تھر سے کوئلہ منتقل کرنے کے لیے ریلوے ٹریک پر کام جاری، درجنوں دیہات کے زمین بوس ہونے کا خدشہ

6700726e786fe

پاکستان ریلویز (پی آر) کی جانب سے تھر کا کوئلہ ملک کے دوسرے حصوں میں منتقل کرنے کے لیے 105 کلومیٹر طویل تھرپارکر ریلوے لائن منصوبے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ جس سے درجنوں دیہات زمین بوس ہونے کا خدشہ ہے۔

مذکورہ ٹریک کے تحت تھر کوئلہ کانوں کو پورٹ قاسم اور ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا۔

مذکورہ منصوبے کا مقصد ملک کی بڑھتی ہوئی معیشت کی ضروریات کے مطابق بلک ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کی تکمیل کے دوران تھر کے درجنوں دیہات متاثر ہوں گے جب کہ ہزاروں درخت بھی کاٹے جائیں گے۔

تھر میں ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لیے کام تیزی سے جاری ہے اور تقریبا 400 فٹ بلندی پر ٹریک بنایا جا رہا ہے، جس کے لیے اس پاس سے مٹی لی جا رہی ہے۔

ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لیے اس پاس کی مٹی استعمال کرنے سے وہاں موجود گاؤں زمین میں دھنس جائیں گے، جس کے لیے ابھی سے ہی علاقہ مکینوں میں پریشانی کی لہر دوڑ چکی ہے۔

مقامی افراد نے وفاقی و سندھ حکومت سمیت اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے گاؤں کی حفاظت یقینی بنائی جائے یا پھر ان کے دیہات کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے میں انہیں مدد فراہم کی جائے۔

منصوبے کے حوالے سے ماضی میں محکمہ ریلوے بتا چکا ہے ک منصوبہ اکتوبر 2025 تک مکمل کر لیا جائے گا اور اس کی مالی معاونت سندھ اور وفاقی حکومتیں مشترکہ طور پر کریں گی۔

اسلام کوٹ سے چھور تک 105 کلومیٹر ریلوے لائن بنائی جائے گی تاکہ کوئلہ ملک بھر میں پہنچایا جا سکے، جو خاص طور پر سیمنٹ اور ٹیکسٹائل جیسی صنعتوں کے لیے سستا ایندھن فراہم کرے گا۔

منصوبے کے تحت 105 کلومیٹر طویل سنگل ٹریک، جس میں 24.58 کلومیٹر لوپ لائن شامل ہے، تھر کوئلہ کانوں سے نئی چھور اسٹیشن تک تعمیر کی جائے گی۔

پورٹ قاسم سے رابطے کے لیے 18 کلومیٹر نیا ڈبل ٹریک (دونوں جانب 9 کلومیٹر)، 4.20 کلومیٹر لوپ لائنز سمیت، بن قاسم اسٹیشن سے پورٹ قاسم تک جائے گا۔

منصوبے کی تکمیل کے بعد سالانہ 1 کروڑ ٹن کوئلہ کی ترسیل ہو سکے گی، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو گا۔

منصوبے سے قومی خزانے کو سالانہ 1.5 ارب ڈالر کی بچت ہو سکے گی۔

یہ منصوبہ حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت درآمدی کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی تھر کوئلہ پر منتقل کیا جائے گا۔

منصوبے میں سات ریلوے اسٹیشنز اور 14 پلیٹ فارمز کی تعمیر شامل ہے۔ دو بڑے اسٹیشن تھر کوئلہ کانوں اور نئی چھور اسٹیشن پر قائم کیے جائیں گے، جبکہ پانچ درمیانی اسٹیشنز بھی بنائے جائیں گے۔