جناح، گاندھی اور نہرو کے ساتھی، بے داغ سیاستدان رحیم بخش سومرو

تحریر…لیاقت علی جتوئی

رحیم بخش سومرو کو اکثر لوگ ایک سیاست دان کے طور پر جانتے ہیں لیکن سیاست کی شخصیت کا محض ایک رُخ ہے۔ ہر سال 24جنوری 2023 کو ان کی برسی منائی جاتی ہے اور 2023 کو ان کی 18 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ ان کی وفات 2005 میں صوبائی دارالحکومت کراچی کے کشمیر روڈ پر واقع اپنے گھر میں ہوئی تھی، انھیں عارضہ قلب اور پھیپھڑوں کے مسائل لاحق تھے۔ وہ اپنے سب سے بڑے بیٹے اللہ بخش سومرو کے ایک خوفناک حادثہ میں انتقال کرجانے پر بھی انتہائی دُکھی تھے، جس کے بعد وہ پہلے والے رحیم بخش نہ رہےتھے۔

کسی بڑی شخصیت کے گزر جانے پر ’’ایک عہد کا خاتمہ ‘‘ جیسے الفاظ ادا کرنا یا لکھناایک گھسا پٹا جملہ بن گیا ہے لیکن رحیم بخش سومرو کے معاملے میں اس سے زیادہ موزوں اور مناسب بات کوئی اور ہو نہیں سکتی۔ رحیم بخش – سومرو قبیلے کے سردار،1946 کی اسمبلی کے سب سے آخر میں خالقِ حقیقی سے جا ملنے والے رکن تھے۔ ان کے بارے میں اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنی نسل کی ان آخری شخصیات میں شامل تھے جو ذاتی زندگی کی طرح سیاست میں بھی دیانتداری کے قائل تھے۔

کئی لوگ، نوجوان رحیم بخش کو ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جو لندن سے منگوائے گئے نفیس کپڑے پہنتے، کراچی میں مہنگی گاڑیاں چلاتے اور کلاسیکی موسیقی سے خاص شغف رکھتے تھے، تاہم ان کا اصل امیج ایک بے داغ کردار، زبردست اصول پسند انسان اور اپنے عوام سے محبت کرنے والی شخصیت کا ہے۔ بطور سیاستدان ان کی دیانت اور اصول پسندی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے متعدد بار وقت کے طاقتور حکمرانوں کے خلاف اصولی مؤقف اپنائے رکھا اور اس سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔ انھوں نے اپنے ایسے ہی سخت گیر اصولوں کے باعث ایوب خان کے خلاف بطور احتجاج پارلیمان سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سیاسی زندگی رحیم بخش کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی:ان کے مرحوم والد اللہ بخش سومرو 1935 میں صوبائی خود مختاری (سندھ کی بمبئی سے علیحدگی) کے نفاذ کے بعد 1938 میں سندھ کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بنے تھے۔

رحیم بخش سومرو 20 اکتوبر 1919ء کو شکارپور میں پیدا ہوئے تھے ، ابتدائی تعلیم مدرسہ اسکول نوشہرو فیروز سے حاصل کی۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے علی گڑھ کالج چلے گئے۔

 

 

والد کی زندگی میں ہی انھیں جناح، گاندھی، نہرو اور ابوالکلام آزاد جیسی بڑی سیاسی شخصیات کے ساتھ وقت گزارنے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل چکا تھا۔ علی گڑھ کے بعد، رحیم بخش کو چیرمین ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ سکھر منتخب کرلیا گیا تھا اور ساتھ ہی وہ جیکب آباد میونسپلٹی کے صدر کے طور پر خدمات انجام دینے لگے۔ ان کے والد کے قتل نے ان کے عزم کو مزید پختہ کیا اور ان کی اسی پختہ ارادی کا نتیجہ تھا کہ 1946میں وہ سندھ صوبائی اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

