سندھ میں اقلیتی خواتین کو جنرل نشست پر ٹکٹ کیوں نہیں دیے جاتے؟

جیسے جیسے انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح صوبہ سندھ میں بھی سیاسی گہما گہمی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور تاحال جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس بار بھی ماضی کی طرح عام انتخابات میں اقلیتی سیاست دان جنرل نشستوں پر کم الیکشن لڑتے دکھائی دیں گے۔
سندھ بھر میں بھی اس بار جنرل نشستوں پر اقلیتی سیاست کم ہی میدان میں اتریں گے جب کہ اس بار صرف دارالحکومت کراچی سے اقلیتی خواتین جنرل نشست پر انتخابی میدان میں اتریں گی۔
اس بار صوبائی دارالحکومت کراچی سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی روما مشتاق اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی منگلا شرما جنرل نشستوں پر سیاسی میدان میں اتریں گی۔
اگرچہ اس بار کراچی سے اقلیتی خواتین جنرل نشستوں پر سیاسی میدان میں اتریں گی لیکن بدقسمتی سے ملک کے سب سے بڑے شہر کی یہ تاریخ رہی ہے کہ یہاں سے کوئی بھی اقلیتی خاتون جنرل سیٹ سے انتخاب نہیں جیت پائی۔
انتخابات میں اقلیتی خواتین کے کامیاب نہ ہونے کا اصل سبب سیاسیاس جماعتوں کی جانب سے حوصلہ افزائی کا فقدان نظر آتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اپنے نظریات، خوف، اندیشے اور تحفظات ہوتے ہیں جس کی بنا پروہ کھل کر کسی بھی اقلیتی خاتون و مرد امیدوار کو جنرل نشست پر پارٹی ٹکٹ دینے سے گھبراتی ہیں۔
اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والی خواتین یوں تو پارٹی کی مداح سرائی کے معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن سچ پھر بھی زبان پر آہی جاتا ہے۔
منگلا شرما سندھ کے دارالحکومت کراچی سے وابستہ سیاست دان ہیں وہ اگست 2018 میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے خصوصی نشست پر سندھ اسمبلی کی رکن بنی تھیں۔
منگلا شرما نے پاک ہندو ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جو اقلیتوں کے لیبر اور سماجی حقوق پر کام کرتی ہے۔ منگلا شرما نے 2000 میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا ۔ وہ یونین کونسل سے جیتیں، جس کے بعدں سٹی کونسل میں 2005 تک رہیں پھر دوبارہ 2016 کونسل میں دوبارہ آئیں۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے سیاست کو نچلی سطح سے شروع کیا۔
انہوں نے ایک عام آدمی کے دکھ درد اور کرب کو محسوس کیا، ان کی پریشانیاں ان کے مسائل اوران کا حل کیا ہونا چاہیے اس کے لیے انہوں نے جدوجہد کی اور ابھی بھی سیاست میں پہلے سے زیادہ متحرک ہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق صوبائی کمیشن کی ممبر کے طورپرنامزد ہوئی ہیں اورانکلوسوسی سیکیورٹی کے ساتھ مل کرکام کرتی ہیں جو ایک امریکی غیر منافعتی سفیرسوینی ہنٹ کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا۔
منگلا شرما کو وزارت ترقی خواتین کی طرف سے "فاطمہ جناح ایوارڈ” بھی دیا جاچکا ہے۔
منگلا شرما کہتیں ہیں کہ اقلیتوں کے جو بنیادی مسائل ہیں وہ حل نہیں ہو پاتے یہی وجوہات ہیں کہ ابھی تک اقلتییں مخصوص نشستوں پر ہی آرہی ہیں۔
ان کے مطابق اقلیتوں کو ان نشستوں پرسیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پرہی آنا پڑتاہے، اس میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں جن امیدواروں کا انتخاب کرتی ہیں وہ یا توبہت دولت مند جائیداد والے ہوتے ہیں، یا بہترین تاجر ہوتے ہیں یا پھرایسے کسی کام سے وابستہ ہوتے ہیں جس میں ان کے معاشی حالت بہت مستحکم اور بہترین ہوتے ہیں۔ وہ نمائندہ جو سیاسی جماعت کی جانب سے اقلیتیوں کی سیٹ پر آتا ہے، نچلی سطح کی اقلیت کے لوگوں کو وہ جوابدہ اس لیے نہیں ہوتا ہے کہ وہ ان کے ووٹ سے منتخب نہیں ہوکرآیا ہوتاہے اوراس میں اس میں انکا فوکس اقلیتوں کو کم اس سیاسی جماعت کو ذیادہ خوش کرنا ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ بلدیاتی الیکشن میں بے شک اقلیتیوں کا یا خواتین کا چیئرمین اوروائس چیئرمین کا کوٹہ رکھا جائے تاکہ ان کو سیاست کی سمجھ بوجھ ہوسکے، معلوم ہوسکے کہ سیاست کیا ہے،عوام کے مسائل کس طرح سے حل کرنے ہیں لیکن اس سے بھی بہتر بات اور میری تجویز یہ ہے کہ سیاسی جماعت اگر کسی خاتون یا مرد امیدوار کو ایک بار مخصوص نشست پر منتخب کرتی ہے تو وہ ٹھیک ہے لیکن آنے والے دوسرے الیکشن میں انہیں جنرل سیٹ پر کھڑا کرنا چاہیے تاکہ وہ جیت کر اپنے علاقے کے مسائل حل کریں ۔ مخصوص نشست کی سیٹ پھر کسی نوجوان خاتون اورمرد کو دی جائے تاکہ الیکشن کا ایک بہترین پراسیس چلے۔
