مانک کنگرانی: ایک نقش، جو باقی رہ گیا

0
NASEER SOOMRO

نصیر سومرو

کچھ لوگ زندگی میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن ان کے آنے اور جانے کے درمیان چھوڑے گئے نقش کبھی پوری طرح مٹ نہیں پاتے۔ ایسے نقش آہستہ آہستہ یادداشت کی تہہ میں اترتے جاتے ہیں اور پھر کسی بھولی ہوئی راہ، کسی پرانے لفظ یا کسی اچانک لمحے میں دوبارہ نمایاں ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔

سنہ 2000 ایسا ہی ملاقاتوں اور تجربات سے بھرا ہوا ایک سال تھا۔ اس وقت میرا ادبی سفر ابھی مکمل صورت اختیار نہیں کر سکا تھا۔ نئے ارادے، نئی امیدیں، نئے خدشات، نئے چہرے اور نئی راہیں روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ قدم قدم پر ادب کی دنیا کوئی نئی بات سامنے لاتی تھی اور ہر ملاقات اپنے پیچھے کوئی نہ کوئی نقش چھوڑ جاتی تھی۔

ان دنوں لکھنے پڑھنے کا اپنے اندر ایک الگ جہان آباد تھا۔ پریس کی مشینیں چلتی تھیں اور گرم سیاہی کی خوشبو کے ساتھ خبریں کاغذ پر جنم لیتی تھیں۔ اخبارات کے دفاتر میں لفظوں کے انتخاب اور خبروں کی اہمیت پر بحثیں ہوتیں۔ چائے کے ہوٹلوں میں چھوٹی چھوٹی میزوں کے گرد بڑی بڑی باتیں ہوا کرتی تھیں۔ ادب، سیاست اور سماج پر گفتگو چلتی رہتی اور کبھی کسی شعر یا کتاب پر بات اتنی طویل ہو جاتی کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہتا۔

فون کی گھنٹیاں بھی اس زمانے کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ خاموشی میں اچانک گھنٹی بجتی اور کسی دوسرے مقام پر بیٹھے شخص کی آواز فاصلے عبور کرکے کمرے تک پہنچ جاتی۔ اسمارٹ فون ابھی ہر ہاتھ تک نہیں پہنچا تھا اور سیٹلائٹ چینل نئی خبروں اور نئے ذرائع کی راہیں کھول رہے تھے۔

اسی ماحول میں مانک کنگرانی سے ملاقاتیں بھی زندگی کے بہاؤ کا حصہ بن گئیں۔ مانک سے بات کرتے ہوئے ایک خاص اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔ اس کے الفاظ میں بناوٹ نہیں بلکہ سادگی تھی، اور گفتگو میں ایسی روانی تھی جو بات ختم ہونے کے بعد بھی ذہن میں باقی رہتی تھی۔ وہ ادب کے بارے میں بات کرتا تو محسوس ہوتا کہ موضوع پر رائے دینے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کی ایک تصویر بھی سامنے رکھ رہا ہے۔

اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ روزمرہ زندگی کے یہ مختصر لمحے آگے چل کر ماضی کے قیمتی اوراق بن جائیں گے۔ مختصر ملاقاتیں، نشستیں، چائے کے کپ، فون پر ہونے والی گفتگو اور شہر کی مصروف فضا، سب آہستہ آہستہ ایک دور کی یاد کا حصہ بنتے گئے۔

سال گزرتے گئے۔ شہروں کی صورتیں بدل گئیں، راستے نئے ہو گئے اور رابطوں کے طریقے بھی تبدیل ہو گئے، لیکن کچھ نسبتیں وقت کی تبدیلی سے آزاد رہتی ہیں۔ نہ فاصلے انہیں ختم کر پاتے ہیں اور نہ گزرے ہوئے سال۔ مانک سے وابستہ یاد بھی ایسی ہی ایک نسبت ہے۔

کبھی کسی پرانے اخبار کا ورق سامنے آ جائے، کسی بھولی ہوئی جگہ کا نام کانوں میں پڑے یا ماضی کی کوئی بات اچانک ذہن میں جاگ اٹھے، تو نئے ہزاریے کی وہ شامیں پھر آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ اخبار کے دفتر کی گہماگہمی، چائے کے کپوں سے اٹھتی بھاپ، سگریٹ کے دھوئیں میں کھانسی کی آواز، ادبی محفلوں کی گرمی اور ان سب کے درمیان مانک کی موجودگی۔

اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقت بہت کچھ بھلا سکتا ہے، لیکن ہر یاد میں سانس لیتے ہوئے نقش کو نہیں مٹا سکتا۔ ایسے نقش بھی ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی صورت محفوظ رکھتے ہیں۔ مانک بھی ایسا ہی ایک نقش ہے جو ماضی کی ملاقاتوں سے نکل کر یادداشت کے ورق پر آ کر ٹھہر گیا ہے۔

انہی دنوں اخبارات سے میرا تعلق بھی بڑھنے لگا تھا، جہاں کئی صحافیوں اور لکھنے والوں سے قربت ہوئی۔ مانک سے ملاقات میرے لیے ایک نئے دروازے کی مانند تھی۔ ان دنوں کے ٹی این ٹیلی ویژن چینل کا آغاز ہو رہا تھا اور ڈراموں کی اسکرپٹ ایڈیٹنگ مانک کے سپرد تھی۔

ٹیلی ویژن میرے لیے ایک نئی دنیا تھی۔ اخبار میں لفظ کاغذ پر رہتے تھے، لیکن ٹیلی ویژن میں لفظوں کو چہرہ، آواز، جسم اور حرکت مل جاتی تھی۔ میں مانک کے پاس گیا اور باتوں ہی باتوں میں اس سے پوچھا:

’’مانک، کیا میں ڈرامہ لکھنے کی کوشش کروں؟‘‘

اس نے بالکل سادہ انداز میں کہا:

’’لکھ کر دیکھو۔ کوشش کرنے میں کیا نقصان ہے؟‘‘

میں نے ایک ڈرامہ لکھ کر اسے دے دیا۔ میرے اندر ایک چھوٹی سی امید تھی کہ شاید ڈرامہ لکھنے سے آمدنی کا ذریعہ بن جائے اور اسکرین کی دنیا میں بھی کوئی جگہ بن جائے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کچھ خواب دروازے کی چوکھٹ تک پہنچ کر واپس لوٹ آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سفر ختم ہو گیا۔

مانک سے میری قربت بڑھتی گئی۔ میں اختر کالونی میں اس کے ساتھ روم پارٹنر کی حیثیت سے بھی رہا۔ وہیں اس کے بھائی عزیز کنگرانی سے بھی میری ملاقات ہوئی۔ مانک کے ساتھ گزارے ہوئے دن میری یادوں میں ایک الگ کمرے کی طرح محفوظ ہیں۔

وہ کمرہ اپنے اندر ایک چھوٹی سی دنیا تھا۔ کبھی میز پر کاغذ بکھرے ہوتے، کبھی کتابیں، کبھی ادھوری لکھی ہوئی اسکرپٹ اور کبھی چائے کا مگ، جو کافی دیر تک اسی طرح پڑا رہتا، جیسے اسے چائے سے زیادہ گفتگو کا انتظار ہو۔

رات گئے تک لکھنا، باتیں کرنا اور پھر اچانک خاموش ہو جانا بھی اسی زندگی کا حصہ تھا۔ کبھی مانک پوچھتا:

’’یہ لکھنا آخر کہاں لے جائے گا؟‘‘

میں کہتا:

’’پتہ نہیں۔‘‘

لیکن ’’پتہ نہیں‘‘ میں بھی ایک خبر ہوتی ہے۔ باتوں باتوں میں کہے جانے والے ایسے برجستہ جملے کسی فلسفی کی کتاب سے اخذ نہیں کیے گئے ہوتے تھے۔ وہ ایک لکھنے والے کی روزمرہ زندگی کی عام باتیں تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کا مفہوم بڑا ہوتا گیا۔

شاید تخلیق کی دنیا میں پہلی منزل کیریئر نہیں بلکہ استقامت ہوتی ہے۔ جو شخص لکھنا جاری رکھتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنے اندر کا نقشہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔

جب ڈرامے سے آمدنی کا راستہ نہ کھلا تو میں دوبارہ کالم، مضمون اور شاعری کی طرف لوٹ آیا۔ میرے سامنے ایک ہی وقت میں کئی راستے تھے۔ کبھی کالم لکھتا، کبھی مضمون اور کبھی شاعری۔

کالم میں شہر سے بات کر سکتا تھا، مضمون میں نثر کی گہرائیوں میں اتر کر تجربے کر سکتا تھا، اور وہ تجربات آج بھی جاری ہیں۔ شاعری میں اپنے آپ سے چھپ سکتا تھا۔ شاعری نے مجھے علامتوں میں وہ کچھ کہنے کی آزادی دی جسے نثر میں شاید وضاحت کے ساتھ بیان کرنا پڑتا۔

