کراچی میں ماں نے دو بچوں کو ذبح کرکے قتل کردیا

IMG-20250814-WA0002

صوبائی دارالحکومت کراچی کے پوش علاقے ڈیفینس میں سنگدل ماں نے اپنے دو کم سن بچوں کو ذبح کرکے قتل کردیا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔

کراچی ڈیویژن کے ضلع جنوبی کی پولیس کے مطابق درخشان تھانے کےعلاقے ڈیفنس فیز 6 خیابان مجاہد اسٹریٹ نمبر 10 میں واقع بنگلے سے 2 کمسن بچوں کی گلا کٹی لاشیں ملیں۔

قتل ہونے والوں میں ایک بچہ اور بچی شامل ہیں جبکہ ماں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، بچوں کی عمریں 4 سے 7 سال کے درمیان ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول بچوں میں 7 سالہ ضرار اور 4 سالہ سنیعہ شامل ہیں، مقتول بچوں کے والد پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہیں، گزشتہ رات بچے والدہ کے پاس رہنے کیلئے آئے تھے، والدہ نے دوپہر کے وقت دونوں بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا۔

پولیس نے بتایا کہ دونوں بچوں کوان کی سگی ماں ادیبہ نے گردن پرتیز دھارآلہ کے وارکرکے قتل کیا ہے، پولیس نے خاتون کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کردیا گیا۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق حراست میں لی جانے والی خاتون ادیبہ کی 9 سال قبل غفران سے شادی ہوئی تھی، خاتون کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اورخاتون کو دورے پڑا کرتے ہیں، اسی وجہ سے گزشتہ سال ستمبرمیں خاتون ادیبہ کو ان کے شوہرغفران نے طلاق دے دی تھی اورعدالت نے بچوں کی حوالگی والد غفران کے سپرد کردی تھی۔

والد غفران اکثر اپنے بچوں کوان کی والدہ ادیبہ سے ملوانے کے لیے بھیجا کرتا تھا اورگزشتہ روز بھی والد نے بچوں کو والدہ ملنے کے لیے بھجوایا تھا۔

بچے والدہ کے ساتھ تھے اسی دوران کسی وقت بچوں کی والدہ کو دورے پڑے اوروالدہ ذہنی توازن کھوکر دونوں بچوں کو گھر کے واش روم میں لے گئی جہاں خاتون نے دونوں بچوں کو چھری کی مدد سے ذبح کردیا۔

خاتون کی ستمبر 2024 میں طلاق ہوئی تھی، بچے ہفتے میں ایک یا دو بار والدہ سے ملنے آتے تھے۔

ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ غفران اور ادیبہ کی 2012 میں کراچی میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے شادی کر لی۔

ادیبہ چار بہن بھائیوں میں سے ایک تھی جبکہ ان کے والدین علیحدہ ہو چکے تھے، اس کے والد بیرون ملک رہتے ہیں اور اس کی والدہ نے کسی اور شخص سے شادی کی تھی لیکن بعد میں علیحدگی ہو گئی تھی۔

ملزم خاتون نے کراچی میں ایک ادارے میں گریجویشن کے لیے داخلہ لیا تھا جو برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے منسلک تھا لیکن وہ اپنی گریجویشن مکمل نہیں کر سکی تھی۔ وہ کبھی کبھار کراچی میں چھوٹی موٹی نوکریاں کرتی تھی لیکن اس کی کوئی باقاعدہ ملازمت نہیں تھی۔

پولیس کے مطابق ملزمہ کے سابق شوہر غفران خالد، جو ڈی ایچ اے میں خیابانِ راحت پر رہتے ہیں، نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی سابقہ اہلیہ کو مالی امداد فراہم کر رہے تھے۔