اقلیتی خواتین کی جانب سے جنرل نشست پر الیکشن لڑنے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے منگلا شرما کا کہنا تھا کہ اقلیتی خواتین کے لیے الیکشن لڑنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ وہ گھر والوں پر انحصار کررہی ہوتی ہیں، ان کا ذریعہ آمدن کوئی خاص نہیں ہوتا کہ وہ الیکشن میں بڑے اخراجات کریں، ہمارے یہاں ایک روایت ہے کہ لوگ اور پارٹیاں اس امیدوار پر خرچ کرتی ہیں جن سے متعلق انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ جیتے گا اور اس سے وہ یہ فوائد حاصل کریں گے۔
منگلا شرما کہتی ہیں کہ مہیش کمار ملانی ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو اگست 2018 میں قومی اسمبلی کے رکن بنے وہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں جنرل سیٹ (غیر مخصوص نشست) جیتنے والے پہلے غیر مسلم ہیں۔ ان کا تعلق تھرپارکر کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے، انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1996-97 میں کیا اور پی پی پی ڈسٹرکٹ تھرپارکر کے صدر اور اقلیتی ونگ پی پی پی صوبہ سندھ کے صدر رہے۔ جہاں پر اقلیتوں کی تعداد ذیادہ ہے اور انہیں جنرل نشست پر کھڑا کیا جاتا ہے وہاں سے وہ جیتتے ہیں۔
منگلا شرما کہتی ہیں کہ اگر سیاسی جماعتیں نچلی سطح کی اقلیتیوں کے نمائندوں کو جو سوشل ورکر ایکٹوسٹ ہوں انکو چنیں گے تو ہی ان کےبنیادی اوردیرینہ مسائل کا سدباب ہوسکے گا، انہوں نے مثال دی کہ جیسے حال ہی میں خیبرپختونخوا کے ضلع بونیرمیں اقلیت سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون امیدوار نے پی کے 25 بونیر سے جنرل نشست پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا ئے ہیں ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سعدیہ جاوید کہتی ہیں کہ جنرل سیٹ پرالیکشن لڑنا کوئی آسان کام نہیں۔ ہمارا معاشرہ اب تک خواتین کی حیثیت کو اس طرح سے قبول نہیں کرتا۔ ہم سیاسی طور پر بیان بازی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں تو اس پر ایک امیدوار کا کم از کم خرچ 6 سے 7 کروڑ ہوتا ہے۔ مرد امیدواروں پر لوگ خرچ کرتے ہیں کہ یہ کسی طرح سے جیت جائیں لیکن خواتین کے معاملے میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔
پاکستان میں انتخابات تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے کرسچن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان وکیل کوجنرل سیٹ کے انتخابات کا ٹکٹ جاری کیا ہے۔
روما مشتاق مٹو کہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی جس طرح بغیر مذہب رنگ ونسل کے تمام انسانوں کو برابری کی سطح پر دیکھتی ہے میں بھی منتخب ہوکر علاقے اورعوام کے تمام مسائل حل کروںگی۔ ہماری اقلیت کے جو درینہ مسائل ہیں وہ حل ہونگے اوربہتری آئیگی، اگر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری انتخابات میں منتخب ہوکر آتے ہیں تو نئے وزیر اعظم ہونگے، نوجوان ہونگے، نئی سوچ آئے گی جو ہمیں نئی منزل کی جانب گامزن کرے گی۔
سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ کراچی سے جنرل سیٹ پر خواتین کا منتخب نہ ہونے کا اہم سبب پارٹی کی جانب سے حوصلہ افزائی نہ ہونا ہے۔ اس پر سیاسی جماعتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں خاتون امیدواروں کی بھی غلطی ہے کہ وہ جنرل نشست کے لیے خود اپلائی نہیں کرتی ہیں۔ خواتین خود بھی مخصوص نشستوں پرنہیں آنا چاہتی ہیں۔