سندھ کی وحدت کے لیے سندھی قوم کو ایک طاقت بننا ہوگا
محمد احسان لغاری
محترم نصیر میمن کا سوشل میڈیا پر کہا گیا یہ جملہ کہ ”جو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نماز بھی نہیں پڑھتے، وہ سندھ کی تقسیم کی بات پر اکٹھے ہوجاتے ہیں“ محض طنز نہیں، بلکہ ہماری موجودہ سیاسی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جو لوگ عقیدے، مسلک، فرقے، سیاست اور نظریے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، انہیں سندھ کی تقسیم کے سوال پر گلی کوچوں اور کونوں کھدروں سے نکال کر ایک جگہ اکٹھا کیا جا رہا ہے، تو پھر سندھ کے لوگوں کو بھی خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے: اگر سندھ کو تقسیم کرنے کی بات پر مختلف دھڑوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے تو سندھ کو متحد رکھنے کے سوال پر سندھ کے لوگ اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر اکٹھے کیوں نہیں ہوسکتے؟
آج سندھ کے گرد نئی سازشیں بُنی جا رہی ہیں۔ انتظامی سہولت کے نام پر نئے انتظامی یونٹس کی باتیں ہو رہی ہیں، شہری اور دیہی سندھ کے درمیان فرق کو سیاسی طور پر بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور مختلف مفادات کو سندھ کی وحدت کے سوال سے جوڑا جا رہا ہے۔ بات صرف سیاسی جلسوں یا ٹیلی وژن کے مباحثوں تک محدود نہیں؛ ایسی آوازیں ان علاقوں تک بھی پہنچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں جہاں سندھ کی تقسیم کو تاریخی طور پر قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ لیکن اس پوری صورتحال کو صرف خطرے کی نظر سے دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ سندھ نے جواب دیا ہے۔ سندھ کھڑا ہوگیا ہے۔ شہروں اور دیہات میں آوازیں اٹھی ہیں، سیاسی اور سماجی حلقوں نے مزاحمت کی ہے، وکلا، دانشوروں اور سول سوسائٹی نے اپنا مؤقف پیش کیا ہے اور سندھ اسمبلی نے بھی اپنی آئینی حیثیت میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ تحریک موجود ہے، عوامی ردعمل سامنے آچکا ہے اور یہ سب کچھ جمہوری، آئینی اور ایک مضبوط پاکستان کے تصور کے تحت ہو رہا ہے۔
سندھ کی اس آئینی آواز اور پکار کو مزید مضبوط، وسیع اور غیرمعمولی اتحاد میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلی بات بالکل واضح اور ہر بحث کی بنیاد ہونی چاہیے: سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا۔یہ ہمارے بحث کی انتہا نہیں بلکہ ابتدا ہے۔ اب آئیے سندھ اور پاکستان کی حکمرانی کے بارے میں بات کریں۔ آئیے کراچی سمیت بڑے شہروں کے بلدیاتی اختیارات کے بارے میں بات کریں۔ آئیے غریب سندھ کی محرومیوں، وسائل کی تقسیم، پانی، نمائندگی، روزگار، تعلیم، صحت، زبان اور ثقافت کے بارے میں بات کریں۔ آئیے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کریں، اداروں سے سوال کریں اور نئی پالیسیوں کا مطالبہ کریں۔لیکن ہاں، ہر بات اس کے بعد ہوگی کہ سندھ ایک ہے۔ ہماری بات بالکل سادہ، واضح اور صاف ہے، سندھ کی وحدت خود کسی سودے بازی کا موضوع نہیں ہے۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ سندھ کی وحدت کا دفاع کرنا سندھ کے موجودہ سیاسی نظام کو مقدس قرار دینا نہیں۔ یہ حکومت کے ہر کام کی حمایت یا توثیق بھی نہیں۔ یہ خاندانی سیاست، کمزور حکمرانی، اداروں کی کمزوری، وسائل کی غلط تقسیم یا عوامی محرومیوں کو نظرانداز کرنا بھی نہیں۔ اس کے برعکس، ایک متحد سندھ کے اندر ان تمام مسائل پر زیادہ مضبوط انداز میں بحث کی جاسکتی ہے اور ان کے لیے سیاسی اور انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔
اتحاد کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تمام لوگ ایک ہی جماعت میں شامل ہوجائیں، ایک ہی رہنما کو تسلیم کریں یا اپنے سیاسی اختلافات ختم کردیں۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ بڑے شہروں کے حقوق کا مطالبہ کیا جائے اور دیہی علاقوں کی اپنی محرومیوں کے سوالات بھی اٹھائے جائیں۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی رہیں اور حکومت پر تنقید بھی جاری رہے۔ اختلافات جمہوریت کی ضرورت ہیں۔ لیکن اختلافات کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
ہم سندھ کی حکمرانی پر اختلاف کرسکتے ہیں، بلکہ بھرپور انداز میں کرتے رہے ہیں، لیکن سندھ کے وجود کو اپنے اختلافات کی قیمت نہیں بناسکتے۔
اگر کراچی کا مسئلہ بلدیاتی حکومت ہے تو بلدیاتی حکومت کو مضبوط کریں۔ اگر پانی، نکاسیٔ آب، ٹرانسپورٹ اور شہری سہولیات ناکافی ہیں تو انہیں بہتر کریں۔ اگر صوبے میں غربت، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور ترقی کی عدم مساوات کا مسئلہ ہے تو اس کے لیے وسائل اور بہتر پالیسیاں فراہم کریں۔ اگر نمائندگی کا مسئلہ ہے تو نمائندگی کے نظام کو بہتر بنائیں۔ لیکن حکمرانی کی ناکامی کا علاج جغرافیہ توڑنا نہیں ہے۔
آخر نیا نقشہ خود بخود کیا تبدیل کردے گا؟ نئی سرحد پانی پیدا نہیں کرتی۔ نیا سیکریٹریٹ روزگار پیدا نہیں کرتا۔ نیا انتظامی یونٹ غربت ختم نہیں کرتا۔ دریا وہی رہے گا، زمین وہی رہے گی، ساحلی پٹی وہی رہے گی، قدرتی وسائل وہی رہیں گے اور معاشی مسائل بھی وہی رہیں گے۔
تبدیل صرف سیاسی طاقت، وسائل اور حقوق کی دعویداری کا ڈھانچہ ہوگا۔ لہٰذا اگر مسئلہ حکمرانی کا ہے تو حل بھی حکمرانی میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ اس کا حل جغرافیے کو ازسرنو لکیروں میں تقسیم کرنا نہیں ہے۔
سندھ کی وحدت کو سندھی اور اردو بولنے والوں کے تنازعے کے طور پر پیش کرنا بھی اس بحث کو غیرضروری طور پر محدود کرتا ہے۔ سندھ کئی زبانوں، مذاہب، ثقافتوں اور برادریوں کے ساتھ رہنے والے لوگوں کا مشترکہ گھر ہے۔
کراچی کا اردو بولنے والا خاندان، تھر کا کسان، ابراہیم حیدری کا ماہی گیر، کوہستان کا مال مویشی پالنے والا، حیدرآباد کا تاجر اور لاڑ کا کاشتکار اپنی اپنی زندگی کی مختلف حقیقتیں رکھتے ہیں، لیکن ان کی معیشت، ماحول، وسائل اور مستقبل کے بہت سے رشتے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔جو لوگ ایک ساتھ نماز نہیں پڑھتے، وہ بھی ایک ساتھ رہتے ہیں۔ شہروں میں کاروبار ساتھ چلتے ہیں، بازار مشترک ہیں، جامعات مشترک ہیں، اسپتال مشترک ہیں، روزگار کی منڈیاں مشترک ہیں اور روزمرہ زندگی کے بے شمار رشتے بھی مشترک ہیں۔ اس لیے سندھ کی وحدت کا مطلب یکسانیت نہیں۔ اتحاد اختلافات ختم کرنے کا نام نہیں، بلکہ اختلافات کے باوجود ایک ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔
سندھ کی وحدت کسی ایک قوم، زبان، مذہب یا سیاسی جماعت کی ملکیت بھی نہیں۔ اردو بولنے والے سندھی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ سندھ میرا گھر ہے، اور سندھی بولنے والے کو اس بات کو خطرہ نہیں بلکہ اپنائیت سمجھنا چاہیے۔