آہستہ آہستہ شاعر اور کالم نگار کی حیثیت سے کچھ شناخت بننے لگی۔ مشاعروں میں جانا، شاعری پڑھنا، لوگوں سے ملنا اور ادبی محفلوں میں بیٹھنا، یہ سب میری زندگی کا حصہ بنتا گیا۔ لیکن صحافی کی حیثیت سے وہ مقام نہ بن سکا جس کا کبھی تصور کیا تھا۔

ہر شخص جس دروازے پر دستک دیتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ دروازہ کھل جائے۔ کبھی دروازے کا بند رہ جانا بھی کسی دوسرے راستے پر چلنے کا سبب بن جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

میں نے صحافت کو مکمل طور پر نہیں چھوڑا، شاعری کو بھی نہیں اور کالم کو بھی نہیں۔ یہ ایک فنکارانہ صحرانوردی تھی؛ میں کسی ایک خانے میں بند ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسی لیے کبھی کبھی محسوس ہوتا تھا کہ میں اپنی شناخت بنا نہیں رہا بلکہ اسے تلاش کر رہا ہوں۔

شناخت کوئی تیار شدہ شے نہیں ہوتی۔ یہ راستے میں پڑے چھوٹے چھوٹے پتھروں کی مانند ہوتی ہے، جنہیں چلتے چلتے جمع کیا جاتا ہے۔ آخر میں جب پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک راستہ بن چکا ہے۔

میں نے بھی اسی طرح کے راستے پر چلتے ہوئے لکھنا سیکھا، دوستوں سے، اخبارات سے، ناکامیوں سے، مانک کے ساتھ گزاری ہوئی راتوں سے، مشاعروں سے، اسٹیج کی خاموشی سے اور سب سے بڑھ کر اپنے اندر کی اس مدھم آواز سے، جو شہر کے شور میں بھی کبھی مکمل طور پر خاموش نہیں ہوئی۔

وقت گزرتا گیا۔ لوگ اپنی اپنی راہوں پر چل پڑے۔ دفاتر بدل گئے، کمرے بدل گئے، شہر کے چہرے پر بھی بہت سی تبدیلیاں آ گئیں۔ لیکن کچھ لوگ وقت گزرنے کے بعد بھی یادداشت میں موجود رہتے ہیں۔

مانک بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہے۔ وہ اب صرف ایک نام نہیں، بلکہ میری یادوں کا ایک ناقابلِ محو حصہ ہے۔

میری خودنوشت کے اس باب کا اختتام بالآخر وہاں آ کر ہوتا ہے جہاں شہر کا شور آہستہ آہستہ دور ہوتا جاتا ہے اور اندر سے ایک مدھم آواز سنائی دیتی ہے:

’’لکھتے رہو۔‘‘

یہ آواز میری ہے یا مانک کی، میں نہیں کہہ سکتا، لیکن یہ آواز اجنبی ہرگز نہیں۔ شاید یہ گل حسن کلمتی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں ہونے والی اس یادگار ملاقات کا ہولوگرام ہو؛ وہ لمحہ جس میں مانک اور دوسرے دوستوں کے ساتھ زیبسٹ یونیورسٹی کی راہداریوں میں کھینچی گئی تصویر کا ایک رقص کرتا ہوا سایہ آج بھی میری یادداشت کی دیوار پر حرکت کرتا رہتا ہے۔

یا شاید یہ ان تمام لوگوں، راستوں، کمروں اور دنوں کی مشترکہ آواز ہے، جو میری زندگی سے گزر تو گئے، لیکن مجھے مکمل طور پر چھوڑ کر نہیں گئے۔

شہر کا شور اب بھی موجود ہے، راستے اب بھی لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں اور آوازیں اب بھی ہزاروں ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان جب میں ذرا ٹھہر کر سنتا ہوں تو اب بھی ایک مدھم سی آواز سنائی دیتی ہے۔

اس آواز کے کسی دور افتادہ گوشے میں مانک کنگرانی یاد آتا ہے۔ یادوں میں رہ جانے والے ایک شخص کی طرح، ایک ایسے نقش کی طرح جو وقت کے ہاتھوں سے تو نکل گیا، لیکن دل کے ورق سے مٹ نہ سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے