مضر صحت کھانوں کی تشہیر کے لیے فوڈ ولاگنگ صحت کے مسائل بڑھانے کا سبب

سندھ سمیت پاکستان بھر میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں کئی مثبت مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں فوڈ ولاگرز کے ایک نئے رجحان نے معاشرے اور صحت دونوں پر خطرناک اثرات ڈالے ہیں۔
یہ ولاگرز اپنے کیمروں اور رنگین جملوں کے ذریعے ایسی وڈیوز بناتے ہیں جن میں زیادہ تر غیر معیاری، غیر صحت مند اور مضرِ صحت کھانوں کی تشہیر کی جاتی ہے۔
ان کا مقصد بظاہر کھانوں کی ثقافت کو اُجاگر کرنا دکھایا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ذاتی شہرت اور مالی فائدے کے لیے ایسے کھانوں کو فروغ دیتے ہیں جو عوام کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق، فاسٹ فوڈ اور زیادہ چکنائی والے تلے ہوئے کھانے موٹاپے، شوگر، بلند فشارِ خون اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ایک تحقیق کے مطابق شہری علاقوں میں 38 فیصد بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ غیر صحت مند کھانوں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
صوبائی سطح پر فوڈ سیفٹی حکام کی کارروائیوں میں بارہا ایسے کیس سامنے آئے ہیں جہاں غیر معیاری تیل، ایکسپائر مصالحہ جات اور مصنوعی ذائقہ بڑھانے والے کیمیکلز کا استعمال پایا گیا، مگر یہ تمام حقائق ولاگرز کی وڈیوز میں کہیں نظر نہیں آتے۔ بلکہ وہ ریستوران مالکان کے ساتھ مالی معاہدے کر کے صرف کھانوں کی رنگینی اور ذائقے کو اجاگر کرتے ہیں، معیار اور صحت کے پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان صرف صحت تک محدود نقصان نہیں پہنچا رہا بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
نوجوان نسل اب گھر کے صاف ستھرے کھانوں کی بجائے باہر کے چٹ پٹے اور مصالحہ دار کھانوں کو ترجیح دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر فالوورز اور لائکس کے حصول کی دوڑ نے کھانے کے رجحانات کو ایک خطرناک مقابلے میں بدل دیا ہے، جہاں ذائقے اور نمائش معیار اور صفائی پر حاوی ہو گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں روایتی اور صحت مند کھانوں کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، اور یہ تبدیلی معاشرتی توازن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس رجحان کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ مضر صحت کھانوں کو "ٹیسٹی” یا "ضرور آزمانے والے” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس سے بچے اور نوجوان ان کے عادی ہو جاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں بچوں میں موٹاپے کی شرح پچھلے دس سال میں دوگنی ہو چکی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں فاسٹ فوڈ کلچر کا بڑا ہاتھ ہے۔
یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فوڈ ولاگرز کے موجودہ اندازِ کار کو نظر انداز کرنا عوامی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹیز اور متعلقہ ادارے ایسے مواد پر ضابطہ سازی کریں، تاکہ سماجی میڈیا پر صرف وہی کھانے اور مراکز فروغ پائیں جو معیار اور صحت کے اصولوں پر پورا اُترتے ہوں۔ اس کے ساتھ ہی عوام کو بھی اس بات کا شعور دیا جانا چاہیے کہ کھانے کا انتخاب صرف ذائقے نہیں بلکہ صحت کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کرنا ضروری ہے۔