سندھ بھر کے 500 یوٹیلیٹی اسٹورز ہمیشہ کے لیے بند، 1800 ملازمین متاثر

یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن پاکستان کے تحت سندھ بھر میں چلنے والے تمام کے تمام 500 یوٹیلیٹی اسٹورز مکمل طورپر بند کردیئے گئے.
سال 1971میں وزیر اعظم زوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں قائم ہونے والے یوٹیلیٹی اسٹورز 54 برس بعد وفاقی حکومت کی نجکاری پالیسی اور رائٹس سائز نگ کے تحت ختم کئے گئے.
اسٹورز بند کیے جانے کے بعد سندھ بھر میں 1800ملازمین کو جبری فارغ کردیاگیا۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت پر 31جولائی 2025 کوملک بھر سے تمام کے تمام یوٹیلیٹی اسٹورز مکمل طورپر بند کردیئے گئے.
عوام کو خریدوفروخت بند کرکے اسٹورز سے سامان ویئر ہاؤس منتقل اور وینڈر کو واپس کیاجائے گا۔
لاڑکانہ۔ سکھر، کراچی اور حیدرآباد ریجن میں چلنے والے تمام یوٹیلیٹی اسٹورز سمیت سندھ بھرکے 500 اسٹورز مکمل طورپر بند ہوگئے ‘1800سے ملازمین کو جبری فارغ ہوگئے ۔
اسٹوروں کی بندش سے سندھ سمیت پاکستان بھر کے 16 ہزار ملازمین متاثر ہوئے ہیں
وفاقی حکومت نے اخراجات میں کمی کیلئے ملک بھر میں 446 یوٹیلیٹی اسٹوروں کو پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا۔