سندھ کا ہندو شہری، کراچی کا مزدور، کاچھے کا کسان، ریڑھی اور منچھر کا ملاح، اور سندھ کے ہر شہر اور گاؤں میں رہنے والا شخص اس مشترکہ سیاسی گھر کا حصہ ہے۔ وحدت کا مطلب کسی کو باہر نکالنا نہیں، سب کو ساتھ رکھنا ہے۔
پانی کے سوال میں یہ حقیقت مزید واضح نظر آتی ہے۔ دریائے سندھ کو انتظامی حدود کا علم نہیں۔ سیلاب سرحدیں نہیں مانتا، پانی کی قلت بھی کسی نئی لکیر پر رک کر خاموش نہیں ہوجاتی، دریائی مٹی اپنے بہاؤ کے ساتھ سفر کرتی ہے اور سمندری کھارا پن ڈیلٹا کی طرف بڑھتا ہے۔
کینجھر جھیل کی پانی کی سطح میں گویا پورے کراچی کا پانی شامل ہے۔ کراچی کا مستقبل، پورے سندھ کی زراعت اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی بقا ایک ہی آبی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر دریا مشترک ہے، ماحولیاتی نظام مشترک ہے اور معیشت کے رشتے مشترک ہیں تو پھر سیاسی آواز کو تقسیم کرکے کمزور کرنے کا نقصان بھی سب کو ہوگا۔
سندھ کی وحدت کا دفاع سندھ کے اندر اصلاحات کی مخالفت نہیں، بلکہ ان اصلاحات کے لیے وسیع سیاسی گنجائش کے تحفظ کا نام ہے۔ ایک مضبوط سندھ ہی مضبوط بلدیاتی حکومت، منصفانہ وسائل کی تقسیم، بہتر اداروں، زیادہ شفاف حکمرانی اور عوام کے حقوق کے لیے وسیع سیاسی گنجائش پیدا کرسکتا ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے بجائے سندھ کو بہتر بنانا ہی اصل سوال ہونا چاہیے۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سُر سُہنی میں ایک ایسا استعارہ موجود ہے جو آج کی صورتحال کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ سُہنی کے گرد خوفناک دریا، پاتال تک پہنچانے والے بھنور اور مگرمچھوں کے جھنڈ موجود ہیں، لیکن اس کی سب سے بڑی بے بسی اس وقت شروع ہوتی ہے جب کچی مٹی کا گھڑا پانی میں بھیگ کر ٹوٹ جاتا ہے۔
بیرونی خطرات اپنی جگہ، لیکن اگر سہارا اندر سے کمزور ہوجائے تو سُہنی خود کو بچانے سے قاصر ہوجاتی ہے:
گھڙو ڀڳو، مُنڌ مُئي، وسيلا ويا؛
مڙيا مڇ هزار، ڀاڱا ٿيندي سُهڻي!
آج سندھ کے گرد بھی بہت سے مگرمچھ اپنے اپنے مفادات کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ لیکن سندھ کا اصل سہارا اس کی اپنی وحدت ہے۔ اگر اپنے اختلافات کو اس حد تک بڑھنے دیا جائے کہ مشترکہ سیاسی اور آئینی گھر ہی کمزور ہوجائے تو پھر بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔
اس لیے سندھ کو آئینی طور پر بالکل واضح لکھی ہوئی سندھ کی وحدت کے لیے اتحاد چاہیے، جبکہ دوسرے اختلافات اور تنازعات اپنی جگہ جاری رہ سکتے ہیں۔ اس اتحاد یا یکجہتی کا مطلب یکسانیت نہیں، بلکہ ایک مشترکہ بنیاد ہے اور ہمیں اسی کی ضرورت ہے۔
ہمیں تقسیم کی بات کرنے والوں سے نفرت کی زبان میں نہیں بلکہ واضح، آئینی اور قانونی بنیادوں پر مضبوط اور پُرامن سیاسی یقین کے ساتھ بات کرنی ہے۔ سندھ کے مسائل حل کریں، سندھ کو تقسیم نہ کریں۔ کراچی کو اس کے حقوق دیں، دیہی علاقوں کو ترقی اور انصاف دیں، حکمرانی بہتر کریں، ادارے مضبوط کریں۔
سندھ کی وحدت کسی ایک جماعت کا منشور نہیں۔ یہ کسی ایک رہنما کا نعرہ نہیں۔ یہ کسی ایک زبان کا مطالبہ نہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے مشترکہ سیاسی گنجائش ہے جو سندھ کے اندر اپنے حق، اپنی شناخت، اپنے وسائل اور اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے۔