کراچی میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا حکومت سندھ کا منصوبہ

صوبائی دارالحکومت کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے گنجان آباد شہر ہے، کئی برسوں سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔
روزانہ لاکھوں گیلن پانی کی ضرورت کے باوجود شہری علاقوں میں پینے کے صاف پانی تک رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی سطح بھی خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے، جس کی بڑی وجہ بارش کے پانی کا ضائع ہونا اور زمین میں جذب ہونے کا نظام نہ ہونا ہے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں چند ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جنہیں شہری ماہرین ایک مثبت شروعات قرار دے رہے ہیں۔
ان میں ایک اہم قدم بارش کے پانی کو محفوظ کرنا ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر کے مختلف مقامات پر بارش کے پانی کو زمین کے اندر محفوظ رکھنے کے لیے ٹینک تعمیر کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔
ان مقامات میں پولو گراؤنڈ، سندھ سیکریٹریٹ، برنس گارڈن اور بلدیہ عظمیٰ کا مرکزی دفتر شامل ہیں۔ان ٹینکوں میں محفوظ ہونے والا پانی بعد میں باغبانی، سڑکوں کی صفائی اور دیگر غیر پینے کے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے ایک طرف بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا رہا ہے، دوسری طرف نکاسی کے نظام پر بوجھ کم کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کی سڑکیں بارش کے بعد تالاب نہ بنیں۔
دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے بھی بعض ماہرین کی طرف سے تجاویز سامنے آئی ہیں۔
اسلام آباد میں اس مقصد کے لیے جو کنویں بنائے گئے ہیں، ان سے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ وہاں بارش کے پانی کو خاص کنوؤں کے ذریعے زمین میں داخل کیا جا رہا ہے تاکہ زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری آئے۔
اطلاعات کے مطابق نالہ لئی کے اطراف ان کنوؤں سے لاکھوں گیلن پانی زمین میں جذب کیا گیا، جس سے سیلابی کیفیت میں کمی آئی اور زمین میں پانی کی سطح بہتر ہوئی۔
اسی طرز کا نظام کراچی میں بھی متعارف کرانے کی سفارش کی جا رہی ہے۔ پانی کے امور پر تحقیق کرنے والے اداروں کے مطابق، اگر کراچی میں بھی زمین کی ساخت اور پانی کے بہاؤ کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے تو یہی ماڈل شہر میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔
کراچی کو روزانہ تقریباً بارہ سو ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، مگر دستیاب مقدار پانچ سو سے چھ سو ملین گیلن کے درمیان ہے۔ اس کمی کو مہنگے داموں پانی بیچنے والے ٹینکر مافیا نے سنبھالا ہوا ہے، جو شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرتا ہے۔ دوسری جانب شہر کے مضافاتی علاقوں میں زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے جس کے باعث ہر سال پانی کی سطح دو سے تین میٹر نیچے جا رہی ہے۔
شہر کے ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زمین میں دوبارہ پہنچانے کے منصوبے اگر سنجیدگی سے جاری رکھے جائیں تو کراچی جیسے شہر میں پانی کا بحران قابلِ قابو ہو سکتا ہے۔ لیکن ان اقدامات کی کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب ان میں شفافیت، طویل المدتی حکمت عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔
اگر یہ منصوبے صرف اخباری اعلانات یا افتتاحی تقاریب تک محدود رہے تو کراچی کے شہریوں کے مسائل جوں کے توں رہیں گے، اور پانی جیسی بنیادی سہولت ایک خواب بنتی جائے گی۔