رحیم بخش کا 60سال پر محیط سیاسی سفر تاریخ کی کتابوں کا مواد ہے۔ 46ءمیں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1953ء میں عبدالستار پیرزادہ کی کابینہ میں وزیر بنے جس میں یوسف ہارون اور ابراہیم رحمت اللہ شامل تھے۔ وہ سات مرتبہ سندھ اسمبلی اور ایک بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ سندھ کی کئی بھاری بھر کم سیاسی شخصیات کے سیاسی مینٹور رہے۔ الٰہی بخش سومرو اور آفتاب شعبان میرانی نے اپنا سیاسی کیریئر ان کی سرپرستی میں شروع کیا۔ عبدالحفیظ شیخ اور محمد میاں سومرو ان کے بھانجے ہیں۔

1950کی دہائی میں وہ کئی مرتبہ کابینہ کا حصہ رہے۔ 60ء کی دہائی میں وہ اپوزیشن میں رہے اور ایوب خان کے خلاف احتجاج کے طور پر پارلیمان سے مستعفی ہونے والے وہ پہلے رکن تھے۔ 1970کے انتخابات میں، رحیم بخش واحد امیدوار تھے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے ’کلین سوئیپ‘ کے سامنے کھڑے رہ پائے۔ انھیں پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کی دعوت دی گئی لیکن ہمیشہ کی طرح انھوں نے اپنے بل بوتے پر کھڑا رہنے کو ترجیح دی۔ بعد ازاں1977کا انتخاب وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لڑے ۔ 1985میں انھوں نے وزیر برائے صحت اور آبپاشی کے عہدہ سے استعفی دیا۔

 

 

ابتدائی زندگی میں خوبصورت کاروں کا شوق رکھنے کے باوجود (ان کی بیٹی بتاتی ہے کہ ان دنوں جب چند ایک لوگوں کے پاس ہی مہنگی کار ہوا کرتی تھی وہ کراچی میں لال رنگ کی اِمپالا میں گھومتے تھے) بطور سیاستدان انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ کبھی بڑی اور مہنگی کاروں میں سفر کرتے نظر نہ آئیں اور کراچی سے شکارپور تک ، سوزوکی سوئفٹ میں سفر کرتے تھے۔

اپنے چچا اور سسر مولا بخش کی وفات کے بعد وہ سومرو قبیلے کے سردار بنے لیکن انھوں نے کبھی بھی خود کو اپنے قبیلے کے لوگوں کا مالک نہیں سمجھا۔ ان کے بیٹے حمیر، یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ شکارپور میں صبح ان کے جاگنے سے پہلے ہی لوگ ان کے بیڈ روم میں اپنے اپنے مسائل لے کر جمع ہونا شروع ہوجاتے تھے۔ ان کا کمرہ ہر وقت پچاس یا اس سے زائد افراد سے بھرا رہتا تھا اور وہ اپنے محبوب سردار کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔ اپنے لوگوں کی ان سے والہانہ محبت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ انھیں ’’بابا سائیں‘‘ کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ ان کے بھانجے یونس سومرو بتاتے ہیں، ’’ہم ان سے لڑتے تھے کہ وہ اوپر اپنی فیملی کے ساتھ جاکر سوئیں۔ لیکن وہ نیچے ہی سونے پر بضد رہتے کہ رات میں کہیں کوئی شخص حاجت پیش آنے کی صورت میں ان کے پاس آسکتا ہے۔‘‘

ان کی سادگی کی کیا بات کریں کہ بطور وزیر انھوں نے کراچی میں اپنے گھر کے باہر نہ کبھی گارڈ رکھے اور نہ ہی گھر کا باہر والا مرکزی دروازہ بند رکھا کیوں کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کے لوگ بلا رکاوٹ ان تک پہنچ سکیں۔ ان کی فیملی بتاتی ہے کہ وہ کبھی مہمان خانہ کی تزئین و آرائش نہ کرنے دیتے کیوں کہ وہ چاہتے کہ ان کے لوگ جس ماحول سے مانوس ہیں اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہ لائی جائے کہ وہ ان کے رعب و دبدبے میں آجائیں۔

25جنوری کو شکارپور میں لوگوں کا ایک سمندر تھا، جو ان کے جسد خاکی کے ساتھ آبائی قبرستان تک ساتھ لے جانےکے لیے جمع تھا، جہاں کچھ روز قبل ہی انھوں نے اپنے والد کی قبر کے ساتھ اپنی آخری آرام گاہ کے لیے جگہ کا انتخاب کیا تھا۔

 


یہ مضمون ابتدائی طور پر روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا