فاطمہ بھٹو نے سندھی روایات کے مطابق شادی کرلی

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی نواسی اور میر مرتضیٰ بھٹو کی بڑی صاحبزادی فاطمہ بھٹو نے سندھی روایات کے مطابق اپنے امریکی دوست سے شادی کرلی۔

فاطمہ بھٹو کے بھائی جونیئر ذوالفقار علی بھٹو نے 28 اپریل کو اپنی ٹوئٹس میں بتایا کہ ان کی بہن کی شادی اپنے آبائی گھر 70 کلفٹن کراچی میں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بہن نے اپنے دیرینہ دوست گراہم جن کا اسلامی نام جبران رکھا گیا ہے، ان سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔

انہوں نے نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

 

فاطمہ بھٹو نے بھی 29 اپریل کو اپنی شادی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے رشتہ ازدواج میں بندھنے کی تصدیق کی، انہوں نے شوہر کے ساتھ نکاح نامے پر دستخط کرنے کی تصویر بھی شیئر کیں۔

ان کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ فاطمہ بھٹو کی شادی میں سندھی رسومات بھی ادا کی گئیں، انہیں خاتون اول تہمینہ درانی نے سندھی روایات کے مطابق ’لانئوں‘ بھی دیا، جس میں دلہے اور دلہن کے سر ایک دوسرے سے ٹکرائے جاتے ہیں۔

 یہ رسم نکاح کے بعد رخصتی سے قبل سب مہمانوں کے سامنے ادا کی جاتی ہے اور اسے دیکھ کر لوگ محظوظ ہوتے ہیں، اسی رسم کے دوران خواتین شادی کے گیت بھی گاتی ہیں۔

علاوہ ازیں فاطمہ بھٹو کی شادی کی دیگر چند رسومات بھی سندھی روایات کے مطابق ادا کی گئیں۔

فاطمہ بھٹو کی جانب سے اپنے شوہر سے متعلق کوئی معلومات شیئر نہیں کی گئی، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق فاطمہ بھٹو کے شوہر کا تعلق امریکا سے ہے، اور وہ 1982 میں پیدا ہوئے۔وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں۔

فاطمہ بھٹو سے شادی سے قبل انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام تبدیل کر کے جبران رکھ لیا۔

فاطمہ بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی، میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی اور بے نظیر بھٹو کی بھتیجی ہیں، ان کی والدہ افغانستان کی تھیں۔

فاطمہ بھٹو 1982 میں افغانستان کے دار الحکومت کابل میں پیدا ہوئیں، جہاں ان کے والد جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 

فاطمہ بھٹو کی والدہ فوزیہ فصیح الدین بھٹوافغان وزارت خارجہ کے اہلکار کی بیٹی تھیں، جنہیں بعد ازاں مرتضیٰ بھٹو نے اس وقت طلاق دے دی تھی جب ان کے بھائی شاہنوار بھٹو کو مبینہ طور پر ان کی افغان نژاد بیوی نے فرانس میں زہر دے کر قتل کردیا تھا۔

فاطمہ بھٹو کی سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو ہیں جو کہ جونیئر ذوالفقار بھٹو کی والدہ ہیں، وہ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چیئر پرسن ہیں۔

فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضیٰ بھٹو20 ستمبر 1996ء کو اپنی بہن بے نظیر بھٹو کے دور وزارت عظمیٰ میں قتل ہوئے تھے۔

 فاطمہ بھٹو نے ابتدائی تعلیم دمشق(شام) میں حاصل کی، 1993ء میں وہ اپنی سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو اور چھوٹے بھائی ذوالفقار بھٹو جونیئر کے ساتھ پاکستان آگئیں۔ انہوں نے کراچی امریکن اسکول سے او لیول کیا، پھر2004 میں کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک سے امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن کیا۔

انہوں نے 2005 میں اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقین اسٹیڈیز سے’’سائوتھ ایشین گورنمنٹ اور سیاسیات‘‘ میں ماسٹرز کیا۔

فاطمہ بھٹو شاعرہ اور ادیب ہیں اور وہ پاکستان، امریکہ اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں، 1997 میں پندرہ برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کا پہلا شعری مجموعہ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے شائع ہو اجس کا عنوان WHISPERS OF THE DESERY (صحرا کی سرگرشیاں) تھا، 2006 میں ان کی دوسری کتاب 8اکتوبر2005 کو آزاد کشمیر اورصوبہ سرحد میں آنے والے زلزلے کے موضوع پر ’’8 October 2005 8:50am‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ 

ان کی تیسری کتاب ’’Songs of Blood and Sword‘‘ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے، وہ اپنے پھوپھا آصف علی زرداری کی بڑی نقاد رہی ہیں، وہ مبہم الفاظ میں متعدد بار اپنی پھوپھو بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کو اپنے والد مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا ذمہ دار قرار دے چکی ہیں۔