سندھ میں چائلڈ لیبر میں نمایاں کمی، 16 لاکھ بچے اب بھی مزدوری کرنے پر مجبور

عالمی اداروں کے اشتراک سے سندھ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے لیبر سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ اگرچہ صوبے میں چائلڈ لیبر میں نصف کمی ہوچکی ہے لیکن اس باوجود سندھ بھر میں 16 لاکھ بچے اب بھی سخت حالات میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
سندھ چائلڈ لیبر سروے 2022–2024 کی چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں مزدوری کرنے والے 16 لاکھ سے زائد بچوں میں نصف بچے سخت حالات اور حفاظتی انتظامات کے بغیر ہی محنت مشقت جیسے مسائل میں گرفتار ہیں۔
مذکورہ سروے محکمہ محنت سندھ، یونیسیف اور بیورو آف اسٹیٹکس کے اشتراک سے مکمل کیا گیا جس میں انکشاف ہوا ہے کہ 16 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر میں مبتلا ہیں، جن میں سے نصف سے زائد 10 سے 17 سال کی عمر کے وہ بچے ہیں جو خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں جہاں طویل اوقات، شدید موسم اور غیر محفوظ آلات ان کا مقدر بن چکے ہیں۔
سروے رپورٹ کے مطابق 1996 کے مقابلے میں صوبے میں چائلڈ لیبر کی مجموعی شرح میں تقریباً 50 فیصد کمی آئی ہے تاہم اب بھی کئی اضلاع میں صورت حال تشویشناک ہے جیسے قمبر شہداد کوٹ میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ 30.8 فیصد، تھرپارکر میں 29 فیصد، شکارپور میں 20.2 فیصد، اور ٹنڈو محمد خان میں 20.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ کراچی میں سب سے کم 2.38 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق محنت کش بچوں کی اسکول حاضری کی شرح صرف 40.6 فیصد ہے جبکہ وہ بچے جو چائلڈ لیبر کا شکار نہیں، ان کی حاضری 70.5 فیصد ہے اور جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر 14 سے 17 سال کی لڑکیوں میں جو اوسطاً ہفتے میں 13.9 گھنٹے گھریلو کاموں میں مشغول رہتی ہیں اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا ان کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل محکمہ محنت سندھ محمد علی شاہ نے بتایا کہ سروے رپورٹ حکومت سندھ کو پیش کر دی گئی، انہوں نے بتایا کہ چائلڈ لیبر غربت سے گہرا تعلق رکھتی ہے اور غریب گھرانوں میں سے 33.7 فیصد نے کم از کم ایک ایسا بچہ ہونے کی تصدیق کی جو کام پر جاتا ہے جبکہ 20.1 فیصد محنت کش بچوں میں ڈپریشن کی علامات پائی گئیں جو کہ غیر محنت کش بچوں کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہیں۔