مضبوط مقامی نظام ہی عوامی مسائل کا حقیقی حل ہے
پروفیسر اعجاز احمد قریشی
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور حسبِ معمول اس بحث کا سب سے بڑا مرکز سندھ کو بنایا جا رہا ہے۔ ٹیلی وژن کے ٹاک شوز، سیاسی پروگراموں اور تجزیاتی نشستوں میں اس موضوع پر روزانہ بحث ہو رہی ہے۔ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ملک کے معروف سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی ماہرین بھی اپنے اپنے نقطۂ نظر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم اس بحث کے دوران متعدد اہلِ دانش نے ایک بنیادی سوال ضرور اٹھایا ہے کہ کیا محض صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے پاکستان کے انتظامی، معاشی اور سیاسی مسائل حل ہو سکتے ہیں؟
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ، ڈاکٹر عشرت حسین، سینیٹر رضا ربانی، ڈاکٹر قیصر بنگالی، مشاہد حسین سید، خرم حسین، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، سہیل وڑائچ، حامد میر اور دیگر اہلِ فکر کی گفتگو سے بھی یہی سوال ابھرتا ہے کہ مسئلے کی اصل نوعیت کیا ہے؟ کیا پاکستان کے بحرانوں کا تعلق واقعی صوبوں کی تعداد سے ہے یا اصل مسئلہ حکمرانی، اختیارات کی مرکزیت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مقامی اداروں کی بے اختیاری ہے؟
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سندھ اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔ خصوصاً سندھ میں اس معاملے پر عوامی ردعمل غیر معمولی طور پر شدید رہا ہے۔ سندھ کے عوام بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان کے نزدیک سندھ محض ایک انتظامی خطہ نہیں بلکہ ایک تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور جغرافیائی وحدت ہے، جس کی شناخت صدیوں کے تاریخی شعور اور اجتماعی تجربے سے تشکیل پائی ہے۔
سندھ کے معاملے کو محض موجودہ انتظامی ضرورتوں کی عینک سے دیکھنا اس خطے کی تاریخ سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہوگا۔ سندھ کی شناخت کسی حالیہ سیاسی بندوبست کی پیداوار نہیں۔ موئن جو دڑو سے بھنبھور اور ٹھٹھہ تک پھیلی ہوئی اس سرزمین کی تہذیبی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جس نے برصغیر کی سیاسی تاریخ میں بھی اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں سندھ کی حیثیت تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔
23 مارچ 1940ء کو لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی، جبکہ 3 مارچ 1943ء کو سندھ اسمبلی نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے قیام کے مطالبے کی حمایت میں ایک تاریخی قرارداد منظور کی۔ یوں سندھ برصغیر کا وہ پہلا صوبہ تھا جس کی منتخب اسمبلی نے پاکستان کے قیام کے مطالبے کی باقاعدہ حمایت کی۔ اس تاریخی پس منظر میں سندھ کی وحدت کو محض نقشے پر کھینچی گئی انتظامی سرحدوں کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ معاملہ سندھ کے عوام کے تاریخی شعور، سیاسی جدوجہد اور اجتماعی شناخت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
ون یونٹ کا تجربہ ہمیں کیا بتاتا ہے؟
تاریخ کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ وہ ہمیں ان تجربات سے سبق سیکھنے کا موقع دیتی ہے جن کی قیمت قومیں پہلے ہی ادا کر چکی ہوتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ون یونٹ کا تجربہ اسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
1955ء میں ون یونٹ قائم کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی تھی کہ ملک کو ایک مضبوط انتظامی وحدت میں ڈھالنے سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی، انتظامی مسائل کم ہوں گے، استحکام پیدا ہوگا اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا۔ مگر عملی تجربہ ان دعوؤں کے مطابق ثابت نہ ہوا۔ نہ وہ ترقی حاصل ہوئی جس کے خواب دکھائے گئے تھے اور نہ ہی چھوٹے صوبوں اور مختلف علاقوں میں پائی جانے والی محرومی کا احساس ختم ہوا۔
اس کے برعکس وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس زیادہ گہرا ہوتا گیا کہ بعض علاقوں کی سیاسی، معاشی اور انتظامی شناخت اور حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا اور بالآخر 1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ کرنا پڑا۔
آج ایک بار پھر ایک ایسی ہی دلیل سنائی دے رہی ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے انتظام بہتر ہوگا، ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے لگیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک عام شہری آج بھی اپنی یونین کونسل، تحصیل یا ضلع کی سطح پر بنیادی سہولیات سے محروم ہے تو محض صوبے کی نئی حد بندی اس کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کیسے لا سکتی ہے؟
اگر کسی علاقے میں صاف پانی دستیاب نہیں، اسکول موجود نہیں یا موجود ہونے کے باوجود تعلیم کا مؤثر نظام نہیں، بنیادی صحت کی سہولت میسر نہیں، سڑکیں خستہ حال ہیں، روزگار کے مواقع محدود ہیں اور نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہے تو نیا صوبہ بننے کے بعد یہ تمام مسائل خود بخود کیسے ختم ہو جائیں گے؟
اصل سوال صوبوں کی تعداد کا نہیں، اختیارات کی سطح کا ہے۔
پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں اقتدار صرف وفاق اور صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا حقیقی حصہ ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور مقامی سطح تک منتقل ہو۔ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کیے جائیں، انہیں مالی وسائل فراہم کیے جائیں، ترقیاتی منصوبہ بندی میں مقامی نمائندوں کو حقیقی اختیار دیا جائے اور انتظامی اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے جواب دہ اور مؤثر بنایا جائے۔
ایک عام شہری کے لیے اس بات کی زیادہ اہمیت نہیں کہ صوبے کی سرحد اس کے گھر سے سو یا دو سو کلومیٹر دور کہاں واقع ہے۔ اس کے لیے اصل اہمیت یہ ہے کہ اس کے گھر کے قریب صاف پانی دستیاب ہو، گلی میں صفائی ہو، سڑک قابلِ استعمال ہو، بچوں کے لیے اسکول ہو، بیمار ہونے کی صورت میں علاج کی سہولت میسر ہو اور مقامی سطح پر اس کے مسائل سننے اور حل کرنے والا کوئی بااختیار ادارہ موجود ہو۔
سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہیں۔ کراچی ہو یا حیدرآباد، سکھر ہو یا لاڑکانہ، میرپورخاص ہو یا ٹھٹھہ اور سجاول، عوام تعلیم، صحت، پانی، روزگار، سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان مسائل کو نظرانداز کرنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔
لیکن ان مسائل کا حل سندھ کو مزید انتظامی حصوں میں تقسیم کرنا نہیں بلکہ پورے سندھ میں متوازن ترقی، بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہے۔ کسی خطے کے مسائل کا علاج اس کی شناخت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اس کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔
کراچی کا مسئلہ بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کراچی ایک ایسا شہر ہے جس پر ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی آبادی اور افغان مہاجرین سمیت غیر ملکی آبادی کے اضافی دباؤ نے اس کے بنیادی ڈھانچے پر غیر معمولی بوجھ ڈالا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے مقابلے میں شہری سہولیات کی رفتار انتہائی کم رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پانی، ماس ٹرانزٹ، سیوریج، کچرے کے انتظام، سڑکوں، روزگار اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن کراچی کے ان مسائل کا حل بھی محض ایک نئے صوبے کے قیام میں تلاش کرنا مسئلے کی پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ایک بااختیار، جواب دہ اور مؤثر شہری حکومت درکار ہے؛ صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم ضروری ہے؛ وسائل کی فراہمی کا قابلِ عمل نظام درکار ہے اور سب سے بڑھ کر طویل المدتی شہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
اگر واقعی مقصد عوام کے مسائل حل کرنا ہے تو ہمیں بحث کا مرکز تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ کتنے صوبے ہونے چاہئیں، بلکہ یہ پوچھنا چاہیے کہ موجودہ صوبوں میں اختیارات کس حد تک نچلی سطح تک منتقل ہوئے ہیں۔ مقامی حکومتیں کس حد تک بااختیار ہیں؟ ان کے پاس اپنے وسائل کتنے ہیں؟ ترقیاتی منصوبوں پر ان کا اختیار کتنا ہے؟ اور کیا ایک عام شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لیے مقامی سطح پر کوئی ایسا ادارہ دستیاب ہے جو فیصلہ کرنے اور اس فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی حقیقی طاقت رکھتا ہو؟
پاکستان کو ایسے بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے جسے محض صوبائی حکومتوں کی مرضی پر نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے آئینی تحفظ حاصل ہو۔ مقامی حکومتوں کے پاس اپنے مالی وسائل ہوں، ان کے نمائندے محض نام کے نہیں بلکہ حقیقی اختیارات کے حامل ہوں اور پانی، صفائی، سڑکوں، نکاسی آب، شہری منصوبہ بندی اور مقامی ترقی جیسے بنیادی معاملات میں وہ مؤثر فیصلے کر سکیں۔
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جو صوبے پہلے سے موجود ہیں، کیا ان کے اندر اختیارات واقعی نچلی سطح تک منتقل ہوئے ہیں؟ کیا مقامی حکومتیں محض انتخابی نعروں اور سیاسی اعلانات تک محدود ہیں یا انہیں فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات بھی حاصل ہیں؟ کیا وسائل کی تقسیم شفاف اور منصفانہ ہے؟ کیا سرکاری ادارے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اگر ان بنیادی سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر نئے صوبوں کے قیام کو تمام مسائل کا علاج سمجھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
ہمیں تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ون یونٹ ہمارے سامنے ایک واضح تاریخی تجربہ ہے۔ اس تجربے نے یہ دکھایا کہ صرف انتظامی نقشہ تبدیل کرنے سے نہ ترقی کی ضمانت ملتی ہے، نہ سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی عوامی خوشحالی خود بخود آتی ہے۔ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اس وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب اس کے پیچھے مؤثر حکمرانی، مضبوط ادارے، منصفانہ وسائل اور عوامی شمولیت کا نظام موجود ہو۔
آج بھی اصل ضرورت نقشے بدلنے سے زیادہ نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے کی ہے۔ جمہوریت اگر صرف انتخابات کے انعقاد کا نام بن جائے اور عوام کو انتخابات کے بعد فیصلہ سازی، وسائل اور اختیار میں کوئی حقیقی حصہ نہ ملے تو جمہوری نظام اپنی بنیادی روح سے محروم ہو جاتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ملک میں کتنے صوبے ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار عوام تک کب پہنچے گا؟
جب تک عام شہری کو اپنے محلے، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح پر اپنے مسائل کے حل کے لیے بااختیار ادارہ، دستیاب وسائل اور مؤثر نمائندگی حاصل نہیں ہوتی، محض انتظامی نقشوں میں تبدیلی عوام کی زندگی میں وہ بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتی جس کی انہیں ضرورت ہے۔ پاکستان کا مستقبل نئے نقشوں سے نہیں، بہتر حکمرانی، مضبوط مقامی اداروں، منصفانہ وسائل اور حقیقی عوامی اختیار سے وابستہ ہے۔