پابندی کے اعلان کے باوجود سندھ میں سرکاری دفاتر و اجلاسوں میں پلاسٹک کی بوتلوں کا بے دریغ استعمال

microplastics-and-nano_plastics

سندھ حکومت کی جانب سے پینے کے پانی کے لیے پلاسٹک بوتلوں پر استعمال کی پابندی کے اعلان کے باوجود صوبے بھر کے سرکاری دفاتر و حکومتی اجلاسوں میں بھی پلاسٹک کی بوتلوں کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔

پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی کے استعمال پر پابندی کا اطلاق کسی حد تک وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں تو ہوا ہے لیکن سندھ سیکریٹریٹ سمیت حکومت سندھ کے دیگر دفاتر میں اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔

سندھ سیکریٹریٹ میں واقع سرکاری دفاتر میں تاحال اس پابندی پر عمل نہیں ہوا جب کہ حکومتی اجلاسوں میں بھی پلاسٹک کی بوتلوں کا استعمال تاحال جاری ہے۔

اربن لیب آئی بی اے کراچی کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر محمد توحید نے بتایا کہ سرکاری دفاتر میں اگر عملدرآمد ہو بھی جائے تو اس سے ماحولیاتی آلودگی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پانی کیلیے پلاسٹک کی بوتلوں کا زیادہ تر استعمال پرائیویٹ دفاتر اور ریسٹورنٹس میں ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ نجی دفاتر اور ریسٹورنٹس میں پلاسٹک کی بوتلوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک اور ماحولیاتی کارکن آفاق بھٹی نے بتایا کہ شہر میں باورچی خانے کے کچرے کے بعد دوسرے نمبر پر جمع ہونے والا کچرا پلاسٹک ہوتا ہے۔