مقرر کوٹے پر بھی وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ دوسری جانب سندھ کے دیہی علاقوں میں صنعتوں اور روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوانوں کے لیے کراچی اور دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں کراچی کی حیثیت، سندھ کی وحدت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے بحث کو جذبات کے بجائے حقائق، اعداد و شمار اور انصاف کے اصولوں کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس تمام صورتحال کا ایک اہم حل سندھ کے سندھی اور اردو بولنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں، دانشوروں اور سماجی حلقوں کے درمیان سنجیدہ اور بامقصد مکالمہ ہے۔ سندھ کے معاشی اور سیاسی مسائل کا منصفانہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر ایسا مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے جس میں کسی بھی زبان یا آبادی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو محروم رکھنے کے بجائے سب کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے پر زور دیا جائے۔ سندھ کی مجموعی ترقی کے لیے نوجوانوں کو اپنے ذاتی مستقبل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے وسیع تر مفاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔

نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے زیادہ متحرک، پُرجوش اور ولولے سے بھرپور طبقہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے درست سمت، مناسب تعلیم اور مطلوبہ مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ معاشرے کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سندھ کے نوجوان زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں اور انفرادی و اجتماعی سطح پر کامیابیاں بھی حاصل کر رہے ہیں، لیکن مناسب رہنمائی، تربیت اور مواقع انہیں مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔ آج کے دور میں انفرادی اور اجتماعی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ تعلیم ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک وسیع دنیا بن چکی ہے، جس میں نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور تحقیق کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اس کے ساتھ جدید زرعی ٹیکنالوجی، مینجمنٹ، ٹاؤن پلاننگ، صنعتی شعبوں اور دیگر فنی شعبوں سے متعلق تعلیم نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سفارشی کلچر، جگاڑ، سستی اور کاہلی پر مبنی روایات کو ترک کرکے قابلیت، محنت اور میرٹ کو اپنی ترقی کی بنیاد بنائیں۔

نوجوانوں کا کردار صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ سیاست اور سماجی شعور کے میدان میں بھی ان کی اہم حیثیت ہے۔ نوجوان اپنی اور اپنے معاشرے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے جوش، جذبے اور ہمت کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم سیاسی اور سماجی معاملات میں جذبات کے ساتھ علم اور تجربہ بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو اپنے سینئرز سے رہنمائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تجربات اور مشاہدات سے بھی سیکھنا چاہیے۔

پولیٹیکل سائنس، عمرانیات اور معاشیات جیسے شعبے معاشرے کے ڈھانچے، معیشت، سیاست اور حکمرانی کو سمجھنے کے لیے بنیادی علم فراہم کرتے ہیں۔ آج کے دور میں سیاسی میدان میں کام کرنے والے نوجوانوں کے لیے ان شعبوں کی معلومات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ افسوس کہ سیاسی تنظیموں میں سرگرم بہت سے نوجوان ایسی علمی تربیت سے محروم ہیں، جبکہ سیاسی تنظیمیں بھی نوجوانوں کی فکری اور علمی تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کے لیے مطلوبہ توجہ نہیں دیتیں۔ سیاسی تربیت صرف نعرے بازی یا تنظیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں مطالعہ، بحث، تحقیق اور پالیسی کی سمجھ بھی شامل ہونی چاہیے۔

آج کے دور کو تبدیلی کا دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی تیزی سے زندگی کے ہر شعبے کو تبدیل کر رہی ہے، روزگار کے روایتی طریقے بدل رہے ہیں اور عالمی سطح پر مسابقت مزید سخت ہو رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں نوجوانوں کو ایسی تعلیم اور فنی تربیت کی ضرورت ہے جو انہیں مستقبل کی ضروریات کے مطابق باصلاحیت بنائے۔ خصوصاً سندھ کے دیہی علاقوں کے نوجوان اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے لیے درکار سہولیات سے اب بھی بڑی حد تک محروم ہیں۔ اس خلا کو ختم کرنے کے لیے کیریئر کاؤنسلنگ، فنی تربیت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے اداروں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے لیے مختلف ادارے اور پروگرام موجود ہیں، جبکہ نوجوانوں کے امور کے حوالے سے وفاقی سطح پر وزارت بھی کام کر رہی ہے۔ ان اداروں کی کارکردگی پر تنقید اور سوالات اپنی جگہ، لیکن نوجوانوں کو ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے دستیاب مواقع تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ آخرکار یہ ادارے عوام کے ٹیکسوں سے چلتے ہیں، اس لیے ان سے لاتعلق رہنے کے بجائے ان سے اپنے حقوق اور سہولیات کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح فنی اور ووکیشنل اداروں سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی نوجوانوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے مالی وسائل ایک بڑا مسئلہ ہیں، لیکن اسکالرشپس اس مسئلے کا ایک اہم حل ثابت ہو سکتی ہیں۔ ملک کے اندر مختلف جامعات اور اداروں میں محدود سطح پر اسکالرشپ کے مواقع موجود ہیں، جبکہ غیر ملکی جامعات اور ممالک کی جانب سے بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف اسکالرشپس فراہم کی جاتی ہیں۔ نوجوانوں کو ان مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کرنے، درخواستیں جمع کرانے اور اپنی قابلیت میں اضافہ کرنے کے لیے مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔

بے روزگاری نوجوانوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں اور میرٹ، شفافیت اور بھرتی کے عمل کے حوالے سے شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسی صورتحال نوجوانوں کے لیے مایوسی کا سبب بن سکتی ہے، لیکن مایوسی مسئلے کا حل نہیں۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن ساتھ ہی نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے متبادل مواقع کی تلاش بھی جاری رکھنی چاہیے۔

اگر اپنے علاقے میں روزگار کے مناسب مواقع موجود نہ ہوں تو نوجوانوں کو کراچی، حیدرآباد اور سکھر جیسے بڑے شہروں کا رخ کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ خصوصاً کراچی میں مختلف شعبوں میں روزگار اور کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تاہم بڑے شہروں میں کامیابی کے لیے مستقل مزاجی، جستجو، محنت اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی گاؤں یا علاقے کے چند نوجوان مل کر کرائے پر رہائش اختیار کریں تو ان کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور روزگار کی تلاش کے دوران ایک دوسرے کی مدد بھی کی جا سکتی ہے۔ بڑے شہروں میں رہنے کا تجربہ بھی نوجوانوں کو نئے لوگوں، نئے شعبوں اور نئے مواقع سے متعارف کراتا ہے، جو ان کے مستقبل کی تعمیر میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

سندھ کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کچھ بنیادی اقدامات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو بری عادات اور غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کرتے ہوئے اپنے وقت اور توانائی کو تعلیم، ہنر اور تعمیری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ تعلیم کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ اگر لاکھوں بچے پرائمری تعلیم سے باہر ہیں تو یہ صورتحال صرف محکمہ تعلیم ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے اور حکومت کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ سندھ حکومت کو خصوصاً دیہی علاقوں میں بند پڑے اسکولوں کو فعال کرنے، اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور بچوں کے لیے بنیادی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

اسی طرح نوجوانوں میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو فروغ دینا، جامعات کی تعداد بڑھانے کے بجائے موجودہ جامعات کا معیار بہتر بنانا، پرائمری اسکولوں کی عمارتوں اور بنیادی سہولیات کو بہتر کرنا اور جدید تعلیمی ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ سندھ میں صنعتوں کا جال وسیع کرنے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں میں رشوت اور اقربا پروری کی روک تھام سے میرٹ پر مبنی روزگار کا نظام مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

دیہی علاقوں میں خصوصاً کمپیوٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر فنی مہارتوں کے ادارے قائم کیے جانے چاہئیں، تاکہ نوجوان اپنے علاقوں میں رہتے ہوئے جدید مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے ساتھ بیرون ملک روزگار کے مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو نوجوانوں کے لیے فنی تربیت، زبانوں کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے رہنمائی کے پروگرام شروع کرنے چاہئیں، تاکہ وہ محفوظ اور قانونی طریقے سے عالمی روزگار کی منڈی میں داخل ہو سکیں۔

سندھ کے نوجوانوں کا مستقبل صرف سرکاری ملازمتوں سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔ جدید دور میں علم، ہنر، ٹیکنالوجی، کاروباری صلاحیت اور تخلیقی سوچ روزگار کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کے لیے تعلیم، تربیت، روزگار اور کاروبار کے منصفانہ مواقع پیدا کرے، جبکہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں، وقت کے تقاضوں کو سمجھیں اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے خود بھی فعال کردار ادا کریں۔

سندھ کی ترقی کا سوال بالآخر سندھ کے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر نوجوان تعلیم یافتہ، فنی طور پر باصلاحیت، سیاسی اور سماجی طور پر باشعور اور معاشی طور پر خودمختار ہوں گے تو سندھ کی ترقی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ اس کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، سیاسی تنظیموں، دانشوروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں میرٹ، محنت اور قابلیت کو بنیاد بنایا جائے اور نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ سندھ کے مستقبل کی تعمیر میں بھی بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے